وفاق اور سندھ حکومت کا رینجرز کے اختیارات پر تحفظات دور کرنا ناگزیر ہے ، میاں افتخار

وفاق اور سندھ حکومت کا رینجرز کے اختیارات پر تحفظات دور کرنا ناگزیر ہے ، ...

 نوشہرہ(بیورورپورٹ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری سابق صوبائی وزیر میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ وفاق اور سندھ حکومت کا رینجرز کے اختیارات پر غلط فہمیاں اور تحفظات مل بیٹھنے سے ہی حل ہوں گے وفاقی حکومت صوبائی خود مختیاری کا احترام کرتے ہوئے سندھ حکومت کو اعتماد میں لے کیونکہ سندھ حکومت بھی دہشتگردوں کے خلاف اپریشن کرنے کی حمایت کررہی ہے آرمی پبلک سکول کے بچوں کی قربانیوں کے بعد پوری قوم اور تمام سیاسی پارٹیاں اور عسکری قیادت متحد ہوچکی ہے اور 20نکاتی ایجنڈے پر عمل درآمد ہونے سے ہی دہشتگردی کا خاتمہ ممکن ہوسکے گا کیونکہ عارضی امن دہشگردی ختم نہیں ہوئی اور 20نکاتی ایجنڈے پر عمل درآمد ہونے سے دہشتگردی کاخاتمہ ہوسکے گا اور پنجاب میں کالعدم تنظیموں کے خلاف اپریشن تیز ہونا چاہیے اور خیبرپختونخوا سمیت پورے ملک میں سرچ اپریشن کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے مردان میں افسوس ناک دہشتگردی کا واقعہ بھی لمحہ فکریہ ہے کیونکہ دہشتگرد اب بھی موجود ہیں اور اس کے خاتمے کیلئے بھرپور ایکشن لیناچاہیے امریکہ اور روس امن قائم کرنے میں متنازعہ ہوچکے ہیں اس لئے افغانستان میں چین قیام امن کیلئے اپنا کردار ادا کریں افغانستان ،بھارت اور پاکستان بھی افغانستان میں امن کے قیام کیلئے اپنی بھرپور کوششیں جاری رکھیں جنرل راحیل کا دورہ افغانستان کا دورہ اور مودی کے دورہ پاکستان سے خطے میں امن کے قیام میں مدد ملے گی ان خیالات کااظہار انہوں نے نوشہرہ پریس کلب کے نومنتخب صدر مشتاق پراچہ اور دیگر کابینہ کو پریس کلب کے انتخابات میں کامیابی پر مبارکباد کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا اس موقع پر ضلعی صدر ملک جمعہ خان، جنرل سیکرٹری خوشحال اور صوبائی رہنما ملک آفتاب خان بھی موجود تھے انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں 20نکاتی ایجنڈے کے فیصلے کے مطابق تمام غیررجسٹرڈ مدارس کی رجسٹریشن کا فیصلہ کیاگیاتھا اسی فیصلے پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے کیونکہ جب تمام مدارس رجسٹرڈ ہوجائیں تو دودھ کا دودھ او ر پانی کا پانی ہوجائے گا دہشتگردی ناسور ہے اور اس ناسور سے چٹکارا پانے کیلئے پوری دنیا کو دہشتگردی اور دہشتگردوں کے خلاف متحد ہونا ہوگا تب جاکے دہشتگردی کاخاتمہ ممکن ہوسکتا ہے مردان میں نادرا آفس میں خود کش دھماکہ صوبائی حکومت کے گڈ گورننس کے دعوؤں پر سوالیہ نشان ہے صوبائی حکومت امن وامان کے قیام میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے کیونکہ صوبے قیام امن صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے انہوں نے مزید کہا کہ دہشتگردی کاخاتمہ گولی سے نہیں بلکہ بولی سے ہونی چاہیے افغانستا ن اور پاکستان میں جو غلط فہمیاں پیدا ہوئی تھی وہ پاکستان کی پختون قوم پرست سیاستدانوں کی کوششوں سے دور ہوگئی ہے غلط فہمیاں دور ہونے کے بعد افغانستان کے صدر اشرف غنی نے پاکستان کادورہ کیا اور پاکستانی لیڈرشپ سے بات چیت کی جبکہ جنرل راحیل شریف نے افغانستان کا دورہ کرکے امن کے قیام کی بات چیت کی جو خوش آئند ہے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...