معیشت کے خلاف گرینڈ الائنس

معیشت کے خلاف گرینڈ الائنس
 معیشت کے خلاف گرینڈ الائنس

  

صدیوں کی بات نہیں کہ لوگ سارا ماجرا بھول چکے ہوں۔ساڑھے تین برس سے کچھ ہی زیادہ دنوں کی بات ہے، پاکستان میں حکومت آصف علی زرداری کے اشارۂ ابرو سے چلتی تھی۔ قدم قدم پر کاروباری طبقہ اور عوام کو محرومیوں کے گہرے زخم سہنے پڑ تے تھے . ملک میں دہشت گردوں کا راج تھا ، اقتدار کے ایوانوں میں کرپشن کا سکہ چلتا اور کام کروانے کے لئے تیر بہدف نسخہ سمجھا جاتا تھا۔ پاکستان کی دولت تیز پانیوں کی طرح بیرون ملک جا رہی تھی . اس وقت کے وزیر اعظم کو عدالت نے بیرون ملک بینکوں کو خط لکھنے پر مجبور کیا کہ پاکستان کی دولت واپس کر دی جائے تو وزیر اعظم نے بینک کو خط لکھنے پر اپنے عہدہ سے استعفا دینے کو ترجیح دی تاکہ آصف علی زرداری کی پیشانی پر شکن نہ پڑے ۔

بجلی کی اندھیر نگری تھی . اس کی عدم دستیابی کا یہ عالم کہ ایک گھنٹہ آتی، جس کے بعد دو سے تین گھنٹے کے لئے عنقا ہو جاتی۔صنعتوں کے لئے لوڈشیڈنگ کے مقررہ شیڈول کے علاوہ بغیر اطلاع بھی بجلی غائب رہتی .عوام اور کاروباری طبقہ چیختا چلاتا ر ہا کہ کاروبار نہیں ہورہا 249 بجلی کی فراہمی کا بندوبست کیا جائے . آج نہیں تو کل کو روشن کرنے کا کچھ بندوبست کیا جائے . حکومت نے بجلی بنانے کے کسی پراجیکٹ کا آغازنہیں کیا ۔ ظلم عظیم یہ کیا کہ سستی بجلی بنانے کے لئے سود مند ترین منصوبہ کالا باغ ڈیم کو متنازعہ قرار دے کر ہمیشہ کے لئے اس کے خاتمے کا اعلان فرما دیا . یہ عظیم الشان کارنامہ بھی آصف علی زرداری نے انجام دیا .اگر پاکستان کے ساتھ ظلم روا نہ رکھا جاتا اور اس منصوبے کو سر د خانہ میں نہ پھینکا جاتا تو تھرمل ذرائع سے بجلی بنانے کے لئے تیل کی درآمد پر خرچ ہونے والے کثیر زر مبادلہ کے نقصان سے پاکستان ہمیشہ کے لئے بچ جاتا اور یہ سرمایہ تعمیر و ترقی کے دیگر پروگراموں پر خرچ ہو سکتا تھا۔

آج نریندر مودی بات بات پر پاکستان کے پانیوں کو بند کرکے ہماری زمینوں کو بنجر بنانے کی باتیں کرتا رہتا ہے، کالا باغ ڈیم بن جانے کی صورت میں ایسے خوف سے نجات مل جاتی۔پارلیمنٹ میں چند سیاست دانوں کے ووٹ لینے کے لئے آصف علی زرداری نے پاکستان کا مستقبل تاریکیوں میں ڈبونے سے گریزنہیں کیا . آج وقت پر بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے پریشانی لاحق ہو رہی ہے کہ فصلوں کو پانی نہ ملا تو کیا بنے گا۔ اگر آصف علی زرداری نے کالا باغ ڈیم کو ہمیشہ کے لئے ختم نہ کیا ہوتا اور اس پر کام کی رفتار تیز کی ہوتی تو آج عوام کو کچھ حوصلہ ہوتا اور آصف علی زردار ی کو نیک نامی مل رہی ہوتی۔ عوام اور کاروباری طبقے کو طفل تسلیاں دینے کے لئے بھاشا ڈیم کا نام لیا جاتا رہا، حالانکہ زمینی حقیقت کچھ نہیں تھی ۔ مہنگے ترین رینٹل پاور اسٹیشن کی دریافت بھی آصف علی زرداری حکومت کے زمانے میں ہوئی جو مکمل طور پر کرپشن میں ڈوبے ہوئے تھے۔امن و امان کی صورت حال اس قدر زیادہ خراب ہوئی کہ آئے روز مسجد، مدرسہ، امام بارگاہ، سکول، پولیس اسٹیشن یا پبلک مقام پر دہشت گردی کا واقعہ یا خود کش حملہ ہو جاتا .ڈر اور خوف کے ماحول میں کاروبار سکڑ رہے تھے۔ غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان کا رخ کرنے سے کتراتے تھے۔ .خراب گورننس کے پس منظر میں قومی الیکشن ہوئے تو لوڈ شیڈنگ سے جھلسے عوام نے آصف علی زرداری حکومت کو مسترد کر دیا . ان کی حکومت صرف اندرون سندھ تک محدود ہو کررہ گئی اور میاں محمد نواز شریف کو واضح اکثریت سے کامیابی دلائی ۔

شریف برادران نے اقتدار میں آتے ہی ایک لمحہ ضائع کئے بغیر ملک میں امن قائم کرنے، .بجلی کی پیداوار بڑھانے اور معاشی سرگرمیوں کو وسعت دینے کے لئے جد و جہد شروع کردی۔انہی کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ آج عوام اور کاروباری طبقہ اچھی طرح جان چکا ہے کہ موجودہ حکومت کی مسلسل کوششوں اور کاوشوں سے بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں کمی ہو رہی ہے۔صنعتوں کو بلا تعطل بجلی مہیا کی جا رہی ہے اور کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اگلے چند مہینوں میں لوڈ شیڈنگ آخری ہچکیاں لینے لگے گی . وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے مسلسل رابطوں سے چین، ترکی کے علاوہ روس، ایران اور متعدد دیگر ملک پاکستان کے ساتھ اشتراک و تعاون کے لئے پیش قدمی کر رہے ہیں .گوادرکی بندرگاہ اور سی پیک کے منصوبے پاکستان کی سرفرازی و اقتصادی بلند پروازی میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں .کاروباری طبقہ اور عوام خوش ہیں کہ ان کے مسائل کم ہو رہے ہیں .انہیں کام کرنے کے لئے سازگار ماحول دینے کی کوششیں شروع ہو چکی ہیں ۔ میاں محمد نواز شریف کی جرأت و تدبر اور پاک فوج کے آپریشن ضرب عضب سے دہشت گردوں کا صفایا ہونے جا رہا ہے . کراچی میں بھتہ خوروں اور ٹارگٹ کلرکا خاتمہ رینجرز کا ایک عظیم الشان کارنامہ ہے،جوہمیشہ یاد رہے گا۔

بعض سیاست دان پریشان ہیں کہ مستقبل میں ان کا سکوپ کم ہو رہا ہے۔صبح دوپہر شام، اٹھتے بیٹھتے، سوتے جاگتے ان کی گفتگو یا خوابوں کا محور و مرکز صرف میاں محمد نوازشریف کو منصب سے ہٹانا ہوتا ہے . منفی سرگرمیوں میں اکیلے کامیابی مشکل نظر آئے تو گرینڈ الائنس کے لئے ہاتھ پاؤں مارنے لگتے ہیں۔ لمبی مدت کے دھرنوں سے کچھ ہاتھ نہ آیا ۔صرف کاروباری حالات میں تنگی پیدا ہوئی . کاروبار دوست حکومت کو گرانا کسی طور حب الوطنی نہیں ہو سکتی .یہ خود غرضی ہوگی . میاں محمد نواز شریف کی حکومت کے خلاف گرینڈ الائنس دراصل ترقی پذیر معیشت کے خلاف سیاست دانوں کا الائنس ہوگا۔ عوام اور پاکستان کے کاروباری طبقوں نے مجوزہ الائنس کے سارے کل پرزوں کو اصلی حالت میں دیکھا ہوا ہے . ان کے چہروں کو اچھی طرح پہچانتے ہیں . دلفریب نعروں سے کوئی متاثر نہیں ہوگا . مزید لوٹ مار کے لئے کسی طور ان کا ساتھ نہیں دیں گے۔ صرف اقتدار کے لئے الائنس بنانے کے شائقین سے درخواست ہے کہ اگر گرینڈ الائنس بنانا ہے تو کالا باغ ڈیم کی تعمیر و تکمیل کے لئے بنایا جائے۔ گرینڈ الائنس بنانا ہے تو دیامر بھاشا ڈیم کی جلد تعمیر کے لئے بنایا جائے . پاکستان کے پانیوں کو بند کرنے کے لئے نریندر مودی کی سازشوں کا جواب دینے کے لئے بنایا جائے ،.ملک میں بیرونی سرمایہ کاری لانے اور کاروباری سرگرمیاں بڑھانے کے لئے گرینڈ الائنس بنایا جائے تاکہ عوام سیاست دانوں سے محبت کرنے لگیں اور کاروباری طبقوں کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک کا باعث بنیں۔ منتخب حکومت کو گرانے کے لئے سیاسی گرینڈ الائنس سے اٹھنے والی گرد صرف ملک میں کاروباری سرگرمیوں کو محدود کرنے اورغیر ملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان سے دور رکھنے کا باعث بنے گا جو کسی طور حب الوطنی نہیں ہو سکتی ۔

مزید :

کالم -