عدالتی نظام میں اصلاحات لائی جارہی ہیں ، سلطان محمدخان

عدالتی نظام میں اصلاحات لائی جارہی ہیں ، سلطان محمدخان

  

چارسدہ(بیورو رپورٹ) صوبائی وزیر قانونی بیرسٹر سلطان محمد خان نے کہا ہے کہ عدالتی نظام میں اصلاحات لا رہے ہیں ۔دیوانی مقدمات پچاس سالوں میں حل نہیں ہوتے تھے لیکن اب ایسے مقدمات ایک سال کے اندرنمٹانے کا قانون صوبائی اسمبلی سے پاس کر لیا ہے۔ پولیس اور عدلیہ کے علاوہ دیگر تمام اداروں کا دائرہ اختیارصوبے میں ضم ہونے والے علاقوں تک بڑھایا گیاہے ،عدلیہ اور پولیس کا نظام فاٹا تک بڑھانے پر تیزی سے کام ہو رہا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چارسدہ میں پیر کے دن سے شروع ہونے والے بارہ روزہ" ایکس ٹنسیو آوٹ ریچ " مہم کے افتتاح کے موقع پر کیا ،اس موقع پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر فیاض خان ،ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر فضل ربی ،ای پی آئی کوآرڈنیٹر ڈاکٹر فیروز شاہ اور محکمہ صحت کے دیگر افسران بھی موجود تھے۔بارہ روزہ خصوصی مہم کا دورانیہ گیارہ جنوری تک جاری رہے گا جس میں دو سال تک کے عمر کے ان بچوں کومختلف بیماریوں سے بچاؤ کے خفاظتی ٹیکے لگائے جائینگے جو اس سے پہلے مہمات میں ویکسنیشن سے رہ گئے ہوں ۔انہوں نے کہا کہ پورے صوبے میں اس حوالے سے 2700ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔مہم کے افتتاح کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوتے صوبائی وزیر قانونی بیرسٹر سلطان محمد خان کا کہنا تھا کہ حکومت نے پہلے 100دنوں میں بہترین حکمرانی اور عوام کے فلاح اور ادروں کی اصلاح کیلئے منصوبہ بندی مکمل کر لی ہے جس پر آئندہ پانچ سال تک عمل درآمد کیا جائیگا۔ ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیرقانون کا کہنا تھا کہ صوبے میں نیب مضبوط ادارہ بن چکا ہے اس لئے اب صوبائی احتساب کمیشن کی ضرورت نہیں ،احتساب کمیشن کے پاس موجود تمام کیسز کو محکمہ انٹی کرپشن اور نیب منتقل کیا گیاہے ۔ نیب سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد ادارہ ہے ، محکمہ انٹی کرپشن اور نیب کرپشن کے حوالے سے تمام مقدمات میرٹ پر نمٹائے گی۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ سے مشاورت کے بعد ہم عدالتی نظام میں اصلاحات کر رہے ہیں۔ پہلے دیوانی مقدمات پچاس سالوں تک چلتے تھے اور مقدمات کی پیروی کرتے کرتے جوان لوگ بوڑھے ہو جاتے لیکن اب ایسے مقدمات کو ایک سال کے اندر نمٹانے کا قانون پختون خواسمبلی سے پاس کر چکے ہیں۔ حکومت ،عدلیہ اور وکلاء برادری کی باہمی تعاون سے دیوانی مقدمات کے فیصلہ ایک سال میں کرانا ممکن بنایا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ 2019میں فاٹا میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات ہونگے جس کے بعد وہاں پر بلدیاتی نظام بھی رائج کیا جائے گا جس سے وہاں کے عوام کے محرمیوں کا ازالہ کیا جائے گا اور ان کے مسائل ان کے دہلیز پر حل کئے جائینگے ۔اس موقع پر ان کا مزید کہنا تھا کہ عوا م کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی پی ٹی آئی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں اس لئے صوبے کے تمام اضلاع کی ضلعی سطح پر قائم ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتالوں کو ہر قسم کے سہولیات سے لیس کیا جائے گا تاکہ مریضوں کو پشاور کے بڑے ہسپتالوں میں منتقل ہونے کی ضرورت نہ پڑے ۔انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی جانب سے ڈیوٹی کے دوران کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ بڑے ہسپتالوں کے ساتھ ساتھ یونین کونسل کے سطح پر قائم بی ایچ یوز اور آر ایچ سیز کو بھی مکمل فعال بنایا جائے گا۔ اس موقع پر ڈی ایچ او فیاض خان نے حصوصی مہم کے حوالے سے بتایا کہ جن والدین نے اپنے دو سال کے عمر کے بچوں کو خفاظتی ٹیکے نہیں لگوائے ہیں ان کے لئے بارہ روزہ خصوصی مہم میں بچوں کو نمونیہ،تپ دق،حناق ،تشنج خسرہ اور دیگر بیماروں سے بچاؤ کے خصوصی ٹیکے لگائینگے ۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -