اکاؤنٹ آفس حافظ آباد میں لاکھوں روپے کی خوردبردکا انکشاف

اکاؤنٹ آفس حافظ آباد میں لاکھوں روپے کی خوردبردکا انکشاف

لاہور(شہباز اکمل جندران)اکاؤنٹ آفس حافظ آباد میں لاکھوں روپے کی خوردبردکا انکشاف ہوا ہے۔افسروں نے مبینہ طورپر مافیا کی ملی بھگت سے اشٹام بیچنے کے بعد رقم قومی خزانے میں جمع کروانے کی بجائے جیبوں میں ڈال لی۔ صورتحال سامنے آنے پروزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ اور اینٹی کرپشن ہیڈ آفس اور اینٹی کرپشن گوجرانوالہ نے معاملے کی الگ الگ انکوائر شروع کردی ہے۔ باوثوق ذرائع سے معلوم ہواہے کہ ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ آفس حافظ آباد میں اشٹام پیپروں کی فروخت کی مد میں مبینہ طورپر لاکھوں روپے کی خوردبرد کی گئی ہے۔جبکہ خزانہ ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ افسر ، ہیڈ خزانچی اور اسسٹنٹ خزانچی ایکدوسرے پر الزام تراشی کرتے نظر آتے ہیں۔ذرائع کے مطابق اکاؤنٹ آفس میں لاکھوں روپے کے اشٹام پیپر بیچنے کے بعد رقم بینک یا قومی خزانے میں جمع ہی نہیں کروائی گئی بلکہ جیبوں میں ڈال لی گئی اور کرپشن کے اس عمل میں مبینہ طورپر اکاؤنٹ آفس کے مذکورہ ملازمین کے علاوہ اشٹام فروش مافیا شامل ہے۔بتایا گیا ہے کہ ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ افسرحافظ آباد محمد امجد کی طرف سے واقعے کی نشاندہی کرنے پر ڈی سی او حافظ آباد نے ایگزیکٹو ڈسٹرکٹ افسر فنانس فخرالاسلام کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیٹی کو چھان بین کی ہدایات جاری کیں اور ابتدائی رپورٹ کی روشنی میں خورد برد سامنے آنے پر ذمے داروں کے خلاف باضابطہ انکوائری اور مزید کارروائی کے لیے اینٹی کرپشن و دیگر حکام کو خطوط لکھ دیئے ہیں۔جس پر اینٹی کرپشن حافظ آباد( گوجرانوالہ ) اور اینٹی کرپشن ہیڈ آفس نے معاملے کی الگ الگ انکوائری شروع کردی ہے۔ذرائع نے بتایا ہے کہ ابتدائی طورپر خورد برد کا تمام تر ذمے داری اسسٹنٹ خزانچی عباس احمد پر ڈالی گئی ہے۔دوسری طرف علم میں آیا ہے کہ اسسٹنٹ خزانچی عباس احمد کی درخواست پر وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ کی طرف سے معاملے کی الگ سے انکوائری شروع کردی گئی ہے۔عباس احمد کی طرف سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس کا ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ افسر محمد امجدروزانہ حافظ آباد سے لاہور واپس چلاجاتا تھا۔ اور نہ صرف خود ز بردستی رشوت وصول کرتا تھا۔ بلکہ یہ حکم بھی دیتا تھا کہ اس کے ڈرائیوار کو بھی روزانہ کی بنیادپر خرچہ دیا جائے۔محمد امجد نے رشوت کی طلبی کو جب وطیرہ بنا لیاتو عباس احمد نے انکار کردیا ۔جس پر محمد امجد سیخ پا ہوگیا اور اس نے کسی تحریری وصولی کے بغیر ہی یکم نومبر2015کو انسپکشن کے بہانے عباس احمد کے زیر قبضہ خزانہ رجسٹر ، بینک چالان اور دیگر ریکارڈ زبردستی قبضے میں لے لیا اور بار بار تقاضے کے باوجود یہ ریکار واپس نہ کیا۔اس سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ آفس حافظ آباد کے ڈپٹی اکاؤنٹنٹ (اسسٹنٹ خزانچی)عباس احمد کا کہنا ہے کہ اس کی ملازمت کو ابھی تین سال ہوئے ہیں۔اس نے کسی قسم کی کرپشن نہیں کی۔ڈی او محمد امجد اس سے ماہانہ بنیادوں پر رشوت مانگتا تھا۔اور انکار پر اس نے تمام ریکارڈ اپنے قبضے میں لے لیا۔اور اسے نہیں معلوم کے ریکارڈ میں کیا ردوبدل کیا گیا ہے۔کس طرح اعدادوشمار میں ہیر اپھیر ی کی گئی ہے۔لیکن تمام تر ذمے داری اس پر ڈالی جارہی ہے۔ حالانکہ اصل اختیارات اور کام ہیڈ خزانچی امداد علی چیمہ اور ڈی او محمد امجدکا ہے۔وہ تو محض ایک معاون کی حیثیت سے فرائض انجام دیتا ہے۔اگر کہیں خوردبرد ہوئی ہے تو اس میں اشٹام فروش مافیا اور دفتر کے افسر ملوث ہیں۔ وہ بے گناہ ہے۔عباس احمد کے الزامات کے جواب میں ہیڈ خزانچی امداد علی چیمہ سے رابطہ کیا گیا تو اس کا کہناتھا کہ فراڈ وغیرہ کچھ نہیں ہوا۔ حاں البتہ اینٹی کرپشن کو معاملے کی چھان بین کے لیے لکھا گیا ہے۔ابھی تک صورتحال واضح نہیں ہوسکی۔البتہ ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ افسر حافظ آباد محمد امجد کا کہناتھا کہ عباس احمد کی طرف سے لگائے جانے والے رشوت کے تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔وہ حافظ آباد تعینات ہوئے اور بینک سکرول چیک کیا تو گڑبڑ کا شعبہ ہوا۔جس پر ڈی سی او کو آگاہ کیا اور ڈی سی او نے ای ڈی او فنانس کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیٹی کو انکوائری کو حکم دیا اور انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں کارروائی کے لیے اینٹی کرپشن اور دیگر اداروں کو لکھا ہے۔جس کے جواب میں اینٹی کرپشن ہیڈ آفس لاہور میں انہیں اور دیگر ملازمین کو طلب کیا گیا ہے۔محمد امجد کا کہناتھا کہ انہیں عباس احمد سے کسی قسم کی پرخاش نہیں ہے۔ اور نہ ہی وہ کسی ملازم سے رشوت لیتے ہیں۔ بلکہ انہوں نے خورد برد کی نشاندہی کی ہے۔

مزید : صفحہ آخر


loading...