نشتر ہسپتال ،ادویات خریداری ،1ارب سے زائد کرپشن کا انلشاف ،ذمہ داروں کا گھیرا تنگ ،جلد گرفتاریاں

نشتر ہسپتال ،ادویات خریداری ،1ارب سے زائد کرپشن کا انلشاف ،ذمہ داروں کا ...

  

ملتان (وقائع نگار) اینٹی کرپشن ملتان نے ایم ایس نشتر ہسپتال کی گرفتاری کیلئے ڈی جی اینٹی کرپشن سے اجازت طلب کر لی ہے اور معلوم ہوا ہے کہ ڈی جی نے اجازت دے دی مگر انہوں نے عدالت سے عبوری ضمانت دوبارہ کروا لی ہے دوسری جانب اینٹی کرپشن نے نشتر ادویات خریداری میں گھپلوں کی انکوائری کے دوران مزید کرپشن پکڑ لی ہے،ذرائع کے مطابق خوردبرد کی گئی رقم کی مالیت کروڑوں سے بھی بڑھتی نظرآرہی ہے،انکوائری (بقیہ نمبر17صفحہ12پر )

کے دوران سالانہ بجٹ سے زیادہ ادویات کی خریداری کا ریکارڈ اینٹی کرپشن کو مل گیاہے، یہ بات سامنے آئی ہے کہ جن برسوں کیلئے خریداریاں کی گئی ہیں ان برسوں کے دورا ن مریضوں کی تعداد میں کوئی اضافہ نہیں ہوا،اینٹی کرپشن نے نشتر کے ان وارڈز کیلئے ریکارڈ خاص طور پر چیک کیا ہے جن کے مریضوں کیلئے مہنگی ادویات منگوائی جاتی ہیں ا ن میں ہڈی جوڑ،14 نمبراور کینسر وارڈ شامل ہیں جہاں مریضو کیلئے لاکھوں مالیت کی ادویات لگتی ہیں،کینسر کے مریضو ں کو 10سے 28ہزار تک کے ٹیکے لگتے ہیں تاہم اب تک کے ریکارڈ کے مطابق کسی مریض کو نشتر کی طرف سے ڈسچارج سلپ میں ادویات دینا تو لکھا گیاہیتاہم کسی تمام خریداری نشتر سے باہر کے مریضوں کیلواحقین سے کرائی گئی ہے جن میں چند نے اپنے بیانات بھی اینٹی کرپشن کو دیدیے ہیں۔ میڈیسن وارڈ میں بھی ادویات کی خریدار ی کے معاملات اسی نوعیت کیسامنے آرہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ نشتر ادویات خریداری کیس میں ہونیوالی کرپشن کی رقم ارب روپے سے زائد ہوسکتی ہے۔دوسری جانب اینٹی کرپشن ملتان نے اثاثہ جات کے کیس میں بھی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے معلوم ہوا کہ جن افسران کے خلاف مقدمات درج ہیں ان کے کروڑوں روپے کے اثاثہ جات ہیں جن کے بارے میں تحقیقات کی جارہی ہیں اور یہ اثاثہ جات ان کے عزیزوں کے نام ہیں ڈائریکٹر کی جانب سے ان اثاثہ جات کے بارے میں اینٹی کرپشن کو مطمین نہیں کیا جا سکا ہے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -