سالِ نو پہ کیا عہد کریں!

سالِ نو پہ کیا عہد کریں!
سالِ نو پہ کیا عہد کریں!

  

عقلی آدمی کیلئے مجبوری یہ ہے کہ اُسے اپنے منہ سے نکلی ہوئی ہر بات کا جواز فراہم کرنا پڑتا ہے ۔ لوگ پوچھیں یا نہ پوچھیں ، جواز دئے بغیر خود اُس کی تسلی نہیں ہوتی ۔ اِسی سبب سالِ نو کے آغاز پر فیض احمد فیض کی ’آئیے ہاتھ اٹھائیں ‘ دہراتے ہوئے انجانا سا خوف محسوس ہو رہا ہے ۔ جنرل ایوب کے عہدِ اقتدار کے آخری دنوں میں فیض کے منہ سے جب یہ الفاظ نکلے تو ’ہم کہ ٹھہرے اجنبی ‘ میں اُن کی بیٹی سلیمہ ہاشمی سے منسوب تحریری تاثرات کے مطابق یہ ماننا پڑا کہ ’’میرے ڈیڈی کمال کے آدمی ہیں ۔

ایک دن سویرے سویرے سب کو اکٹھا کر لیا ۔ کہنے لگے دُعا مانگو۔۔۔سب حیران تھے ڈیڈی کو کیا ہو گیا ہے ۔ نہ آگے نہ پیچھے ، یہ آج انہیں دُعا کی کیا سوجھی ۔ مَیں نے کہا ڈیڈی نماز تو پڑھی نہیں ، پھر دُعا کیوں مانگیں۔بس ڈیڈی کسی کی سنتے تھوڑا ہی ہیں۔ نہ سرکار کی نہ پٹوار کی ‘‘۔

مَیں فیض احمد فیض نہیں ، نہ دور دور تک اِس کا کوئی امکان ہے، لیکن ایک تو سیالکوٹ کے تعلق سے وہ میرے شہردار ٹھہرے ۔ دوسرے اُن کے قید و بند کی شعری روئداد ’دستِ صبا‘ کی اشاعت اُس مرحلے پہ ہوئی،جو میری پیدائش کا سال اور مہینہ ہے۔

اصل نکتہ سمجھنے کے لئے وہ قصہ سنئے جب فیض احمد فیض ایک مشاعرے میں شرکت کے لئے خیرپور پہنچے اور انہیں شب باشی کے لئے ایک انجینئر صاحب کے بنگلے میں لے جایا گیا۔

چند اَور شعرائے کرام بھی ساتھ گئے ۔ انجینئر صاحب اُس وقت گھر پہ نہیں تھے، چنانچہ مہمان کو اُن کے صاف ستھرے ڈرائنگ روم میں بٹھا دیا گیا ۔ صاحبِ خانہ گھر آئے تو فیض سے تعارف ہوا ۔

میزبان نے کوئی خاص نوٹس نہ لیا اور مصافحہ کرتے ہوئے صرف ’ہوں‘ پہ اکتفا کی۔پروفیسر شور علیگ،جو مہمان کے ہمراہ تھے ، اِس بے رخی پہ تلملا اُٹھے ، اور یہی کہانی کا خاص موڑ ہے۔

اچانک پروفیسر شور نے فیض کے بارے میں کہا کہ یہ بہت بڑے آدمی ہیں اور ’’پاکستان ٹائمز‘‘ کے چیف ایڈیٹر بھی ہیں ۔ انجینئر صاحب چونکے جیسے کوئی بچہ خواب میں پریشان ہو کر جاگ اُٹھے ۔ ’’آپ ’’پاکستان ٹائمز‘‘ کے چیف ایڈیٹر ہیں؟‘‘ فیض نے کہا ’’جی ہاں‘‘ ’’مگر وہ تو انگریزی کا اخبار ہے‘‘ ۔ ’’جی ہاں‘‘ ۔

’’لیکن آپ مشاعرے میں تشریف لائے ہیں‘‘ ۔ ’’جی ہاں‘‘ ۔ ’’تو آپ اردو میں شعر کہہ لیتے ہیں ؟ ‘‘ ’’جی ہاں‘‘ ۔ ’’ مگر یہ اخبار تو بہت بڑا ہے ۔ اس کے کام سے فرصت تو کم ہی سے ملتی ہو گی‘‘ ۔ جواب ملا ’’جی ہاں‘‘۔ پروفیسر شور دھڑام سے کرسی میں گرے اور خاموش ہو گئے۔ میزبان انجینئر بولے ’’فیض صاحب ، آپ کس چکر میں پڑ گئے ۔ کہاں ’’پاکستان ٹائمز‘‘ اور کہاں یہ شعر اور مشاعرہ ؟ آپ کیوں اپنا وقت برباد کرتے ہیں ؟ جائیں اخبار کو ٹھیک طریقے سے چلائیں ، یہ بہت بڑا کام ہے‘‘ ۔ فیض نے پھر کہا ’’جی ہاں‘‘ ۔

فیض احمد فیض کی زبان سے یہ کہانی جس کی تصدیق ڈاکٹر ایوب مرزا نے کی ، ممکن ہے کہ بعض لوگوں کے نزدیک محض ایک لطیفہ ہو، لیکن خدا جانتا ہے کہ سمجھنے والوں کے لئے اِس میں بہت سی نشانیاں ہیں ۔ خاص طور پہ اُن صاحبانِ دانش کے لئے جن کے خیال میں گلاب کی اہمیت یہ ہے کہ اُس کی گُل قند بنتی ہے،جو پیٹ کی بیماریوں میں مفید ہے ۔

فیض تو ’’رخِ محبوب کے سیال تصور‘‘ میں بہہ جانے والے شخص تھے ۔ گُل قند کی افادیت کو کیا سمجھتے؟اِسی لئے تو دوسری عالمگیر جنگ ختم ہوتے ہی اڑھائی ہزار روپے ماہوار کی کرنیلی آئی ایس پی آر کو واپس کر کے ڈائریکٹر آف ایجوکیشن لاہور کے پاس چلے آئے کہ پانچ سو روپے ماہانہ کے عوض ہماری لیکچر شپ ہمیں لوٹا دیجیے ۔ ڈائریکٹر چیٹر جی صاحب نے ساڑھے تین سو کی پیشکش کرتے ہوئے کہا تھا ’’پانچ سو تو مجھے ملتے ہیں ، تمہیں کیسے دلا دوں!‘‘

انگریزی اخبار کا مدیر اردو میں شاعری کیوں کرتا رہا ؟ کیا اس لئے تو نہیں کہ اداریہ نویسی یک رخی منطق کا شاخسانہ تھی اور شعر گوئی اپنے لخت لخت وجود کو یکجا کر لینے کا بہانہ ؟ ایک ایسی ہمہ گیر سرگرمی جو ناممکن کو ممکن کے دائرے میں لے آنے کی کوشش ہے اور اِس عمل میں تخلیق کار کو وہ کچھ بنا دیتی ہے جو وہ نہیں ہوتا ۔ یہیں پہنچ کر غالب کی صریر خامہ نوائے سروش میں ڈھلنے لگتی ہے ۔

انسان طبعی اکائی نہیں رہتا، تخیلاتی وجود میں بدل جاتا ہے۔ محرومیاں شادکامیاں بن جاتی ہیں ۔ جبر انصاف کی دہلیز کی طرف چل پڑتا ہے اور فیض کے یہ خواب معتبر دکھائی دینے لگتے ہیں کہ ’’امن اور آزادی بہت حسین اور تابناک چیز ہے اور سبھی تصور کر سکتے ہیں کہ امن گندم کے کھیت ہیں اور سفیدے کے درخت ، دلہن کا آنچل ہے اور بچوں کے ہنستے ہوئے ہاتھ ، شاعر کا قلم ہے اور مصور کا موقلم ‘‘۔

فیض کی تخلیقی قوت کا حال تو یہ رہا کہ اُس کی آنکھ قطرے میں دجلہ دیکھتی تھی ، خواہ وہ قطرہ دریا کا ہو یا گلی کی بدرو کا ۔ اسی سبب تو قید و بند کی صعوبتوں میں درِ قفس پہ اندھیرے کی مہر لگتے ہی اُس کے دل میں ستارے اترنے لگتے تھے، لیکن ، جناب ، اگر خواب دیکھنا اور اُس کی تعبیر کی جد و جہد کو اپنی بقا کا حوالہ سمجھنا ہی زندگی ہے تو پھر اِس کے لئے ارفع و اعلی شاعر ی کی شرط کیوں ؟ خواب تو ہر انسان دیکھتا ہے ۔

متحدہ برصغیر کے شمال مغرب میں آج وہ نسل معدوم ہوتی جارہی ہے، جس کے اجتماعی شعور نے اپنے وقت کے ایک معروف و مقبول نجات دہندہ کی قیادت میں ایک علیحدہ وطن کا خواب دیکھا۔ ایک ایسا وطن جہاں خطے کے مسلمان ایک محفوظ ، پُرامن اور باوقار زندگی گزار سکیں ۔ تو کیا وہ خواب بکھر رہا ہے ؟ اور اگر بکھر رہا ہے تو کیا اس کی ریزگی سے ایک نئے معاشرے کا ہیولہ تخلیق نہیں کیا جا سکتا؟

جذباتی رنگ اختیار نہ کیا جائے تو یہ ایک اُلجھا ہوا سوال ہے ، جس کے بارے میں ٹاک شو تجزیہ کاروں کے بر عکس کم از کم مَیں یہ دعویٰ نہیں کروں گا کہ اِس کا حل ’’اینی ٹائم‘‘ میری جیب میں ہے ۔

حل بھی گھن گرج والا، جس کی افادیت ٹی وی کے ٹِکر جیسی ہوتی ہے ۔ جیسے ’’دو، چار ہزار بندے مار دو ، باقی ٹھیک ہو جائیں گے‘‘ ، ’’تمام سرکاری عمارتوں میں یونیورسٹیاں کھول دی جائیں تو مسائل کا خاتمہ یقینی ہے ‘‘ ، ’’کرپشن بے انصافی کی جڑ ہے ، اسے ختم کرو ‘‘ ۔

ایسا بھی نہیں کہ سب ماہرین تعلیم ، معیشت دانوں اور سیاسی مدبرین کے تجزیے سنجیدگی سے عاری ہیں یا سب کی حب الوطنی پہ شبہ کیا جا سکتا ہے ۔ تو گڑ بڑ ہے کہاں ؟ جان کی امان پاؤں تو عرض کروں کہ طبقاتی ، علاقائی اور شخصی بنیادوں پر تقسیم در تقسیم ہوتے ہوئے معاشرے میں ہمارے تجزیے صرف جزوی سچائیوں کی نشاندہی کر سکے ہیں۔

تو پھر مکمل سچائی کیا ہے؟مجھے مکمل سچائی کا پتا ہے، مگر اشارہ دیتے ہوئے ڈر لگتا ہے ۔ اِس لئے کہ دائمی طور پہ ’روندُو‘ درمیانے طبقہ کا آدمی ہوتے ہوئے بھی میرا مفاد تبدیلی کے عمل کو روکنے میں پوشیدہ ہے۔ مَیں نے سرکاری شعبے کے اداروں میں تعلیم حاصل کی، مگر عمودی حرکت پذیری سے فیض یاب ہو کر اپنے بچوں کو نجی سکولوں میں پڑھایا۔ اس دوران پیچھے مُڑ کر کبھی نہیں دیکھا کہ کہیں پتھر کا نہ ہو جاؤں ۔

میرے عزیز و اقارب سرکاری کھاتے میں ’سر چھپانے کی جگہ ‘ حاصل کر کے ہر سال تازہ بہ تازہ عمرے کی منصوبہ بندی کرتے رہتے ہیں اور ساتھ بار بار شکر بھی کہ اللہ کا دیا سب کچھ ہے ۔ مَیں خود ایک ایسی ’یونیورسٹی‘ سے معاوضہ ملنے کے انتطار میں ہوں جہاں ’ایڈوانسڈ براڈ کاسٹ جرنلزم ‘ کے فائنل امتحان میں اکسٹھ میں سے صرف دو امیدواروں کے پرچے ایسے تھے جن میں بالترتیب دو ، دو جملے گرامر کی رو سے درست پائے گئے ۔ ڈگری حاصل کرکے اُسے فیس بک پہ اچھالنے والوں کی تعداد دو سے کئی گنا زیادہ ہوگی۔

اچھا تو فیض احمد فیض کا روحانی مرید اور آپ کا کالم نویس اگر جُز وقتی استاد نہ ہوتا تو پھر اپنی عاقبت سنوارنے کے لئے کیا کر رہا ہوتا ؟ جی ، بطور وکیل کسی اعلیٰ عدالت میں پریکٹس کر رہا ہوتا ۔ پھر کیا ہوتا؟ پھر ۔۔۔ پھر۔۔۔پی سی او کے تحت حلف اٹھانے کا سوال تو نہیں تھا، مگر قومی خدمت کے طور پہ نہیں ، ذاتی ’بزتی‘ سے بچنے کے چکر میں ۔ اِس سے آگے ؟ اِس سے آگے ، فکر کس بات کی ۔

کتنے ہی جج ہیں،جو ہمارے ساتھ کالج میں پڑھتے رہے، دوستوں کے چھوٹے بھائی اور سسرالی رشتہ دار ان کے علاوہ ۔ ’’عام شہریوں کے لئے حصولِ انصاف کی خاطر فیِس تو آپ واجبی سی لیتے اور اُس پہ ٹیکس بھی ادا کرتے ؟‘‘ ’’بھائی، مَیں کوئی شیخ منظور قادر یا خالد اسحاق نہیں ہوں‘‘ ۔ انکم ٹیکس کے معاملے میں اپنے آج کے سینئرز کو فالو کرتا ہوں ، خواہ وہ کسی ترقی پسند پارٹی کے لیڈر رہے ہوں یا سینیٹ میں حزبِ اختلاف کے قائد ۔ ہاں ، سال کے سال فیض میلہ میں جا کر سب کے ساتھ ہم آواز ضرور ہوتا ہوں کہ :

آئیے ہاتھ اٹھائیں ہم بھی

ہم جنہیں رسمِ دعا یاد نہیں

ہم جنہیں سوزِ محبت کے سوا

کوئی بت ، کوئی خدا یاد نہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آئیے عرض گزاریں کہ نگا رِ ہستی

زہرِ امروز میں شیرین�ئ فردا بھر دے

وہ جنہیں تابِ گرانباریء ایام نہیں

ان کی پلکوں پہ شب و روز کو ہلکا کردے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عشق کا سرِ نہاں ، جانِ تپاں ہے جس سے

آج اقرار کریں اور تپش مِٹ جائے

حرفِ حق دل میں کھٹکتا ہے جو کانٹے کی طرح

آج اظہار کریں اور خلش مِٹ جائے

مزید :

رائے -کالم -