پڑوسی ملک کا وہ علاقہ جس کے رہنے والے یورپ کی شہریت حاصل کرنا چاہیں تو انکار نہیں کیا جاسکتا کیونکہ۔۔۔

پڑوسی ملک کا وہ علاقہ جس کے رہنے والے یورپ کی شہریت حاصل کرنا چاہیں تو انکار ...
پڑوسی ملک کا وہ علاقہ جس کے رہنے والے یورپ کی شہریت حاصل کرنا چاہیں تو انکار نہیں کیا جاسکتا کیونکہ۔۔۔

  


نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت ایک طرف خطے کا تھانیدار بنتا ہے مگر حالت یہ ہے کہ اس کے شہری تنگ آ کر اپنی بھارتی شہریت ترک کرکے پرتگال کی شہریت حاصل کر رہے ہیں۔ ”انڈیا ٹائمز“ کی رپورٹ کے مطابق رواں برس بھارتی شہر گوا کے دو ہزار سے زائد افراد نے اپنی بھارتی شہریت ترک کی اور پرتگال کا پاسپورٹ حاصل کر لیا۔ پرتگال کے قانون کے مطابق وہ لوگ جو آزادی سے قبل پرتگالی کالونیوں میں پیدا ہوئے، ان کی تیسری نسل تک کے افراد دوبارہ پرتگال کی شہریت لے سکتے ہیں اور بھارت کا شہر گوا بھی ان پرتگالی کالونیوں میں شامل ہے۔ یہ بھارتی باشندے پرتگال کی شہریت اس لیے حاصل کر رہے ہیں کہ اس کے بعد ان کے لیے یورپ اور بالخصوص برطانیہ جانے کی راہ ہموار ہو جائے گی، کیونکہ پرتگال کے پاسپورٹ پر دنیا کے 172ممالک میں بغیرویزے کے سفر کیا جا سکتا ہے اور ان ممالک میں بھاری بھرکم معاوضوں پر نوکریاں حاصل کی جا سکتی ہیں۔گوا کے جو شہری پرتگال کا پاسپورٹ لے کر یورپ و دیگر ممالک میں جا رہے ہیں انہیں دوسرے بھارتی شہریوں کی نسبت زیادہ پرکشش نوکریاں مل رہی ہیں۔ رواں سال اگست میں گوا کے وزیراعلیٰ لکشمی کانت پریشکر نے وزارت خارجہ کے ساتھ یہ معاملہ اٹھایا تھا۔ ”لکشمی کانت پریشکر نے گوا اسمبلی میں بتایا کہ ”یہ لوگ اس لیے بھارتی شہریت نہیں چھوڑ رہے کہ یہاں انہیں نوکریاں نہیں مل رہیں، وہ لوگ مخصوص ذہنیت کے ساتھ یہ سب کچھ کر رہے ہیں۔ ہمیں ان کی یہ ذہنیت تبدیل کرنا ہو گی۔ یہ لوگ پرتگال کا پاسپورٹ لینے کے لیے گھنٹوں قطاروں میں کھڑے رہتے ہیں۔ ان سب کو بھارتی شہریت چھوڑ دینے کی جلدی ہے۔ ان کا یہ رویہ بہت افسوسناک ہے۔“

مزید : بین الاقوامی


loading...