گیس بحران پر قابو نہیں پایا جا سکا ، گھریلو سیکٹر میں روز بروز شدت آنے لگی

گیس بحران پر قابو نہیں پایا جا سکا ، گھریلو سیکٹر میں روز بروز شدت آنے لگی

لاہور(اپنے نامہ نگار سے) حکومتی کوششوں اور گیس حکام کی تمام تر کارروائیوں کے باوجود گیس بحران پر قابو نہیں پایا جا سکا ہے اور سی این جی سیکٹر سمیت صنعتوں اور پاور سیکٹر کو گیس کی فراہمی معطل کرنے پر بھی گھریلو سیکٹر گیس کے بحران سے دوچار ہے اور روز بروز اس میں شدت آنے لگی ہے، لاہور میں گزشتہ روز بھی صارفین گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہونے پر سراپا احتجاج بنے رہے۔ صنعتی سیکٹر پاور سیکٹر سمیت سی این جی سیکٹر کی گیس کو معطل کرنے سے بھی گھریلو سیکٹر کی ڈیمانڈ کو پورا کرنا مشکل مسئلہ بن کر رہ گیا ہے اور حکومتی کوششیں اور حکام کے تمام تر حربے بھی ناکام ہو کر رہ گئے ہیں ۔دوسری جانب سی این جی سیکٹر کو گیس کی فراہمی معطل کر کے ایل این جی کی سپلائی کو بھی مکمل طور پر بحال نہیں کیا جا سکا ہے، جس کے باعث پنجاب بھر میں سی این جی اسٹیشنوں پر ھو کا عالم ہے اور سی این جی سیکٹر میں کاروباری زندگی معطل ہو کر رہ گئی ہے جبکہ سی این جی سیکٹر میں ہونے والی اربوں روپے کی سرمایہ کاری بھی رک کر رہ گئی ہے، اس حوالے سے سی این جی ایسوسی ایشن کے مرکزی راہنما کیپٹن (ر) شجاع انور نے ’’پاکستان‘‘ کو بتایا کہ حکومت اور گیس حکام نے گیس کی جگہ ایل این جی کی فراہمی کا معاہدہ کیا، ایک سے دو مرتبہ ایل این جی درآمدکی گئی جبکہ اب کئی دنوں سے ایل این جی بھی درآمد نہیں کی گئی ہے، اس کے مقابلہ میں صنعتی سیکٹر کو ایل این جی کی فراہمی شروع کی گئی ہے ، حکومتی اداروں اور گیس حکام کی عدم دلچسپی کے باعث سی این جی سیکٹر تباہ ہو کر رہ گیا ہے، پنجاب میں 3200سے زائد سی این جی اسٹیشنوں میں سے سال 2014ء میں چار سو سی این جی اسٹیشن بند ہو گئے ، جبکہ سال 2015ء میں 900سے زائد سی این جی اسٹیشن بند ہو چکے ہیں، وزیر اعظم کو نوٹس لینا چاہئے تاکہ اس اہم ترین سیکٹر کو تباہ ہونے سے بچایا جا سکے ، جبکہ اس حوالے سے گیس کمپنی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ایل این جی کی درآمد میں بعض مشکلات کا سامنا ہے، انشاء اللہ جلد ایل این جی کی فراہمی شروع کر دی جائے گی۔

مزید : صفحہ آخر


loading...