ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 51

30 دسمبر 2017 (13:08)

ابویحییٰ

بچے اور مغرب

یہاں دو تین طرح کی مزید کیبل کار پر بیٹھ کر ہم مزید مختلف جگہوں پر گئے ۔ جس کے بعد گھر کے لیے واپس لوٹے ۔ گرچہ بھوک نہیں تھی اور رات کو ایک اور ڈنر میرا منتظر تھا، مگر عاطف کی بیگم نے ایک پوری دعوت کا انتظام کر رکھا تھا۔کھانے سے زیادہ ان کے گھر آنے کا اصل فائدہ یہ ہوا کہ ان کے دو بہت پیارے بچوں سے ملاقات ہوگئی۔

بچے خدا کی بہت بڑ ی نعمت ہیں ۔ مگر یہ بہت بڑ ی ذمہ داری بھی ہوتے ہیں ۔ دورِ جدید میں والدین بچوں کی اس ذمہ داری کو جدید تعلیم یا قرآن ناظرہ پڑ ھانے تک محدود سمجھتے ہیں ۔ جبکہ اصلاً یہ ذمہ داری ایک باشعور اور با اخلاق انسان بنانے کی ذمہ داری ہے ۔خاص کر جو لوگ ملک سے باہر جا چکے ہیں ، ان کے لیے یہ ذمہ داری دوگنا ہے ۔ کیونکہ میں نے یہ دیکھا ہے کہ یہاں سے جانے والے پاکستانی زیادہ تر اپنی کمیونٹی میں مگن رہتے ہیں ۔ یہ اصلاً ان کے بچے ہوتے ہیں جو مغربی ممالک کے باشندوں سے ربط و ضبط رکھتے ہیں ۔ایسے میں ایک امکان یہ ہوتا ہے کہ بچے مغربی رنگ میں رنگ جائیں ۔ مگر دوسرا روشن تر امکان یہ ہوتا ہے کہ یہ بچے اہل مغرب کو اسلام کا تعارف کروادیں ۔ اگر والدین ابتدا ہی سے اپنی ذمہ داری محسوس کر لیں تو دوسرا واقعہ پیش آ سکتا ہے ۔ ورنہ عام طور پر پہلا امکان ہی روبہ عمل ہوتا ہے ۔

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 50 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ملاوٹ ، اخلاقی بحران اور تباہی

مجھے زندگی میں جو چیزیں سب سے زیادہ ناپسند ہیں ، ان میں سے ایک شاپنگ کرنا ہے ۔ تاہم بعض اوقات یہ مجبوری بن جاتی ہے ۔ یہاں سے بھی کچھ چیزیں لینا تھیں ۔اس لیے عاطف مجھے ایک د و شاپنگ سنٹر لے گئے ۔ میری یہاں سے شاپنگ کرنے کی وجہ صرف یہ تھی کہ ملک سے کئی برس باہر رہنے کے بعد جب میں واپس لوٹا تو مجھے پہلی دفعہ حقیقی معنوں میں اندازہ ہوا کہ پاکستان میں غذا یا دوا کچھ بھی خالص نہیں ملتا۔چیزیں جعلی نہ بھی ہوں تب بھی کوالٹی کا بہت فرق ہوتا ہے ۔ عام استعمال کی چیزوں میں یہ ظلم تو پھر گوارا کر لیا جائے ۔مگرغذ ا اور دوا میں اس ملاوٹ پر اس کے سوا کیا کہا جائے کہ قوم شعیب کے معاملے میں اللہ نے اس کو بہت بڑ ے جرم کے طور پر بیان کیا ہے ۔ حد تو یہ ہے کہ پاکستان میں جو چیزیں باہر کی چیزو ں کے نام پر فروخت ہوتی ہیں ، ان کی حقیقت یہ ہوتی ہے کہ دنیا بھر سے وہ مال جس کی ایکسپائر ی ڈیٹ قریب آ گئی ہو اور فروخت نہ ہو سکے ، دبئی آتا ہے ۔ جہاں سے یہ پاکستان بھیج دیا جاتا ہے جس کی ایکسپائری ڈیٹ تبدیل کر کے اسے باہر کی اشیاء کے نام پر فروخت کیا جاتا ہے ۔ شہر کے چند پوش علاقوں کو چھوڑ کر بیشتر جگہوں پر فارن آئٹم کے نام پر یہی اشیاء فروخت ہوتی ہیں ۔بے چارے عام لوگ زیادہ پیسے دے کر بھی دھوکا ہی کھاتے ہیں ۔

حقیقت یہ ہے کہ ہمارا اخلاقی زوال آخری درجے میں پہنچ چکا ہے ۔ ایسی قوم میں جہاں اس طرح کا زوال ہو ، جب ٹکراؤ اور تصادم کی جوشیلی تقریریں سنتا ہوں تو بہت ڈر لگتا ہے ۔ کیونکہ انبیا کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ ایسی قوموں کو اللہ تعالیٰ جب سزا دینے کا فیصلہ کرتے ہیں تو قوم عملی طور پر اس اخلاقی پستی کا شکار ہوتی ہے ، مگر خود کو صالحین کی جماعت سمجھ کر طاقتور اقوام سے ٹکرانے کا فیصلہ کر لیتی ہے ۔ جس کے بعد تباہی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔کاش میری قوم کسی مزید حماقت میں چھلانگ لگانے سے پہلے اپنی اخلاقی حیثیت پر غور کرنے کے لیے تیار ہوجائے ۔

شاپنگ سنٹر اور موبائل ایپ

خیر بات کہاں پہنچ گئی مجھے کچھ چیزیں چاہیے تھیں ۔ عاطف ساتھ لے کر شاپنگ سنٹر میں گئے جہاں ایک دلچسپ چیز انھوں نے بتائی۔ان کے موبائل فون پر ایک ایپ تھی جس سے ہمیں یہ معلوم ہورہا تھا کہ ہماری مطلوبہ چیز اس شاپنگ سنٹر میں کس جگہ موجود ہے ۔ورنہ عام حالات میں توچیزیں ڈھونڈنے میں بڑ ا وقت لگ جاتا۔پاکستان میں یہ مسئلہ وہ ملازمین حل کر دیتے ہیں جو شاپنگ سنٹر میں ہر جگہ موجود ہوتے ہیں ۔ مگر وہ لوگوں کی رہنمائی سے زیادہ ان پر نظر رکھنے کے لیے کھڑ ے ہوتے ہیں کہ لوگ چیزیں جیب اور پرس میں نہ ڈال لیں ۔ یہاں اسٹاف بھی بہت کم تھا۔ اس کی وجہ عاطف نے یہ بتائی کہ لیبر یہاں کافی مہنگی ہے ۔ ادائیگی کے وقت بھی یہی ہوا۔ عاطف نے ساری چیزیں خود ہی ا سکین کیں ۔ خود ہی بل بنایا اور خود ہی ادائیگی کر لی۔ میں نے پوچھا کہ ساری چیزیں لوگوں پر چھوڑ نے سے کیا لوگ ڈنڈی نہیں مارتے ۔ انھوں نے کہا کہ عام طور پر لوگ نہیں کرتے ۔ جو تھوڑ ا بہت کچھ ہوتا ہو گا اس کے مقابلے میں مستقل لیبر کو رکھنے کی قیمت زیادہ ہے ۔ لیکن میرے نزدیک اصل وجہ یہی ہے کہ لوگ زیادہ تر ڈنڈی نہیں مارتے ورنہ کوئی کاروباری شخص اس طرح مستقل نقصان اٹھانا گورا نہیں کرسکتا۔

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔

ٰ فرخ صاحب کے ہاں

یہ شام اور اگلا دن فرخ صاحب کے نام رہا۔بلکہ ایڈیلیڈ کا سفر بھی ان کے ساتھ ہی ہوا۔ فرخ صاحب المورد آسٹریلیا کے ٹریژری اور پیشے کے لحاظ سے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ تھے ۔ انھوں نے دفتر سے چھٹیاں لے لی تھیں جس کے بعد ان کے ساتھ کافی وقت گزرا۔ آج رات کا ڈنر ان کے گھر پر ہی تھا۔انھوں نے ڈنر کا انتظام گھر کے لان میں کیا تھا کیونکہ مہمانوں کی تعداد زیادہ تھی، مگر سردی کے پیش نظر کھانا اندر ہی پیش کیا گیا ۔مہمانوں میں المورد آسٹریلیا کے احباب کے علاوہ فرخ صاحب کے بعض ذاتی دوست نیز سڈنی میں پاکستانی قونصل جرنل ماجد صاحب بھی تشریف لائے تھے ۔ حسب دستور انواع و اقسام کے کھانے موجود تھے ۔ میرے لیے خاص طورپر پالک پنیر کی ڈش تھی۔فرخ صاحب کی اہلیہ نے جتنے اچھے کھانے بنائے تھے اتنے ہی اچھے سوالات کیے ۔ان کے لیے سوالات کی یہ نشست الگ سے رکھی گئی تھی۔ جبکہ کھانے کے بعد ذوالفقار صاحب کے کہنے پر میں نے مہمانوں کے سامنے کچھ گفتگو بھی کی۔

میں نے اپنی گفتگو میں ہر جگہ چند ہی چیزوں کو نمایاں کیا اور میرے قارئین جانتے ہیں کہ اپنی پوری دعوتی زندگی میں ہر موقع پر ہزار اسلوب میں بھی میں یہی چند باتیں کہتا ہوں ۔ یعنی لوگ ایمان و اخلاق کو اپنی زندگی بنالیں ۔اس لیے کہ آخرت میں نجات اور دنیا میں قومی غلبے کا راستہ یہی ہے ۔ دوسروں کا احتساب کرنے کے بجائے اپنا احتساب کریں اور دیکھیں کہ خواہشات اور تعصبات کے اسیر تو نہیں ہو چکے ہیں ۔ دوسرے کے حوالے سے اصل ذمہ داری ان کو صحیح بات پہنچانا ہے اور یہ اس دور میں نصرت دین کاوہ کام ہے جو خدا کی رضا کے حصول کا سب سے بڑ ا ذریعہ ہے ۔

اس موقع پر بھی اسی حوالے سے میں نے چند معروضات پیش کیں جنھیں مہمانوں نے بہت توجہ سے سنا۔ اللہ تعالیٰ ان سب کے علم و عمل میں برکت عطا فرمائے ۔(جاری ہے)

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 52 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزیدخبریں