میرا امتحان شروع ہوچکا،نتیجہ ریٹائرمنٹ پر نکلے گا ،چیف جسٹس،سپریم کورٹ نے بلدیاتی نمائندوں کو اختیار اور فنڈز نہ دینے کا نوٹس لے لیا

میرا امتحان شروع ہوچکا،نتیجہ ریٹائرمنٹ پر نکلے گا ،چیف جسٹس،سپریم کورٹ نے ...

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ اپنے دور میں جووعدے کئے انہیں پورے کرنے کی کوشش کی،اب یہ قوم فیصلہ کرے گی میں کس حد تک کامیاب رہا،میں اپنے دور میں تین گھنٹے سے زیادہ نہیں سویا،سروسز انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کی کانووکیشن میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کا امتحان شروع ہوچکا ہے، جس کا نتیجہ ان کی ریٹائرمنٹ پر نکلے گا۔میں صحت کے شعبہ میں خیبر پختونخوا میں وہ کام نہیں کرسکا جو پنجاب اور سندھ میں کیاہے۔چیف جسٹس نے اپنے خطاب میں اس بات کی وضاحت بھی کی کہ انہوں نے مختلف معاملات پر ازخود نوٹس لے کر اختیارات سے تجاوز نہیں کیا،عدالتوں کو آئین کے مطابق فیصلہ کرنا ہوتاہے ،انہوں نے مزیدکہا کہ میں نے اپنی پوری زندگی انصاف کے حصول کے لئے کام کیا ہے، میری زندگی کا مقصد ہمیشہ اپنے پیشے سے مخلص رہنا ہے،پیشہ ورانہ زندگی میں خلوص نیت سے ذمہ داری نبھانا ہی اصل خدمت ہے، میرا امتحان شروع ہوچکا ہے، جس کا نتیجہ میری ریٹائرمنٹ پر نکلے گا،زندگی بامقصد ہونی چاہیے، کیڑے مکوڑے کی طرح بے مقصد نہیں،چیف جسٹس نے کہا کہ ہر شخص کو زندہ رہنے کا حق ہے ،اس حوالے سے طب کے شعبہ پرسب سے زیادہ ذمہ داری ہے، ڈاکٹر حضرات کو چاہیے کہ اپنے حلف کی صحیح پاسداری کریں،ایک ڈاکٹر بننے کے لئے سرکار کے بہت پیسے لگتے ہیں ، ڈاکٹر بننے کے بعد اگر خواتین ہاؤس وائف بن جائیں گی تو اپنے حلف کی خلاف ورزی کریں گی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہسپتالوں کو چلانا میرا یا عدالتوں کا کام نہیں تھا لیکن وہاں پر غلطیاں ہو رہی تھیں، اداروں کی غلطیوں کا سدباب کرنا عدلیہ کی قانونی ذمہ داری ہے ،میں نے کسی ایک ہسپتال کے انتظامی معاملات میں مداخلت نہیں کی،انہوں نے کہا کہ میں 8 برس کی عمر میں اپنی والدہ کو تانگے پر بٹھا کر ڈاکٹر کے پاس لے کر جاتا تھا اور کئی کئی گھنٹے تک ڈاکٹروں کے پاس جا کر بیٹھا رہتا تھا،انہوں نے بتایا کہ بیماری کی حالت میں میری ماں نے رات کو ایک بجے بلا کر مجھے اور میرے بھائی کو انسانیت کی خدمت کی نصیحت کی اور دعا کی اے اللہ جو تکلیفیں تونے مجھے دے دیں، میری اولاد کو ان سے محفوظ رکھنا،وہ دن بھی یاد ہے ایک دن والدہ کو الیکٹرک شاک دینا پڑا ، جو شخص کسی عذاب سے گزرتا ہے، اسے دوسرے کی تکلیفوں کا احساس ہوتا ہے، میں نے بھی والدہ کی نصیحت کو پلے سے باندھ کر اپنی زندگی کا مشن شروع کیا۔آج یہ تسلیم کرتا ہوں کہ کے پی میں صحت کے شعبے میں اس طرح کام نہیں کیا ،پنجاب اور سندھ میں ہسپتالوں میں بہت کام کروایا ہے ،صحت کے شعبے میں خیبرپختونخوا میں جو کرنا چاہ رہا تھا، نہیں کرسکا لیکن پنجاب اور سندھ میں صحت کے شعبوں میں تبدیلیاں آئی ہیں،چیف جسٹس نے کہا کہ نجی میڈیکل کالج اورہسپتال تعلیم گاہیں نہیں بلکہ بزنس سینٹر بن چکے ہیں، انہوں نے واضح کیا کہ وہ تمام نجی ہسپتالوں کی نہیں، مخصوص اداروں کی بات کر رہے ہیں،مجھے ملک کے ہر کالج اورہر ہسپتال کے ساتھ محبت ہے، میری محبت یکطرفہ نہیں، دوطرفہ ہے،چیف جسٹس نے بتایا کہ انہوں نے اپنے ازخود نوٹس کیسوں کے حوالے سے کہا کہ میں نے نوٹس لے کر نجی میڈیکل کالجوں کی لاکھوں روپے فیس میں سے 726 ملین روپے بچوں کو واپس دلوائے،ہمیں اپنے وسائل کو تعلیم پر لگانا چاہیے،کسی بھی قوم یا معاشرے کی ترقی وخوشحالی کے لئے تعلیم بنیادی درجہ رکھتی ہے اور میری ہمیشہ سے کو شش رہی کہ تعلیم کے فروغ کے لئے اپنی ذمہ داریاں پوری کروں،میں ہمیشہ اس بات پر زور دیتا ہوں کہ ہمیں اپنے وسائل کو تعلیم پر لگانا چاہیے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ملک کی آبادی بڑھ رہی ہے اور وسائل کم ہوتے جا رہے ہیں،30 سال بعد آبادی 45کڑور تک ہوجائے گی ، آج پاکستان میں پیدا ہونے والا ہر بچہ ایک لاکھ، 21 ہزار روپے کا مقروض ہے،آنے والے دنوں میں پانی اور اناج کی کمی دیکھ رہاہوں ،آبادی کا جوسیلاب آرہا ہے ، وسائل اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔خطاب کے دوران چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا پانی کی کم یابی کے معاملے پر بات کرنا غلط ہے؟ کیا صاف پانی کے مسئلے پر ازخود نوٹس لینا میرے دائرہ اختیار میں نہیں آتا؟ہمیں پانی سے لے کر ادویات کی حد تک ہمیں کوشش کرنا ہوگی کہ بہتری لائیں۔چیف جسٹس نے مزید کہا کہ اپنے دور میں تین گھنٹے سے زیادہ نہیں سویا،انہوں نے انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ کو مخاطب کرکے کہا کہ ڈاکٹر صاحب !آپ نے اپنی محبت کے اظہار میں امتیازی سلوک کیا اورکہا کہ میں صرف سمز سے محبت کرتا ہوں ،چیف جسٹس نے کہا یہ ایک قاضی کو زیب نہیں دیتا،میں توہر میڈیکل کالج کے ساتھ ہوں، بلوچستان گیا کہ تو پتہ چلا کہ ہسپتال میں الٹراساونڈ سمیت دیگر آلات نہیں تھے،وزیر اعلیٰ بلوچستان کے ساتھ بڑے ہسپتال گئے تو پتہ چلا وہاں ہڑتال چل رہی ہے ،مجھے مشورہ دیا گیا کہ وہاں نہ جائیں لوگ غصے میں ہوں گے لیکن میں پہنچااورمیری درخوسست پر ڈاکٹروں نے ہڑتال ختم کی ،ان کے مطالبات کو منظور کروایا،انہوں نے کہا کہ ہمارے پرائیوٹ کالجز میں ڈاکٹر پیدا نہیں کئے جارہے،سرجن جنر ل پاکستان نے کہا تھا کہ پرائیوٹ ہسپتال سے ڈاکٹر بننے والوں پر شبہ ہے کہ وہ بہتر علاج نہیں کر سکتے ،چیف جسٹس نے بتایا کہ جب انہوں نے پرائیوٹ ہسپتالوں کا اچانک دورہ کیا تو انتظامیہ نے طلبا کو گاؤن پہنا کر کہاکہ یہ پرفیسرہیں،میں نے مریضوں سے اضافی فیسیں لینے والے پرائیوٹ ہسپتالوں سے فیسیں واپس کروائیں ، لوگوں کو صحت کی سہولیات فراہم کروائیں،کیا یہ اختیارات سے تجاوز ہے؟انہوں نے پانی کے حوالے سے لئے گئے ازخود نوٹس کے بارے میں گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ ملک میں پانی کی کمی پیدا ہورہی ہے ،منرل واٹر فروخت کرنے والی کمپنیاں مفت زیرزمین پانی استعمال کر رہی تھیں،اگر کمپنیوں سے پیسے وصول کئے تو کیا سوموٹو کے اختیارت سے تجاوز کیا ؟اگر ہسپتالوں میں وینٹی لیٹر لگانے کا حکم دیا تو کیا کہ اختیارات سے تجاوز کیا ؟انہوں نے کہا کہ مینٹل ہیلتھ کی سہولیات تسلی بخش نہیں ہیں ،ہمارے پاس نفسیات کے پروفیسرز کی تعداد بہت کم ہے ،اساتذہ ہمارے لئے بہت قابل احترام ہیں ،افسوس سے کہتا ہوں اساتذہ کاتقدس پامال ہوا ،پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر اور دیگر اساتذہ کو نیب کی حراست میں ہتھکڑیاں لگانے کے معاملہ کا ذکر کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ اساتذہ کی عزت پامال کرنے والوں سے معافی منگوائی ،جناح ہسپتال کا وزٹ کیا تو طالبات خانہ بدوشوں کی طرح رہ رہی تھیں ،تین ماہ بعدانہوں نے شکر یہ ادا کیا کہ انہیں رہائش کے لئے کمرے مل گئے ،چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان آپ کی ماں بھی ہے ،اس کے لئے بڑی قربانیاں دی گئیں،یہ ہمیں تخفے میں نہیں ملا ،قائداعظم محمد علی جناح نے اپنی صحت کی قربانی دی اور اپنی بیماری کو چھپائے رکھا،اس کی قدرکریں اوراس کی ترقی کے لئے اپنا کرداراداکریں۔

چیف جسٹس

لاہور(نامہ نگارخصوصی)چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثاراورمسٹر جسٹس اعجازالاحسن پر مشتمل بنچ نے منی لانڈرنگ اورجعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں تمام بینک اکاؤنٹس کا ریکارڈ قبضے میں لے کر عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا ۔عدالت نے جے آئی ٹی رپورٹ میں ذکر کردہ تمام بینک اکاؤنٹس بھی منجمد کرنے کی بھی ہدایت کی ہے ۔چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم بنچ نے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کا تحریری حکم جاری کردیاہے ، سپریم کورٹ نے اکاؤنٹس کی تمام بینک ٹرانزیکشنز کی مانیٹرنگ کا حکم بھی دیا۔فاضل بنچ نے جے آئی ٹی رپورٹ میں ذکر کردہ تمام عمارات اور جائیدادوں کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کردی اور واضح کیا کہ ایسی تمام جائیدادیں جن کا براہ راست یا بلا واسطہ طور پر مالی فوائد سے تعلق رہا، ان کی خرید و فروخت پر بھی پابندی رہے گی۔عدالت نے جے آئی ٹی رپورٹ میں مذکورتمام افراد کو بھی31دسمبر کے لئے نوٹس جاری کررکھے ہیں ۔عدالت نے جن جائیدادوں کی خریدوفروخت پر پابندی عائد کی ہے ان میں بحریہ آئیکون ،اوپل 225،پارک لین، پارتھینون شامل ہیں ۔سپریم کورٹ نے بلدیاتی نمائندوں کو مکمل اختیار اور فنڈز نہ دینے پر از خود نوٹس لے لیا، چیف جسٹس نے میئر لاہورکرنل ریٹائرڈ مبشر کی درخواست پر از خود نوٹس لیتے ہوئے حکومت سے جواب طلب کرلیاہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں ایل ڈی اے اور میٹرو پولیٹن کارپوریشن کے اختیارات واضح ہو چکے ہیں، فیصلے کے باوجود ایل ڈی اے میٹر پولیٹن کارپوریشن کے اختیارات استعمال کر رہا ہے، ایل ڈی اے کو بنیادی شہری سہولیات میں احکامات جاری کرنے کا اختیار نہیں ہے، واسا، صفائی جیسے دیگر محکمے میٹروپولیٹن کارپوریشن کی دسترس سے باہر ہیں، لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے مطابق بنیادی شہری سہولیات کی فراہمی میٹروپولیٹن کارپوریشن کا اختیار ہے، بے اختیار ہونے کی وجہ سے لاہور کے 313 منتخب بلدیاتی نمائندے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر پا رہے ہیں، موجودہ حکومت نے 8 ماہ سے منتخب بلدیاتی نمائندوں کو فنڈز بھی جاری نہیں کئے، محکمہ بلدیات میٹروپولیٹن کے زونز سٹاف کے بار بار تقرر و تبادلے سے اضافی مالی بوجھ پیدا کر رہا ہے، درخواست میں چیف جسٹس پاکستان سے استدعا کی گئی ہے ،سپریم کورٹ اپنے فیصلے کی روشنی میں بلدیاتی نمائندوں کے اختیارات میں کمی اور دیگر مسائل پر فیصلے کرے۔چیف جسٹس پاکستان نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز کی خالی اسامیاں پر نہ کرنے پر حکومت پر برہمی کا اظہار کیا اور ریمارکس دیئے کہ کیا آپ عدلیہ کو مفلوج کرنا چاہتے ہیں ۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کی خالی اسامیاں پر نہ کرنے کے معاملے پر سماعت کی. چیف جسٹس پاکستان نے باور کرایا کہ نگران حکومت کے دور میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کی تعداد بڑھانے کی سفارش کی تھی. چیف جسٹس پاکستان نے سفارشات پر عمل نہ ہونے پر وفاقی حکومت کے وکیل اشتیاق اے خان کی سرزنش کی اور باور کرایا کہ آپ چاہتے ہیں کہ عدلیہ مفلوج ہو جائے؟ چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں چار ججز کام کر رہے ہیں اور کام اتنا زیادہ ہے،سارابوجھ 4ججوں پر ہے ،ملک کی تمام ہائی کورٹس اہم ہیں، مگر اسلام آباد ہائی کورٹ میں بہت اہم مقدمات ہیں، وفاقی حکومت کے وکیل ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ججز کی تعداد بڑھانے کیلئے کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، وفاقی حکومت کے وکیل نے مطابق جب بل کا ڈرافٹ پیش کرنا تھا تو اپوزیشن نے مخالفت کر دی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے یہ بھی بتایا کہ ججز کی تعداد بڑھانے کیلئے آرڈیننس کی تجویز بھی زیر غور تھی لیکن اسمبلی کا اجلاس چل رہا ہے. چیف جسٹس پاکستان نے افسوس کا اظہار کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز کی تعداد کم ہونے سے ڈویژن بنچ بھی نہیں بن سکتا۔چیف جسٹس پاکستان نے واضح کیا کہ رجسٹرار سپریم کورٹ کو کہتے ہیں کہ وہ آپ سے وضاحت مانگے، یا پھر از خود نوٹس لے لیتے ہیں. وفاقی حکومت کے وکیل نے یقین دہانی کرائی کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز کی خالی اسامیاں فوری طور پر پوری کر دیا جائے گا۔

سپریم کورٹ

مزید :

صفحہ اول -