لاہور کی کرکٹ میں نئے دور کا آغاز

لاہور کی کرکٹ میں نئے دور کا آغاز

  

کلب

دنیا بھر میں کھیل کوئی بھی ہواس میں ترقی کرنے اور آگے بڑھنے کے لئے نوجوانوں کو ابتدائی طور پر گراس روٹ سطح پر سکول و کالج کے ساتھ ساتھ اس کھیل کی کلبز کا رخ کرنا پڑتا ہے اور دنیا بھر میں کلبز ہی ہر کھیل کے نمایاں کھلاڑی پیدا کرنے کی نرسری قراردئیے جاتے ہیں ۔کرکٹ پاکستان کا مقبول ترین کھیل ہے ،یہاں پر کلب کی سطح پر کر کٹ کا نظام بہت مضبوط تھا اور یہیں سے کئی سپر سٹارز نے خود کو منوایا مگر بدقسمتی سے 90کی دہائی کے آخرمیں کلب کرکٹ دم توڑنے لگی اور پھر لاہور جس کو کلب کرکٹ کی نرسری کہاجاتا تھا میں کوالٹی کلب کرکٹ بالکل دم توڑ نے لگی ۔گزشتہ برس لاہور ریجن کرکٹ ایسوسی ایشن کے انتخابات کے بعد لاہور میں کرکٹ کا ایک نیا دور شروع ہوا ایسے میں گولڈن سٹار کرکٹ کلب اور کینن فوم انڈسٹریز نے مل کر کرکٹ کو فروغ دینے کے لئے ایسٹ زون میں کوالٹی کرکٹ ٹورنامنٹ کروانے کا فیصلہ کیا ۔اس ٹورنامنٹ میں لاہور ایسٹ زون کرکٹ ایسوسی ایشن سے ملحقہ 59کلبوں کو شرکت کی دعوت دی گئی ۔ٹورنامنٹ کے تمام تر اخراجات کینن فوم انڈسٹریز اور گولڈن سٹار کرکٹ کلب انتطامیہ نے ادا کئے ۔گذشتہ 25سال میںیہ پہلا موقع ہے کہ کوئی سپانسر بغیر کسی لالچ کے کلب کرکٹ کے فروغ کے لئے میدان میں آیا ۔ایسٹ زون کی تاریخ کے سب سے بڑے ٹورنامنٹ کا فائنل ینگ لکی سٹار کرکٹ کلب اور گولڈن سٹار کرکٹ کلب کی ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا جس میں ینگ لکی سٹار نے گولڈن سٹارکرکٹ کلب کو 65رنز سے شکست دے کر ٹرافی اپنے نام کرلی۔ینگ لکی سٹارکرکٹ کلب کے بلے باز زبیر ملک اور گولڈن سٹار کرکٹ کلب کے فاسٹ باؤ لر اسد رضا کی شاندار باولنگ ایل سی سی اے گراونڈ پر ہونے والے اس میچ کی خاص بات تھی ۔گولڈن سٹار کرکٹ کلب کی دعوت پر ینگ لکی سٹار کرکٹ کلب نے پہلے کھیلتے ہوئے نو وکٹوں پر 259رنز بنائے ۔زبیر ملک 78،وقاص علی 74 اور سلمان فیاض 25رنز بناکر نمایاں رہے ۔گولڈن سٹارکر کٹ کلب کے اسد رضا نے 56رنز کے عوض چار ،زیاب خان نے 36رنز کے عوض دو ،عمران علی نے 53رنز کے عوض دو جبکہ ابرار احمد نے ایک کھلاڑی کو آؤت کیا ۔جواب میں گولڈن سٹار کرکٹ کلب کی ٹیم 32ویں اوور میں 194رنز بناکرآؤٹ ہو گئی ۔ابر ار احمد 39،عمران علی 38،مبشر غازی 26اور عزم الحق 16رنز بناکر نمایاں رہے ۔ینگ لکی سٹار کلب کے حیدر علی نے 32رنز کے عوض تین ،محمد عظیم نے30رنز کے عوض دو محمد علی 37رنز کے عوض دو جبکہ گلفام اکرم اور عمران ڈوگر نے ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا ۔میچ میں بہترین بلے بازی پر ینگ لکی سٹار کلب کے زبیر ملک مین آف دی میچ قرار پائے ۔ینگ لکی سٹارکے وقاص علی ٹورنامنٹ کے بہترین بلے باز،گولڈن سٹار کلب کے صداقت علی اور دھرمپورہ جم خانہ کلب کے رحمان قادر مشترکہ طور پر بہترین باولر ،گولڈن سٹارکے کپتان عزم الحق ٹورنامنٹ کے بہترین وکٹ کیپر بہترین آل راونڈر،ینگ لکی سٹار کے محمد عظیم ٹورنامنٹ کے بہترین ایمرجنگ باولر ،گولڈن سٹار کے اوپنر زوہیب امانت ٹورنامنٹ کے بہترین ایمرجنگ بلے بازاور گولڈن سٹار کلب کے کپتان عزم الحق پلئیرآف دی ٹورنامنٹ قرارپائے ۔چیف سلیکٹر انضمام الحق ،پاکستان اتھلیٹکس فیڈریشن کے صدر میجر جنرل ریٹائرڈ محمد اکرم ساہی ،ڈی جی سپورٹس پنجاب ندیم سرور،لاہور ریجن کے صدر شاہ ریز عبد اللہ خان روکھڑی ،سابق ٹیسٹ فاسٹ باؤلر شاہدنذیر ،راوافتخار انجم ،ٹیسٹ کرکٹر سلمان بٹ نے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کئے ۔کینن فوم چیلنج کپ کے فائنل سے لاہور کی کلب کرکٹ میں ایک نئے دور کا آغاز ہو افائنل میچ لاہور کی کرکٹ میں پہلی مرتبہ تھرڈ امپائر ،میچ ریفری کی تعیناتی کی گئی تو پہلی مرتبہ لاہور میں کلب کرکٹ کے میچ کی لائیواسٹریمنگ کی گئی۔لائیو اسٹریمنگ کے ذریعے سینکڑوں شائقین کرکٹ نے میچ انٹر نیٹ پر براہ راست دیکھا ۔فائنل کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے چیف سلیکٹر انضما م الحق نے کہا ہے کہ کلب کرکٹ کے بغیر ملک میں کرکٹ کا بھر پور عروج ممکن نہیں ہے ان کا کہنا تھا کہ کینن فوم چیلنج کپ سے لاہور کی کرکٹ کو ایک نئی جہت ملی ہے ،،،انضما م الحق کا کہنا تھا کہ کینن فوم چیلنج کپ کروانے پر گولڈن سٹارکر کٹ کلب اور کین فوم انڈسٹریز کی انتظامیہ کو مبار ک باد دیتے ہوئے ان کا شکریہ بھی ادا کرتا ہوں جنہوں نے کلب کرکٹ کے فروغ کی لئے یہ اہم قدم اٹھا یا ہے ۔انضما م الحق کا کہنا تھا کہ جب اس قسم کے ایونٹس تسلسل سے ہونے لگیں گے تو یقین ہے کہ کرکٹ ایک مرتبہ پھر عروج پر ہوگی ۔ان کاکہنا تھا کہ مجھ سمیت 80اور 90کی دہائی کے اوائل کئی کرکٹرز کلب کرکٹ ہی سے سامنے آئے اور دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہامنوایا ان کا کہنا تھا کہ کلب کرکٹ کی بحالی میں کینن فوم چیلنج کپ ایک سنگ میل ثابت ہو گا۔

*****

مزید :

ایڈیشن 1 -