وزیراعلیٰ کا سابق فاٹا اور پاٹا میں اکنامک زون قائم کرنے کے امرکا انکشاف

وزیراعلیٰ کا سابق فاٹا اور پاٹا میں اکنامک زون قائم کرنے کے امرکا انکشاف

  

پشاور( سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے سابق فاٹااورپاٹا میں اکنامک زون قائم کرنے کے امر کا انکشاف کیا ہے انہوں نے کہا کہ وہ افغانستان سے وسطی ایشیا کی طرف روڈ کمیونیکیشن اوپن کرنے پر کام کر رہے ہیں تا کہ اس خطے کو سی پیک کے تناظر میں معاشی حب بنایا جا سکے وہ وزیر اعلی ہاؤس پشاور میں اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔وزیر اعلی کے مشیر عبدالکریم ،ایس ایس یو کے سربراہ صاحبزادہ سعید،سیکرٹری صنعت،کمشنر پشاور شہاب علی شاہ نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں صوبے کے میگا پراجیکٹس پر تبادلہ خیال کیا گیاجن میں رشکئی انڈسٹریل زون پر کنسیشنل ایگریمنٹ اور اسکے فنانشل ماڈل کو حتمی شکل دینے اور وہاں انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ،بجلی اور زرعی پیداوار کے لیے سی آر بی سی کو فعال و متحرک کرنے،ہزارہ اور ملاکنڈ ڈویژن میں پن بجلی کی پیداوار،وہاں تیز رفتار صنعت کاری کے لیے سستی بجلی کی فراہمی،رشکئی ، حطاراور ڈی آئی خان کے اکنامک زون میں گیس سے بجلی پیدا کرنے،ٹراؤٹ مچھلی کی پیداوار بڑھانے،سابق فاٹا میں ماڈل ویلج کے قیام،طور خم اور غلام خان کسٹم سپورٹیڈ ٹرمینل کے قیام سمیت دیگر متعلقہ مسائل شامل ہیں۔اجلاس میں متعدد فیصلے کئے گئے اور مذکورہ منصوبوں کو عمل درآمد کے مرحلے میں ڈالنے کیلئے لائحہ عمل طے کیا گیا۔ اجلاس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے رشکئی اکنامک زون کے لئے فنانشل ماڈل کو حتمی شکل دینے اور اس سلسلے میں کنسشینل ایگرمنٹ جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی ۔ انہوں نے کہاکہ رشکئی اکنامک زون کے تمام پیشگی تقاضے مکمل احتیاط اور انہماک کے ساتھ پورے کئے جائیں تاکہ 15 جنوری2019 تک وفاقی حکومت سے منظوری لی جا سکے ۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ سی آر بی سی کو ڈی آئی خان، حطار اور رشکئی اکنامک زون میں 225 ایم ایم سی گیس سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کے لئے سی آر بی سی کو بھی فعال کیاجائے۔ محمود خان نے ملاکنڈ ڈویژن میں مقامی سطح پر پیدا ہونے والی بجلی ملاکنڈ ڈویژن میں ہی فوڈ پروسسینگ ، ایگر وبیسڈ صنعتکاری اور سیاحت کی سرگرمیوں کیلئے فراہم کرنے کا پلان وضع کرنے کی ہدایت کی ۔ انہوں نے کہاکہ سی پیک کی وجہ سے مختلف نوعیت کے چیلنجز سے بھی سامنے آئے ہیں اسلئے ان چیلنجز کو پورا کرنے کیلئے ہمارے پاس عزم اور طریقہ کار ہونا چاہیئے۔ ہم اس سلسلے میں ماہر افرادی قوت پیدا کرنے کیلئے نوجوانوں کو تربیت دیں گے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ سابق فاٹا کے نئے اضلاع کو بھی سی پیک فارمولہ کے تحت ایک اکنامک زون ملے گا۔ اسلئے سرکاری ادارے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے تمام ضروری اقدامات اُٹھائیں ۔ انہوں نے نئے قبائلی اضلاع میں ماڈل ویلج کے قیام کیلئے مناسب ویلج کی نشاندہی کی بھی ہدایت کی ۔ محمودخان نے کہاکہ دیر پا امن اقتصادی بڑھوتری کا بنیادی تقاضا ہے ۔ امن اس خطے میں واپس آچکا ہے ۔ اسلئے اس خطے کا مستقبل بڑا شاندار ہے۔ انہوں نے شرکاء سے کہاکہ وہ سی پیک کے تناظر میں بڑھتے ہوئے مواقع کیلئے اپنے آپ کو تیار کریں ۔ یہ خطہ بشمول نئے قبائلی اضلاع صنعت و تجارت کا مرکز بننے جارہا ہے ۔ حکومت سرمایہ کاروں کو ون ونڈ آپریشن کی سہولت فراہم کرے گی ۔ انہوں نے آئی ٹی اور ایس ٹی ڈیپارٹمنٹ سے کہاکہ وہ اس سلسلے میں ایک مربوط ڈیش بورڈتیار کریں تاکہ صوبے میں صنعتکاروں ، تاجروں اور سرمایہ کاروں کو ون ونڈ آپریشن کی سہولت دی جا سکے ۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -