الانبار میں داعش کے میزائل بنانے کے ماہرسمیت متعدد سرکردہ کمانڈر مارے گئے

الانبار میں داعش کے میزائل بنانے کے ماہرسمیت متعدد سرکردہ کمانڈر مارے گئے
الانبار میں داعش کے میزائل بنانے کے ماہرسمیت متعدد سرکردہ کمانڈر مارے گئے

  


بغداد (صباح نیوز)عراق کی وزارت داخلہ نے مغربی صوبے الانبار میں گزشتہ روز دو فضائی حملوں میں ہلاک ہونے والے داعش کے سرکردہ کمانڈروں کی تفصیل جاری کی اور بتایاکہ ان میں تین روسی شہری تھے اور ان میں داعش کا میزائل بنانے کا ماہر بھی شامل تھا۔وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا کہ مہلوکین میں داعش کی فوجی کونسل کا ایک عہدے دار ابواحمد العلوانی شامل ہے۔وہ صدام حسن کے دور میں سابق ری پبلکن گارڈز کا اہلکار رہا تھا۔ابواحمد العلوانی کا تعلق صوبائی دارالحکومت الرمادی سے تھا جس پر دو روز پہلے عراقی فوج نے قبضہ کیا ہے۔وہ داعش کے خودساختہ خلیفہ ابوبکر البغدادی کا قریبی مصاحب تھا اور امریکی فوج کے عراق پر قبضے کے وقت گرفتار ہوا تھا اور اس کے زیرانتظام بغداد کے نزدیک واقع کیمپ بکا میں قائم حراستی مرکز میں قید رہا تھا۔دوسرے مہلوکین میں عبدالرحمان الیمنی المعروف ابومیسرہ نمایاں ہے۔وہ تیئیس سال کی عمر میں عراق میں القاعدہ کے مقتول لیڈر ابو مصعب الزرقاوی کے ساتھ کام کرتا رہا تھا۔گذشتہ برسوں کے دوران وہ پہلے شام میں اور پھر اپنے آبائی وطن یمن میں القاعدہ سے وابستہ عالم دین انورالعولقی کے ساتھ مقیم رہا تھا۔انورالعولقی یمنی نژاد امریکی شہری تھے اور وہ 2011 میں امریکا کے ایک ڈرون حملے میں یمن میں مارے گئے تھے۔ابو میسرہ 2013 میں کسی وقت یمن سے شام چلے گئے تھے اور وہیں انھیں حلب میں داعش کی جانب سے کمان کی ذمے داری سونپی گئی تھی۔اس کے بعد وہ سابق حکمراں جماعت کالعدم بعث پارٹی کے ایک سابقہ رہنما ابوعلی الانباری کے ساتھ واپس عراق آگئے تھے۔انھیں الرمادی میں داعش کی قیادت کو تقویت پہنچانے کی ذمے داری سونپی گئی تھی۔مہلوکین میں داعش کے ایک اور سرکردہ کمانڈر ابو سعد الانباری بھی شامل ہیں۔وہ دریائے فرات میں اسلامی پولیس کے کمانڈر تھے۔وہ شام کی سرحد کے نزدیک واقع ضلع القائم کے رہنے والے تھے۔انھیں امریکی فوجیوں نے ماضی میں گرفتار کیا تھا اور انھیں سزائے موت سنائی گئی تھی لیکن وہ بدش میں واقع جیل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

مزید : بین الاقوامی


loading...