لاہور ہائیکورٹ کا تین بچے باپ کی تحویل سے لے کر ماں کے حوالے کرنے کا حکم

لاہور ہائیکورٹ کا تین بچے باپ کی تحویل سے لے کر ماں کے حوالے کرنے کا حکم
لاہور ہائیکورٹ کا تین بچے باپ کی تحویل سے لے کر ماں کے حوالے کرنے کا حکم

  


لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) لاہور ہائیکورٹ نے 3 بچے باپ کی تحویل سے لے کر ماں کے حوالے کر نے کا حکم دیدیا، بچوں نے ماں کیساتھ جانے سے انکار کرتے ہوئے چیخ و پکار شروع کر دی، احاطہ عدالت کے مناظر نے سب کو آبدیدہ کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس چوہدری مشتاق احمد نے نسرین بی بی کی درخواست پر بچوں کی حوالگی سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ درخواست گزار نسرین بی بی نے موقف اختیار کیا کہ اس کا سابق شوہر سلیم احمد نشے کا عادی ہے اور ان دونوں کے درمیان طلاق ہو چکی ہے تاہم بچے سلیم کے ہی پاس ہیں۔ نسرین بی بی کے سابق شوہر سلیم نے عدالت کو بتایا کہ بچے اس کے پاس ہی رہنا چاہتے ہیں۔ عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ماں ہی بچوں کی بہتر پرورش کر سکتی ہے۔ عدالت نے تینوں بچوں 4 سالہ اقرار، 3 سالہ علی اور 7 سالہ فاطمہ کو باپ کی تحویل سے لے کر ماں کے حوالے کرنے کا حکم دیدیا۔

عدالتی حکم پر جب بچوں کو ماں کے حوالے کرنے کی کوشش کی گئی تو بچوں نے انکار کر دیا اور احاطہ عدالت میں چیخ و پکار شروع کر دی جس کے باعث وہاں موجود ہر شخص آبدیدہ ہو گیا۔

مزید : لاہور


loading...