عید میلاد النبیؐ، کرسمس، یوم قائد اعظم، وزیر اعظم کی سالگرہ نواسی کی شادی اور بھارتی وزیر اعظم کی آمد

عید میلاد النبیؐ، کرسمس، یوم قائد اعظم، وزیر اعظم کی سالگرہ نواسی کی شادی ...

سیاسی ایڈیشن228 لاہور کی ڈائری:

لاہور سے چودھری خادم حسین:

ہفتہ رفتہ ایک ریکارڈ کی حیثیت اختیار کر گیا اس میں عید میلاد النبیؐ کرسمس، یوم قائد اعظم، وزیر اعظم نواز شریف کی نواسی کی شادی اور خود وزیر اعظم کی اپنی سالگرہ تو تھی کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی لاہور آمد نے ایک اور گہما گہمی پیدا کر دی ور تب سے اب تک ہمارے الیکٹرونک میڈیا والے دوستوں کو یہ موضوع ہاتھ لگا ہوا ہے۔ درمیان میں جرم کی ایک کہانی نے کچھ وقت لیا تو محترمہ بے نظیر بھٹو کی برسی اور گڑھی خدا بخش کے جلسہ میں تقریروں نے ایک اور صورت حال پیدا کر دی جس کے بعد تجزیوں اور بحث کا رخ اس طرف ہو گیا۔ یوں یہ ہفتہ بہت ہی مصروفیت کا تھا۔

عید میلاد النبیؐ کے حوالے سے تو یکم ربیع الاول سے تقریبات شروع ہو چکی ہوئی تھیں ان کا نقطہ عروج بہر حال یوم ولادت با سعادت تھا۔ اس روز ذوق و عقیدت دیدنی رہی اور یوں احساس ہوا کہ حضورؐ کے نام کے سوا اور کچھ بھی نہیں اس مرتبہ جو بات خاص طور پر نوٹ کی گئی وہ یہ تھی کہ ادب و عقیدت ہی زیادہ تھی اور منفی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر تھیں وہ بھی زیادہ تر ون ویلنگ تک محدود رہیں۔ ناچ اور فلمی گانوں سے حتی الامکان پرہیز ہی نظر آیا۔ اگر کہیں ایسا ہوا بھی تو بھرپور عقیدت و احترام نے اسے شکست دے دی ۔ روشنیوں سے شہر جگمگا رہے تھے۔ تمام سرکاری عمارتوں کو بھی سجایا گیا تھا۔

عید میلاد النبیؐ کا اگلا دن بہت ہنگامہ خیز ثابت ہوااس روز جاتی عمرہ میں وزیر اعظم محمد نوازشریف کی نواسی مہر النساء صفدر کی شادی کے سلسلے میں رسم حنا تھی اور خود وزیر اعظم اس روز چھیاسٹھ سال کے ہو گئے اور ان کی سالگرہ بھی تھی۔ تاہم اس طرف توجہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی آمد کے بعد ہوئی مودی اچانک آئے اور ٹیلیویژن والوں کے لئے کام نکل آیا۔ نریندر مودی گئے تو تھے روس جہاں انہوں نے اسلحہ کے بھاری بھرکم معاہدے کئے۔ ماسکو سے وہ کابل پہنچے جہاں افغانستان کی نئی پارلیمینٹ کی عمارت کا افتتاح کیا کہ یہ بھارتی حکومت نے تحفتاً تیار کرا کے افغان حکومت کودی ہے۔ مودی کابل ہی سے لاہور پہنچے۔ خارجہ سیکریٹری کے مطابق ان کی طرف سے گیارہ بج کر چالیس منٹ پر فون کیا گیا کہ وہ آ رہے ہیں۔

اس کے بعد ہنگامی صورت حال پیدا ہوئی اور وزیر اعظم محمد نوازشریف اپنے بھائی وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف اور دوسرے حضرات کے ہمراہ ہوائی اڈے پرپہنچ گئے۔ جہاں مہمان کا استقبال کیا گیا وہاں سے وزیر اعظم ان کو لے کر ہیلی کاپٹر میں جاتی عمرہ پہنچ گئے۔ دونوں وزرا اعظم نے یہاں غیر رسمی مذاکرات تو کئے تاہم مودی نے غیر رسمی ملاقاتیں بھی کیں۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار تو سمدھیانی رشتہ سے بھی موجود تھے کہ وزیر اعظم کے دونوں صاحبزادے۔ حسن نواز اور حسین نواز بھی آئے ہوئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ محمد شہباز شریف کے صاحبزادے سلمان شہباز بھی تھے ان سب سے بھی تپاک سے ملے تو پھر انہوں نے وزیر اعظم نوازشریف کی والدہ سے بھی ملاقات کی اور اپنی رسم و رواج کے مطابق ان کے پیر چھوئے اور دعائیں لیں خبروں کے مطابق وزیر اعظم محمد نوازشریف کی سالگرہ کا کیک بھی مل کر کاٹا گیا اور نریندر مودی نے نواسی مہر النساء کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے تحائف بھی پیش کئے۔

بھارتی وزیر اعظم کا یہ دورہ سرپرائز کی حیثیت اختیار کرگیااگرچہ حالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اتناچانک بھی نہیں تھا کہ مودی اپنے ساتھ تحائف لائے تھے۔ بہر حال اس لحاظ سے یہ ملاقات گو غیر رسمی تھی مفید رہی کہ دونوں ممالک کے درمیان تنازعات کو حل کرنے اور دوستی کی طرف اقدامات کا فیصلہ کیا گیا اور پہلے سے طے شدہ پروگرام کی توثیق کرتے ہوئے گرین سگنل دے دیا گیا کہ جامع مذاکرات شروع کئے جائیں۔ اس کے نتیجے میں نئے سال کے پہلے مہینے میں اسلام آباد میں دونوں ملکوں کے خارجہ سیکرٹریوں کی ملاقات اور مذاکرات کا تعین ہو گیا ہے۔غالباً یہ مذاکرات 15 جنوری کو ہوں گے خارجہ سیکریٹری (بھارت) اپنے وفد کے ساتھ اسی روز پہنچیں گے۔ اس ملاقات کا مجموعی طور پر خیر مقدم ہی کیا گیا ہے۔ دونوں طرف اکا دکا سیاسی جماعتوں نے اعتراض کیا اور ایک ایک تنظیم نے احتجاجاً مظاہرہ بھی کیا۔ جو غیر موثر تھا۔ بھارت میں حزب اختلاف کانگریس نے اعتراض کیا تو پاکستان میں مسلم لیگ (ق) کی طرف سے نکتہ چینی کی گئی اور کہا گیا کہ دورہ پہلے سے طے شدہ تھا جو ایک بھارتی صنعت کار کی وساطت سے ہوا۔ باقی تمام سیاسی جماعتوں نے اس کا خیر مقدم کیا یہ الگ بات ہے کہ ہر جماعت نے اپنا موقف بھی ساتھ بیان کیا۔ یہاں لاہور میں جماعت اسلامی نے احتجاجی مظاہرہ کیا جو غیر موثر تھا۔ دوسری طرف بھارت میں شیو سینا کے ایک گروپ نے احتجاج اور اعتراض کے ساتھ مظاہرہ کیا۔ وگرنہ دونوں ممالک میں مجموعی طور پر خیر مقدم ہی کیا گیا اور توقع ظاہر کی گئی کہ فریقین کسی رکاوٹ کے بغیر عمل کریں گے۔

ہفتہ رفتہ ہی میں حضرت عیسیؐ کا یوم پیدائش بھی تھا۔ کرسمس کے حوالے سے عیسائی برادری اور عوام نے بھرپور تیاریاں کیں۔ میلے لگے اور گرجا گھروں میں عبادت کی خصوصی مجالس ہوئیں بچوں بوں نے نئے کپڑے پہنے اس روز چڑیا گھر میں بھی بڑی رونق رہی۔ عیسائی برادری نے بھرپور طریقے سے حضرت عیسیؑ کا یوم پیدائش منایا۔

گزشتہ اتوار کو پیپلزپارٹی کی چیئرپرسن اور سابق وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کا یوم شہادت تھا ان کو 2007ء میں شہید کیا گیا اور یہ ان کی آٹھویں برسی تھی۔ مرکزی تقریب گڑھی خدا بخش (لاڑکانہ) میں تھی ا ور ملک بھر سے قافلے وہاں گئے پنجاب سے اس سال کم لوگ جا سکے کہ پنجاب کی تنظیم نے کارکنوں کے لئے کوئی انتظام نہیں کیا تھا جبکہ لاہور کی تنظیم نے لاہور ہی میں یوم شہادت منانے کا فیصلہ کیا اس سلسلے میں لاہور کی صدر بیگم ثمینہ خالد گھرکی کی رہائش پر تقریب اور قرآن خوانی کا اہتمام کیا گیا اس میں بڑی تعداد میں کارکنوں نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ کئی مقامات پر کارکنوں اور مقامی عہدیداروں نے بھی قرآن خوانی کا اہتمام کیا سول سوسائٹی کی طرف سے ان کی یاد میں شمعیں جلائی گئیں۔ یوں یہ ہفتہ مختلف النوع کی تقریبات کے حوالے سے بہت مصروفیت کا حامل رہا۔

جمعہ کو کرسمس کے علاوہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا بھی یوم پیدائش تھا۔ اس سلسلے میں بھی قرآن خوانی ہوئی اور نظریہ پاکستان ٹرسٹ کی جانب سے تقریب کا بھی اہتمام کیا گیا جس میں قائداعظم کی ملی خدمات کو سراہا گیا اور زبردست خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...