امریکااسرائیل نوراکشتی اور گریٹرمشرق وسطیٰ

امریکااسرائیل نوراکشتی اور گریٹرمشرق وسطیٰ
امریکااسرائیل نوراکشتی اور گریٹرمشرق وسطیٰ

  

ٹرمپ کی غیر متوقع جیت پر امریکا کے سابق صدر جیمی کارٹر نے 28نومبر2016 کو فلسطین بارے امریکا کے رویے پر نیویارک ٹائمز میں ایک مضمون لکھا ۔جس میں اوبامہ انتظامیہ سے فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کرنے اور اسرائیل کو جارحانہ عزائم  سے روکنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔جیمی کارٹر نے اوبامہ پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ  20 جنوری  کو ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے سےپہلے یہ تاریخی کام ضرور کریں۔ٹرمپ کےانتخابات جیتنے کے بعد راقم نے  بھی اپنے ایک بلاگ میں ٹرمپ کی جیت کے اسرائیل اورمشرق وسطی پر اثرات کاجائزہ لیا تھا۔جس میں ٹرمپ کے اسرائیل سے قریبی روابط اور مستقبل میں ٹرمپ کی اسرائیل نواز پالیسیوں کی وجہ سے مشرق وسطیٰ میں نئی خانہ جنگی کے امکانات پربات کی گئی تھی۔ڈونلڈ ٹرمپ  20 جنوری کو امریکا کا اقتدار سنبھالنے والا ہے،لیکن اس سے پہلے ہی ٹرمپ کی اسرائیل بارے بے چینی کھل کر سامنے آنے لگی ہے۔گزشتہ دنوں اقوام متحدہ نے اسرائیل کو فلسطینی مقبوضہ علاقوں میں نئی بستیاں بسانے کے خلاف ایک قرارداد پاس کی۔حیرت انگیز طور پر امریکہ نے اسرائیل مخالف اس قرارداد کو ویٹو پاور کے ذریعے نہیں روکا۔جس پر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اوبامہ انتظامیہ پر شدید تنقید کی۔ٹرمپ نے بھی اسرائیل کا ساتھ دیتے ہوئے اوبامہ  پر نہ صرف تنقید کی بلکہ 20 جنوری کے بعد اقوام متحدہ میں اسرائیل بارے بہت سے امور تبدیل کروانے کا عندیادیا۔ادھر اسرائیل نے قراداد  کی حمایت کرنے والےچودہ ممالک  میں سے دس ممالک کےسفیروں کو طلب کرکے ان سے سخت احتجاج کیا  ہے۔

اسرائیل اور امریکا کے باہمی تعلقات کا جائزہ لیا جائے تو  یہ حقیقت کھل کرسامنے آتی ہے کہ اسرائیل شروع دن سے امریکی سپوٹ کے ذریعےفلسطینی علاقوں پر قابض ہے۔اسرائیل مخالف جب کبھی کوئی آواز اٹھی امریکا نے اسے دبانے میں ہمیشہ اہم کردارادا کیا۔چنانچہ 1967میں عرب اسرائیل جنگ کے موقع پر امریکا نے کھل کر اسرائیل کا ساتھ دیا۔بعدازاں بدنام زمانہ  ڈیوڈ کیمپ نامی معاہدہ کرواکر اسرائیل کو بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔عام طور پر اسرائیل مخالف اقوام متحدہ میں پیش کی جانے والی ہرقرارداد کو امریکا ویٹو کردیتا ہے۔بمشکل چند ایک قرارداد ایسی ہیں جن میں امریکہ نے اسرائیل کا ساتھ نہیں دیا۔یہی وجہ ہے کہ امریکا نے شروع سے اسرائیل کو تو آزاد ریاست تسلیم کررکھا ہے ،لیکن فلسطین کو آج تک امریکا نے آزاد ریاست تسلیم کیا ہے،نہ فلسطین کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم رکھے ہیں۔ماضی میں جیمی کارٹر،نکسن،فورڈ،ریگن،لنڈن بی جانسن،بش سینئر ،کلنٹن وغیرہ امریکی صدور کے دور میں اگرچہ اسرائیل مخالف بعض قراردادیں منظور کی گئی ہیں،لیکن پھر دوسرے حربوں سے ان قراردادوں کو سبوتاژ کرنے میں امریکا بہرحال کردار ادا کرتا رہاہے۔اسرائیل مخالف پیش کی جانے والے حالیہ قرارداد  پراگرچہ اوباما نے اسرائیل کا ساتھ نہیں دیا،لیکن گزشتہ 8 سالوں سے اوبامہ نے اسرائیل مخالف کوئی قراداد پاس نہیں ہونے دی۔بلکہ حال ہیں میں اوباما انتظامیہ نے امریکا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اسرائیل کو 38 بلین ڈالرز کی سب سے بڑی امداد دینے  کا معاہد ہ کیا ہے۔

ان حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے غور کیا جائے تو اسرائیل بارے امریکا کی پالیسی ہمیشہ مثبت رہی ہےاور حالیہ پیش کی جانے والی قراردادپراوباما انتظامیہ کاویٹو پاور کواستعمال نہ کرنا محض دکھاوے اورالیکشن میں اسرائیل نواز ٹرمپ سےہارکا بدلہ لینےکے سوا کچھ نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ نیتن یاہو نے اقوام متحدہ کی اس قرارداد کے باوجود آبادکاری جاری رکھنے کا عندیا دیا ہے۔ٹرمپ کے آنےکےبعدنہ صرف مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی آبادکاری بڑھی گی بلکہ ٹرمپ کے آنے کے بعد تل ابیب سے القدس کو دارالحکومت بنانے کی اسرائیلی کوششیں بھی تیز ہوجائیں گی۔اسرائیل کا اقوام متحدہ کی قراردادوں  پر عملداری کا سابقہ  تاریخی ریکارڈ بھی یہی بتارہا ہے کہ اسرائیل کو حالیہ قرارداد سے کوئی نقصان نہ ہوگا۔اسرائیل فلسطین کے اکثریتی آبادی والے علاقے مغربی کنارے میں تیزی سے آباد کاری کررہاہے۔فلسطین کا یہ مغربی کنارہ 5640مربع کلومیڑزمینی جب کہ 220 کلومیٹربحری رقبے پر مشتمل ہے۔جس میں 27لاکھ سے زیادہ فلسیطینی اور 4لاکھ کے قریب غیرقانونی طورپر غاصب اسرائیلی آباد ہیں۔اقوام متحدہ کی قرارداد 242کے مطابق اسرائیل کی نہ صرف مشرقی فلسطینی علاقے میں آبادکاری غیر قانونی ہے بلکہ فلسطین کےمغربی علاقوں میں قائم کی جانے والی اسرائیلی بستیاں بھی فلسطینی علاقوں پر قبضے کے مترادف ہیں۔1967کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد اقوام متحدہ سے منظور ہونے والی اس قرارداد کے باوجود اسرائیل نے فلسطین میں غیرقانونی آبادکاری تاحال جاری رکھی ہوئی ہےاورنیتن یاہو کے دور میں100فیصد اضافہ ہواہے۔اس سے اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ اقوام متحدہ کی حالیہ قرارداداور امریکا اسرائیل کی حالیہ لفظی جنگ سے اسرائیل  پر کیا اثر پڑے گا۔

ایک طرف ٹرمپ کے جیتنے کے بعد اسرائیل کی فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں بڑھتی ہوئی آبادکاری کی مہم ہے دوسری طرف  مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے بڑھتے ہوئے اثرروسوخ کے مقابلے میں مشرق وسطی کے اسلامی ممالک کی باہمی کشمکش اورغفلت ہے۔یہ حقیقت ہےکہ فلسطین کے مغربی کنارے  میں نئی آبادکاری سے اسرائیل کا مقصد اپنی حدودمیں توسیع کرنا ہے۔جس کے لیے امریکا سمیت دیگر عالمی طاقتیں بھرپور کردار اداکررہی ہیں۔اسرائیل کی سرحدیں شام،اردن،لبنان اور مصر سے ملتی ہیں۔اسرائیل نے بحراسود سے ملے ہوئے فلسطین کے اکثر علاقے پر قبضہ کررکھا ہے،جس میں صرف غزہ کی پٹی فلسطین کے پاس ہے۔اس پر قبضے کے لیے اسرائیل نے 2006 میں غزہ پر حملہ کیا تھا،لیکن فلسطینی مزاحمت کاروں کی وجہ سے اسرائیل اگرچہ مکمل کامیاب نہ ہوسکا،البتہ مختلف حیلے بہانوں سے اسرائیل نے غزہ کا اب بھی محاصرہ کررکھاہے۔دوسری طرف مغربی کنارے  پر قبضے کے لیے آباد کاری جاری ہے اورجولان کی پہاڑیوں  کے ذریعے شام تک اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم جاری ہیں۔جولان  کا علاقہ 1967میں اسرائیل نے شام سے جنگ کے ذریعے چھین لیا تھا۔بعدازاں اقوام متحدہ کی قرارداد کے ذریعے اسرائیل نے 5 فیصد علاقہ شام کو واپس کردیا تھا۔حالیہ شامی خانہ جنگی کے بعد 2015 میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اوبامہ پر شدید زور ڈالاکہ وہ جولان کا مکمل کنٹرول اسرائیل کے حوالے کردیں تاکہ اسرائیل آبادکاری بڑھاسکے۔حلب میں جاری حالیہ خانہ جنگی میں بشار سمیت عالمی طاقتوں نے معرکہ آزمائی صرف اس لیے کی تاکہ یہاں سے شامی مزاحمت کاروں کوختم کرکے اسرائیل کے لیے  راستہ صاف کردیا جائے ۔کیوں کہ اعتدال پسند شامی مزاحمت کار جولان کے قریب نہ صرف پہنچ چکے تھے بلکہ کئی بار ان کے حملوں سے اسرائیلی فوجی بھی مارے جاچکے ہیں۔شام کی خانہ جنگی کی موجودہ صورتحال کامطالعہ کیا جائے تو اس وقت ساری عالمی طاقتیں اسرائیل سے متصل شامی سرحدی علاقوں،حلب،ادلب وغیرہ میں زیادہ مشغول نظرآتی ہیں،جب کہ شام کا اکثریتی مشرقی علاقہ داعش کے رحم وکرم پر چھوڑ رکھاہے،جن کے خلاف خاطر خواہ کاروائیاں کی گئیں ہیں،نہ آئندہ کسی بڑی کاروائی کی امید ہے۔جس کا واضح مطلب ہے کہ امریکا سمیت اسرائیل نواز عالمی طاقتوں کا ہدف اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کوسپوٹ کرنا ہے۔یادرہےحلب اور شام کا علاقہ اسرائیلی یہودیوں کے نزدیک مقدس علاقہ ہے۔دوسری طرف صحرائے سینا میں مصر کی حدود کی طرف بھی اسرائیل کی پیش قدمی جاری ہے۔اسرائیلی یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اسرائیل اپنی حدود کو بحیرہ عرب تک وسیع کرنے میں مصر سے جنگ کرسکتاہے۔

اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم ، امریکا کی درپردہ اسرائیل نوازی ، ٹرمپ کی 20 جنوری کے بعد کھل کر اسرائیل کی حمایت  اور اقوام متحدہ میں ردوبدل ایسےبیانات سے یہ حقائق سامنے آتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں جاری حالیہ کشمکش اور خانہ جنگی کا مقصد "بلڈبارڈرز" نامی خفیہ منصوبے کومکمل کرکے گریٹر اسرائیل کی راہ ہموار کرنا ہے۔مشرق وسطیٰ کے بعد عالمی طاقتوں کا اگلاہدف مشرق وسطیٰ کبریٰ ہے جس میں پاکستان سمیت ترکی افغانستان ایسے دیگراسلامی ممالک شامل ہیں۔افریقا اور ایشیا کے اسلامی ملکوں پر بولی جانے والی "گریٹرمشرق وسطی" کی یہ اصطلاح 2004میں امریکی صدر جارج بش نے ایجاد کی تھی۔اس لیے پاکستان کو عالمی طاقتوں کے اس  مذموم منصوبے کا مقابلہ کرنے کے لیے نہ صرف بھرپور طریقے سے تیار رہنا چاہئے،بلکہ عملاجدوجہد بھی کرنی چاہیے۔چنانچہ سعودی عرب،ترکی سمیت  پوری دنیا کے اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرکے مشکل میں پھنسے ہوئے اسلامی ملکوں کی پاکستان کومدد کرنی چاہیے۔تاکہ پڑوس میں لگی آگ کی چنگاریاں  پاکستان تک پہنچے سے پہلے بجھ  جائیں اور مشرق وسطیٰ کے بعد گریٹر مشرق وسطیٰ کے نام پرپاکستان سمیت دیگر اسلامی ملکوں کو بدامنی کا شکارہونے سے بچایاجاسکے۔ gmadnig@gmail.com

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -