شہادت کی خوشبو

شہادت کی خوشبو
 شہادت کی خوشبو

  

دنیا میں ایسے بہت سے لوگ ہوتے ہیں جو اپنی مدتِ حیات پوری کرکے فانی ہوجاتے ہیں، مگر کچھ لوگ دل پر ایسے نقش چھوڑ جاتے ہیں جنہیں بھُولنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہوتا ہے۔ایسے نقوش اُنہی لوگوں کے ہوتے ہیں جو اپنی زندگی عوام پر نچھاور کرکے ان کے دلوں پر راج کرتے ہیں۔اُنہی محدود چند ہستیوں میں پاکستان کی مشہور زمانہ بھٹو فیملی کی ایک بہادر اور نڈر بیٹی محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کا نام نمایاں ہے۔ جن کے خاندان کے اکثر افراد کو اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلنے اور ملک و قوم کی خدمت کی خاطر عوامی رہنمائی سے روکنے کے لئے مختلف طریقوں سے موت کی نیند سُلادیاگیا۔محترمہ بے نظیر بھٹو شہید مسلم دنیا کی اولین خاتون تھیں جو اسلامی جمہوریہ پاکستان کی وزیر اعظم منتخب ہوئیں۔شہید محترمہ بے نظیر بھٹو ایک ایسے چمکتے دمکتے چاند کی مانند تھیں جو اندھیرے میں روشنی فراہم کرتا ہے۔ ایسے ہی محترمہ بے نظیر بھٹو شہید بھوک و افلاس اور دہشت گردی کے جھرمٹ میں گھرے عوام کے لئے آشتی اور اُمید کا وہ روشن مینار تھیں جس کا مقصدِ زندگی ہی لوگوں کی زندگیوں کو خوشیوں اور راحتوں سے بھرنا تھا۔آج بھی بی بی کے جیالے ان کی ملک و قوم کے لئے کی گئی کاوشوں اور خدمات کی وجہ سے ان کے نام پر اپنی جان قربان کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں۔

محترمہ بے نظیر بھٹوشہید ایسی عظیم خاتون تھیں جنہوں نے عوام الناس کی خوشیوں کو ترجیح دیتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے اپنے معصوم بچوں کو تو مسکین کردیا،لیکن ملک و قوم کے غریب عوام کی خدمت سے منہ نہ موڑا۔ایسی عظیم شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں جو غریب عوام کے لئے جیتی اور مرتی ہیں، ورنہ زمانے میں لالچ وحرِص، خواہ عوام میں ہو یا حکمرانوں میں،انسان کو بُرائیوں کی دلدل میں پہنچا کر صرف انفرادیت کے احساس میں ڈال دیتی ہے جس سے انسان میں صرف’’مَیں‘‘کا عنصر غالب ہوجا تا ہے۔

یہ قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی اعلیٰ تربیت کاہی اثر تھا کہ محترمہ شہید عوام کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے ہمیشہ کے لئے زندہ جاوید ہوگئیں۔بے نظیر بھٹو شہید کی ملک و قوم کے لئے خدمات اگر بیان کرنا چاہوں تو کئی جلدیں تحریر ہوجائیں کیونکہ اُن کی زندگی ایک ایسی کھلی کتاب کی مانند ہے جسے پڑھنا اور سمجھنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔محترمہ بے نظیر بھٹو شہادت کی خوشبو پاکر اس دنیا سے تو رخصت ہوگئیں،لیکن جو چہرے اُن کو دیکھ کر کھلتے تھے وہ ہمیشہ کے لئے مرجھا گئے جو آنکھیں ان کو دیکھ کر چمکتی تھیں وہ ہمیشہ کے لئے بُجھ گئیں۔

بچھڑی اس انداز سے ہر طرف سناٹا کر گئیں

لیڈر ایسی تھی زمانہ بے سہارا کر گئیں:

مزید :

کالم -