خود کشی سے قبل 16سالہ لڑکی کا فیس بک پر دلخراش پیغام

خود کشی سے قبل 16سالہ لڑکی کا فیس بک پر دلخراش پیغام
خود کشی سے قبل 16سالہ لڑکی کا فیس بک پر دلخراش پیغام

  


آک لینڈ (نیوز ڈیسک) سکول میں اکثر نوعمر طلباءطالبات اپنے شریر اور بے حس ساتھیوں کے ہاتھوں تکلیف اور پریشانی کا شکار ہوتے ہیں اور بعض صورتوں میں یہ مسئلہ اتنا شدید ہو سکتا ہے کہ کسی طالب علم کی جان بھی لے سکتا ہے۔ نیوزی لینڈ میں ایسٹ ہنڈرس ہائی سکول کی 16 سالہ طالبہ بھی اسی ظلم کا نشانہ بن گئیں اور خودکشی سے پہلے اس طالبہ نے فیس بک پر جو پوسٹ بھیجی وہ انتہائی دردناک ہے۔

انوکھا واقعہ ، شوہر نے بیوی کو گولی مار کر اس کی جان بچا لی جاننے کیلئے کلک کریں

ایمبر کارنویل نامی طالبہ کی والدہ نے بتایا کہ ان کی بیٹی بچپن سے ہی اپنی کلاس فیلوز کی شرارتوں اور بدتمیزی کا نشانہ رہی تھی، وہ اکثر گھر بھی روتے ہوئے آتی اور اپنی ہم جماعتوں کے ظالمانہ رویے کی شکایت کرتی۔ اگرچہ اس مسئلہ کو حل کرنے کی بہت کوشش کی گئی لیکن افسوس کہ طالب علموں میں یہ منفی رویہ اس قدر سرایت کر چکا ہے کہ ایمبر کی زندگی آسان نہ ہو سکی اور اسے ہمیشہ تنگ کیا جاتا رہا۔ اپنے ہی ساتھیوں کی بے حسی کا شکار ہونے والی ایمبر نے 20 دسمبر کی شب فیس بک پر لکھا، ”اگر آج رات میں مر جاﺅں تو کیا کوئی روئے گا؟“ اور پھر صبح اس کے کمرے میں لٹکی ہوئی اس کی لاش ملی۔ مظلوم لڑکی نے خودکشی کر کے اپنے غموں سے نجات پا لی تھی۔ ایمبر کی والدہ کا اس اندوہناک سانحے پر کہنا تھا کہ وہ اپنی بیٹی سے کہنا چاہتی ہیں کہ وہ اس کے لئے رو رہی ہیں اور ساری زندگی روتی رہیں گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کی بیٹی تو کبھی واپس نہیں آئے گی لیکن ان کی دردناک اپیل ہے کہ والدین، اساتذہ اور معاشرہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی اور بچہ اپنے ساتھیوں کی نفرت، ظلم اور ذہنی و جسمانی تشدد کا نشانہ بن کر خودکشی نہ کرے۔

مزید : انسانی حقوق


loading...