دہشتگردی کی آڑ میں مدارس اور علماء کی توہین برداشت نہیں کی جائیگی ،سراج الحق

دہشتگردی کی آڑ میں مدارس اور علماء کی توہین برداشت نہیں کی جائیگی ،سراج الحق

شیرگڑھ (نامہ نگار ) جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی امیر سراج الحق نے کہا ہے کہ دہشت گرد گر چہ پورے پاکستان کے دشمن ہیں مگر دہشت گردی کے خلاف کاروائی کے آڑمیں دینی مدارس اور علماء کی توہین اور بے عزتی کی اجازت نہیں دی جائی گی سانحہ پشاور کو دینی قوتوں کو زیر کرنے کے لئے ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش قابل مذمت ہے پاکستان میں دہشت گردی کو درآمد اور برآمد کرنے والا سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف ہے دہشت گردی اور جملہ مسائل کے حل اور خاتمے کے لئے ملک میں اسلامی نظام کا نفاذ ناگزیر ہے نیٹو افواج کے افغانستان سے واپسی پوری افغان قوم کی جیت ہے 2014 افغان مجاہدین کی جیت کا سال اور پاکستان کے لئے شہادتوں کا سال ثابت ہوا جنگلی بھیڑیوں سے ایوانوں میں بیٹھے بھیڑئیے قوم کے لئے زیادہ خطرناک اور خونخوار ہے وہ گزشتہ روز جیوڑ ہاتھیان میں ایک بڑے شمولیتی جلسہ عام سے خطاب کررہے تھے جلسہ سے جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے صوبائی امیر پروفیسر محمد ابراہیم خان ، ضلع مردان کے امیر ڈاکٹر مولانا عطاء الرحمان ، نائب امیر مولانا سلطان محمد ، ضلعی جنرل سیکرٹری غلام رسول ، مولانا عبدالبر اور انقلابی شاعر حسین احمد صادق نے بھی خطاب کیااس موقع پر محمد بشیر ، عمر ریاض ، عمران اللہ ، سید رسان ، غفور خان ، بہرام شاہ ، اکرام اللہ ، محمد ریاض ، سردار خان ، علی اکبر اور درجنوں افراد نے خاندان سمیت جماعت اسلامی میں باقاعدہ شمولیت اختیار کی اس موقع پر سابق ایم پی اے میاں نادر شاہ ، سابق ضلعی نائب ناظم ابراہیم بلند ، ضلعی زکواۃ چیرمین عظیم الدین ، شباب ملی کے ضلعی جنرل سیکرٹری محمد یوسف بھی موجود تھے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی لانے کا اصل ذمہ دار جنرل پرویز مشرف ہے 67 سالوں کے دوران سیاسی قائدین اور فوجی ڈکٹیٹروں نے قوم کو دہشت گردی ، بدامنی اور مسائل کے سوا کچھ نہیں دیا دہشت گردی اگر چہ پوری قوم کا مسئلہ ہے لیکن دہشت گردی کو بہانہ بناکر اس آڑ میں دینی مدارس اور علماء کی توہین ناقابل برداشت ہے اگرکوئی ہاتھ مسجد،دینی مدرسہ اور علماء کی پگڑیوں کی طرف بڑھا تو اس ہاتھ کو توڑ دیا جائے گا انہوں نے کہا کہ سانحہ پشاور کے واقعہ نے پوری قوم کو خون کے آنسوؤں رلادیا اس لئے بلا تاخیر سانحہ پشاور کی تحقیقات کرکے قوم کے سامنے لایا جائے کہ آرمی پبلک سکول پر حملہ کس نے کس مقصد کے لئے کیا انہوں نے کہا کہ اسلام کے نام پر بننے والے ملک پر 67سالوں سے جو کالی بھیڑئیے قابض ہیں یہ ملک وقوم کے لئے سب سے بڑی تباہی ہے ایوانوں پر قابض بھیڑیوں نے غریب عوام کا پیسہ بٹور کر باہر منتقل کیا جبکہ قوم بھوک افلاس ، بجلی ، گیس لوڈ شیڈنگ ، مہنگائی ،بے روزگاری اور بدامنی جیسے گھمبیر مسائل میں پھنسی ہوئی ہے ملک کا غریب غریب تر ہوتا جارہا ہے کسی غریب کے لئے ایک دن کا جینا بھی محال ہے جبکہ سیاست دانوں کے بینک بیلنس ، مربوں ، گاڑیوں اور حویلیوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ فوجی عدالتوں کے قیام سے دہشت گردی پر قابو پانا خام خیالی ہوگی بدامنی اور دہشت گردی پر قابو پانے کے لئے عدالت اور عدالتی نظام کو جو بھی نام دیا جائے ان کا کردار وہی پرانا ہی رہے گا پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے ہمارے مسائل کا حل صرف اور صرف اسلام کے نظام کے نفاذ میں مضمر ہے 25دسمبر سے مزار قائد سے شروع ہونے والی تحریک اسلامی پاکستان و خوشحال پاکستان کو موخر کردیا گیا اسلامی پاکستان اور خوشحال پاکستان کے لئے لاہور کے مقام پر جو عوامی ایجنڈہ دیا ہے اس کی بنیاد ملک میں اسلام کا نفاذ ہے اگر عوام نے جماعت اسلامی پر اعتماد کیا تو عوامی ایجنڈہ کے مطابق 30ہزار روپے سے کم آمدنی والے خاندانوں کو پانچ خوراکی اشیاء آٹا ، گھی ، دال ، چائے اور چینی پر سبسڈی دی جائی گی پانچ بیماریوں دل ، گردہ ، کینسر ، یرقان اور پولیوکا علاج مفت فراہم کیا جائے گا سرکاری ملازمین کی طرح علماء کرام کو باعزت زندگی گزارنے کے لئے تنخواہ دی جائی گی انہوں نے کہا کہ قوم کے مسائل نئے اور پرانے پاکستان کے قیام سے حل نہیں ہوسکتے ہیں بلکہ اس قوم کے مسائل کا حل اسلامی پاکستان اور خوشحال پاکستان کے قیام سے ممکن ہے انہوں نے کہا جماعت اسلامی قومی مسائل کے حل کی بھر پور صلاحیت اور متبادل قیادت فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے قوم جماعت اسلامی کے قدم میں قدم ملائیں اور اپنے مسائل کے حل کے لئے جماعت اسلامی کو موقع دیں

مزید : صفحہ اول


loading...