عباسیہ لنک کینال ،غیر قانونی نہریں بند چیف جسٹس کا پانی چوروں کیخلاف فوری کاروائی کا حکم

عباسیہ لنک کینال ،غیر قانونی نہریں بند چیف جسٹس کا پانی چوروں کیخلاف فوری ...

  

رحیم یارخان(نمائندہ پاکستان)کسان بچاو تحریک رحیم یار خان کو بڑی کامیابی مل گئی،چیف جسٹس آف پاکستان نے محکمہ آبپاشی پنجاب،آئی جی پنجاب کو عباسیہ لنک کینال سے غیر قانونی طور پر پانی چوری کرنے والوں کے کاروائی کی ہدایت کر دی ہے۔تفصیل کے مطابق کسان بچاو تحریک ضلع رحیم یار خان جنوبی پنجاب کی طرف سے چیف جسٹس آ ف پاکستان میاں ثاقب نثار کی عدالت میں کیس دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ضلع رحیم یار خان کو پانی فراہم کرنے والی بڑی نہر عباسیہ لنک کینال سے چنی گوٹھ تا ہیڈ قاسم ولا تک 104غیر قانونی نہروں کے زریعے بہاولپور ضلع کی حدود میں واقع چولستان کے(بقیہ نمبر43صفحہ7پر )

ہزاروں ایکڑ رقبہ جسے شوگر ملز مالکان، متعددممبران قومی و صوبائی اسمبلی اور بااثر شخصیات نے گنے کے فارموں کے لیے استعمال کر رکھا تھا کوسیراب کیا جا رہا ہے،عرصہ دس سال سے چولستان کے غیر منظور شدہ پانی کے حامل ان ہزاروں ایکڑ زرعی رقبہ کو سیراب کرنے کے لیے ضلع رحیم یار خان کی سالانہ نہروں کے لیے منظور پانی میں سے 2ہزار کیوسک تک بڑی پانی کی چوری کی وجہ سے تحصیل رحیم یار خان،صادق آباد اور خانپور کے لاکھوں کاشت کار بری طرح متاثر ہوئے اور ان تینوں تحصیلوں میں ساڑھے چھ لاکھ ایکر رقبہ پر نہری پانی نہ ملنے کی وجہ سے خریف اور ربیع کی فصلیں کاشت نہیں ہو سکیں،گذشتہ روز لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس آف پاکستان نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے سیکرٹری آبپاشی پنجاب سے رپورٹ کی،اس رپورٹ میں محکمہ آبپاشی نے اعتراف کیا کہ عباسیہ لنک کینال سے پانی چوری کیا جا رہا ہے،جس پر چیف جسٹس آف پاکستان نے آئی جی پنجاب،آرپی او بہاولپور،کمشنر باولپور اور محکمہ آب پاشی پنجاب کو فل فور غیر قانونی نہروں کو بند کرنے کے ساتھ ساتھ پانی چوری میں ملوث عناصر کے خلاف کاروائی کرنے کی ہدایت کی،سماعت کے موقع پر کسان بچاو تحریک کے صدر چوہدری نصیر وڑائچ،جنرل سیکرٹری چوہدری انیس اقبال،سابق ممبر صوبائی اسمبلی چوہدری محمود الحسن چیمہ،چوہدری خالد وڑائچ و دیگر کاشت کار رہنما موجود تھے،ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے صدر کسان بچاو تحریک چوہدری نصیر وڑائچ نے کہا کہ ہیڈ پنجند تا قاسم والا عباسیہ لنک کینال پر کوئی موگہ یا نہر منظور نہیں ہے،پچھلے دس سال سے 104غیر قانونی نہروں،ٹیوب ویلوں اور مختلف مقامات پر کٹ لگا کر پانی کی چوری کا سلسلہ جاری تھا،یہ پانی چور کوئی عام لوگ نہیں بلکہ شوگر مل مالکان اور سیاسی لوگ تھے،اس ظلم زیادتی کے خلاف متاثرہ کاشت کاروں نے محکمہ آبپاشی پنجاب سمیت تما م انتظامی آفیسران کو درخواستیں دی،پنجاب اسمبلی میں بھی آواز بلند کی گئی،لیکن شنوائی نہ ہو ئی،ضلع رحیم یار خان کے کاشت کار چیف جسٹس آف پاکستان کے مشکور ہیں جنہوں نے تباہ حال کاشت کاروں کی فریاد سنی اور بڑے پانی چوروں کے خلاف کاروائی کی ہدایت کی۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -