سندھ میں حکومت کی تبدیلی ،تحریک انصاف کی کوشش پہلے مرحلے میں ناکام

سندھ میں حکومت کی تبدیلی ،تحریک انصاف کی کوشش پہلے مرحلے میں ناکام

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر) سندھ میں اقتدارکی بازی پلٹنے کے لیے اپوزیشن جماعتوں کومتحد کرنے کی تحریک انصاف کی کوشش پہلے مرحلے میں ناکامی سے دوچارہوگئی،متحدہ مجلس عمل نے فارورڈ بلاک کے ذریعہ حکومت گرانے کے عمل کا حصہ بننے سے انکار کر دیا، حکومت سے ناراض تحریک لبیک نے بھی سندھ میں اقتدارکی رسہ کشی کا حصہ بننے سے معذرت کرلی۔وزیراعلی سندھ سید مرادعلی شاہ اوران کی کابینہ ارکان کے نام ای سی ایل میں ڈالنے پرسندھ میں اقتدارکی بازی پلٹنے کے لیے متحرک تحریک انصاف کوابتدائی رانڈ میں ہی ناکامی کا سامنا ہے اورسندھ اسمبلی میں دواپوزیشن جماعتوں متحدہ مجلس عمل اورتحریک لبیک کے چارارکان نے اقتدارکے کھیل کا حصہ بننے سے انکارکردیا ہے سندھ اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کے ارکان کی تعداد 68 ہے تحریک لبیک کے 3 ارکان اورمتحدہ مجلس عمل کے واحد رکن سندھ اسمبلی کی بغاوت کے بعد اپوزیشن ارکان کی تعداد 64 رہ گئی ہے جبکہ پیپلزپارٹی کی حکومت گرانے کے لیے اپوزیشن جماعتوں کوکم ازکم 85 ارکان کی ضرورت ہوگی ۔ متحدہ مجلس عمل کے رکن سید عبدالرشید نے ہفتے کواپوزیشن جماعتوں کیاجلاس میں شرکت نہیں کی ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں کسی غیر جمہوری عمل کی حمایت نہیں کرینگے فارورڈ بلاک بنا کر حکومتیں گرانا سیاسی اخلاقی بدحالی ہے دوسری جانب تحریک لبیک نے بھی اپوزیشن جماعتوں کی پارلیمانی اجلاس میں شرکت نہیں کی ہے ۔اپوزیشن جماعتوں کیاجلاس کے بعد گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے رکن سندھ اسمبلی حسینین مرزا کا کہنا تھا کہ وزیر اعلی سندھ منی لانڈرنگ کے مرکزی ملزم ہیں عہدے پر رہتے ہوئے وزیر اعلی سندھ تفتیش پر اثر انداز ہوسکتے ہیں،پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت وزیر اعلی کو فوری ہٹا دے،ان کا کہنا تھا کہ سندھ اسمبل کی اپوزیشن جماعتوں نے اپنی حکمت عملی ترتیب دے دی ہے جوجی ڈی اے کی قیادت کے سامنے رکھیں گے اپوزیشن متحدہوکرسندھ میں تبدیلی لاسکتی ہے۔تحریک انصاف کے رکن سندھ اسمبلی ارسلان تاج گھمن کا کہنا تھا کہ وزیر اعلی سندھ منی لانڈرنگ میں مرکزی سہولت کار ہے، ایوان کا اعتماد کھو چکے ہیں،وزیر اعلی سندھ اومنی گروپ کو چلاتے رہے ہیں،اپوزیشن جماعتوں کیاجلاس میں مشاورت کی گئی ہے کہ وزیر اعلی کوکیسے ہٹایا جائے،ان کا کہنا تھا کہ جلد تمام اپوزیشن جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرلیں گے۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -