ملتان ’’گاغذوں میں تزئین و آرائش مکمل‘‘ مزارات ٹوٹ پھوٹ کا شکار ،زائرین غیر محفوظ ،محکمہ اوقات کا فنڈز پر ’’فاتحہ‘‘

ملتان ’’گاغذوں میں تزئین و آرائش مکمل‘‘ مزارات ٹوٹ پھوٹ کا شکار ،زائرین ...

  

ملتان( سٹی رپورٹر) 2018 گزر گیا مگر محکمہ اوقاف کی روش نہ بدلی سال بھر میں مزارات تزئین وآرائش سے محروم رہے ، ہفتہ وار کیش باکس اوپننگ سے سرکل 1 اور سرکل 2کو 3 سے 4لاکھ آمدن حاصل ہوتی رہی عرس کے دنوں میںیہ کئی گنا بڑھی سالانہ فنڈز الگ سے مختص ہوئے مگر مزارات کی حالت زار نہ بدل سکی ، محکمہ اوقاف نے محض کیش باکس اوپننگ سے ہی 60 سے 70 لاکھ کے قریب آمدن ہوئی ، سال 2018 میں محکمہ اوقاف قبضہ مافیا سے(بقیہ نمبر51صفحہ7پر )

اپنا محکمانہ رقبہ بھی واگزارکرانے میں ناکام رہا محکمہ اوقاف کے 1 ہزار ایکڑ سے زائد بدستور قبضہ مافیا کے زیر استعمال ہے ، محکمہ اوقاف سرکل 3 مزا ر حضرت مخدوم رشید حقانی ؒ کا 61 ایکڑ رقبہ واگزار کرایا گیا ،جبکہ حضرت شاہ شمسؒ ،دربار شید ی لعلؒ ، دربار بابا قمرالدینؒ ، دربارحافظ جمال ؒ کے رقبہ ، مکانات ، دوکانوں سے محکمہ اوقاف قبضہ واگزار کرانے میں ناکام رہا اور اس کی وجہ سیاسی مداخلت ، قبضہ گروپوں کو سیاسی پشت پناہی کا ہونا ہے، دربار حافظ جمال ؒ کے رقبہ ، مکانات اور دوکانوں کا قبضہ واگزار کرانے کے احکامات سپریم کور ٹ کی جانب سے بھی جاری ہوئے مگر پھر بھی اوقاف انتظامیہ نے قبضہ واگزار نہ کرایا ،2018ریونیو کے حصول ، مالی ٹارگٹ کے حوالے سے پنجاب کے دیگر زون سے ملتان زون کئی گنا آگے رہا مگر اس کے باوجود اسلامی فن تعمیر کے اہم شاہکار اور جسے اقوام متحدہ کے عالمی ورثہ کے ادارے یونسیف نے اہم تاریخی ورثہ قراردیا ہے مزار حضرت شاہ رکن عالمؒ کی تزئین وآرائش کی طرف کوئی وجہ نہ دی گئی ، مزارحضرت بہاالدین زکریاؒ کے ناہموار فرش ، خستہ حال برآمدہ کی اصلاح احوال پر محکمہ نے کوئی توجہ نہ دی ،کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ میں بھی ریکارڈ مکمل نہ محفو ظ بنایا جاسکا ، مزارات پر خانقاہی سسٹم کی بحالی کے دعوے بھی ادھورے رہ گئے ، قبضہ مافیا کے خلاف کاروائیوں کے لئے بہت سے احکامات جاری ہوئے کئی ایک اجلاس ہوئے مگر عملی اقدام صفر رہے ، البتہ عرس کے موقع پر اوقاف انتظامیہ زائرین کے لئے خاطر خواہ اقدامات کرنے میں کامیاب رہی جبکہ مزارات ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکے ہیں ۔

ٹوٹ پھوٹ

مزید :

ملتان صفحہ آخر -