لندن: گھریلو تشدد روکنے کیلئے حکومت کا نیا قانون متعارف

لندن: گھریلو تشدد روکنے کیلئے حکومت کا نیا قانون متعارف

لندن (بیورورپورٹ) برطانیہ میں بڑھتے ہوئے گھریلو تشدد اور تشدد کی وجہ سے اموات کی تعداد میں اضافے کی روک تھام کے لیے حکومت نے نیا قانون متعارف کرا دیا گیا جس میں گھریلو تشدد کی صورت میں 5 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے ایک رپورٹ کے مطابق یہ نیا قانون اپنے ساتھی کے ظلم سے بچانے کے لیے ایک اہم قدم ہے برطانیہ کے نئے قانون میں جسمانی تشدد میں ہی نہیں بلکہ گالی گلوچ کی صورت میں بھی سزا کے حقدار ہوں گے اس قانون کے نفاذ کی ضرورت تب پیش آئی جب برطانیہ میں 8 خواتین گھریلو تشدد کی وجہ سے موت کے گھاٹ اتر گئی 60 سالہ گھریلو تشدد سے متاثرہ خاتون شرین نے اس قانون میں رد و بدل کے لیے انتھک کوششیں کی جو آخر کار کامیاب ہو گئی شرین نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ ہفتے اس نے خبر سنی کہ دو خواتین گھریلو تشدد کے نتیجے میں ہلاک ہو گئی گھریلو تشدد میں ہلاکتوں کی تعداد نا قابل یقین ہوتی جا رہی ہے جب کہ لڑائی جھگڑے سے تنگ آ کر بہت سی خواتین اور مرد خود کشی کر لیتے ہیں میڈیا کی ایک اور رپورٹ کے مطابق جمیل کو اس کا شوہر شادی کے بعد سے جسمانی تشدد کا نشانہ بناتا رہا اس نے میڈیا کو بتایا کہ شادی کے بعد اس کا شوہر اس پر پابندیاں لگاتا تھا، اسے تنہا چھوڑ جاتا حتی کہ اسے دوست بنانے کی بھی اجازت نہیں ہوتی تھی اس کا کہنا تھا کہ 6 سال اپنے شوہر کے ظلم سہنے کے بعد اس نے اپنے شوہر چھوڑ دیا برطانیہ کے اس نئے قانون کے نفاذ کے امکانات رواں برس ممکن ہے تا ہم ابھی اس قانون کے بارے میں پولیس اور کو ان پروسٹیکیشن سروسز کو ہدایات کی ضرورت ہے۔

مزید : عالمی منظر


loading...