3سال میں ونی، سوارہ اور زبردستی کی شادی کے سینکڑوں واقعات، قانون نافذ کرنیوالے ادارے جبری شادیاں روکنے میں ناکام

3سال میں ونی، سوارہ اور زبردستی کی شادی کے سینکڑوں واقعات، قانون نافذ ...

لاہور(شہباز اکمل جندران)پنجاب میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے جبری شادیوں کو روکنے میں ناکام ہوگئے۔گزشتہ تین برسوں کے دوران صوبے میں ونی ، سوارہ اور کمسنی کی زبردستی شادی کروانے کے سو سے زائد واقعات پیش آئے۔البتہ پولیس نے صرف 28واقعات میں مقدمات درج کئے۔معلوم ہواہے کہ پنجاب ، سندھ، کے پی کے اور بلوچستان میں ایک طرف خواتین کو آج بھی حقوق کی پامالی کا سامنا ہے۔ملک کی 51آبادی پر مشتمل خواتین کو آج بھی کاروکاری، ونی ، سوارہ ، غیرت کے نام پر قتل ، قرآن سے شادی ، جبری مشقت ، زبردستی کی شادی، بدکاری کی نیت سے خرید وفروخت ، اجتماعی بدکاری، سرکاری و غیر سرکاری اداروں ، عوامی مقامات ،اور پبلک ٹرانسپورٹ میں امتیازی سلوک اور چہرے پر تیزاب پھینکنے جیسے واقعات کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے۔اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ قیام پاکستان کے 68برس اور 15سے زائد حکومتیں،ان کے 12صدر اور 18باقاعدہ وزرااعظم ملک میں عورت کو اس کا اصل مقام دلانے میں ناکام رہے ہیں۔ذرائع نے بتایا ہے کہ پنجاب میں گزشتہ تین برسوں کے دوران جبری شادی کے ایک سو سے زائد واقعات پیش آئے۔ البتہ ان میں سے صرف 28واقعات کے مقدمات درج کئے گئے ہیں۔جن میں 85افراد کو گرفتار بھی کیا گیا۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ذمے داروں کو سزانہیں ہوسکی۔ بلکہ ان کی اکثریت ضمانت پر رہا ہوچکی ہے۔ایک غیر ملکی رپورٹ کے مطابق پاکستان کو خواتین کے حوالے سے افغانستان اور کانگو کے بعد دنیا کا تیسرا خطرناک ترین ملک قرار دیا گیا ہے۔ جبکہ بھارت چوتھا اور صومالیہ پانچواں بدترین ملک بیان کیا گیا ہے۔معلوم ہواہے کہ پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل کو قتل عمد کے طورلیتے ہوئے اس کے خلاف 2004میں قانون سازی کی گئی۔پھر خواتین کو جنسی حراساں کئے جانے کے خلاف 2010میں قانون بنایا گیا۔2010میں خواتین پر تیزاب پھینکنے اور تیزاب سے متعلق جرائم کے خاتمہ کا قانون بنایا گیا۔اسی سال ورکنگ وویمن کو حراساں کئے جانے کے خلاف قانون سازی کی گئی۔2006میں خواتین کے تحفظ کا قانون بنایا گیا۔2002میں عائلی قوانین میں ترمیم کی گئی۔2001میں پاکستانی شہریت ایکٹ،1984میں قانون شہادت ، 1979میں حدود آرڈیننس، 1976میں جہیز کی ممانعت کا قانون بنایا گیا۔ اسی طرح 1964میں مغربی پاکستان کا عائلی عدالتی قانون بنایا گیا۔اس سے قبل961میں ایوب دور میں مشہور زمانہ مسلم عائلی قانون بنایا گیا۔جبکہ قیام پاکستان سے قبل بنائے جانے والے قوانین میں 1939کا تنسیخ نکاح کا قانون، 1929کا نابالغوں کی شادی کی ممانعت کا قانون 1903کا غیر ملکیوں سے شادی کا قانون اور 1860کا سرپرست و نابالغوں کی حفاظت کا قانون ، پاکستان میں خواتین کو غیر ت کے نام پر قتل، کاروکاری، ونی ، سوارہ ، قرآن سے شادی،جنسی اور گھریلو تشدد، جائیداداور وراثت سے بیدخلی اور تیزاب پھینکنے جیسے جرائم سے تحفظ فراہم کرنے کی سعی تو کرتے ہیں۔ لیکن قانون نافذ کرنے والے ادارے اور ملکی کلچر ، ا ن قوانین پر ٹھیک طرح سے عمل درآمد میں رکاوٹ بنے بیٹھے ہیں۔

مزید : صفحہ آخر


loading...