گورنر راج لگے گانہ18ویں ترمیم چھیڑیں گے،سندھ حکومت زرداری کیخلاف شفاف تحقیقات ہونے دے :فواد چودھری

گورنر راج لگے گانہ18ویں ترمیم چھیڑیں گے،سندھ حکومت زرداری کیخلاف شفاف ...
 گورنر راج لگے گانہ18ویں ترمیم چھیڑیں گے،سندھ حکومت زرداری کیخلاف شفاف تحقیقات ہونے دے :فواد چودھری

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہاہے کہ اٹھارہویں ترمیم کو نہیں چھیڑا جائے گااور نہ ہی سندھ میں گورنر راج لگائیں گے ,پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت آصف زردری کیخلاف شفاف تحقیقات ہونے دے۔

نجی ٹی وی چینل ’’جیونیوز ‘‘کے پروگرام ”جرگہ“ میں گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے پیپلز پارٹی کو سندھ میں گورنر راج نہ لگانے کی یقین دہانی کرادی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نہ 18 ویں ترمیم کو چھیڑا جائے گا نہ ہی سندھ میں گورنر راج لگے گا بس بدلے میں سندھ حکومت یہ کرے کہ آصف زرداری کے کیس میں شفاف ٹرائل ہونے دیا جائے ۔

اسی پروگرام میں موجود  بلاول بھٹو  زرداری کے ترجمان سینیٹر مصطفی نواز کھوکر نے کہا کہ اگر فواد چوہدری کی بات ٹھیک ہے تو پھر فیصل واڈا، علی زیدی اور شیخ رشید جو کہہ رہے ہیں وہ غلط ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم آصف زرداری کے کیس میں شفاف ٹرائل کے حق میں ہیں لیکن حکومت کے وزیر نیب کی ترجمانی کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نیب نے وضاحت دی ہے کہ ہم نے شہباز شریف اور خواجہ سعدرفیق کو اس لئے گرفتار کیا کہ وہ ریکارڈ کو ٹمپر کررہے تھے ، شہبازشریف کو اس لئے گرفتار کیا گیا کہ وہ شہادتوں کو ٹمپرکررہے تھے ، سب کو معلوم ہے کہ آصف زرداری اورنواز شریف نے کیاکیا ، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی شفاف تحقیقات ہونے دیں ، مراد علی شاہ کانام جے آئی ٹی کی رپورٹ میں ہے ، پیپلز پارٹی مراد علی شاہ کی بجائے کسی اور کو وزیر اعلیٰ سندھ بنا دے،ہم وزیر اعلیٰ سندھ کی تبدیلی چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مالم جبہ اور ہلی کاپٹر ریفرنسز ابھی سٹیج پر نہیں آئے، اپوزیشن کا مکمل دفاع یہ ہے کہ حکومت نے ابھی دوچار لوگوں کو نہیں پکڑا ، اس لئے ہم کوبھی چھوڑ دیا جائے ، ہم نے چیئرمین سینٹ کے انتخاب میں پیپلز پارٹی کے ساتھ نہیں تھے بلکہ یہ کہاتھا کہ فاٹا اور بلوچستان کے امیدوار کو ووٹ دیں گے ۔اس سوال پر کہ ذوالفقار مرزا کا جے آئی ٹی کی رپورٹ میں ذکرنہیں ہے تو فواد چودھری کاکہناتھا کہ اگرایسا ہے تو نہیں ہونا چاہئے ، لوگوں کی دلچسپی اس میں ہے کہ جعلی اکاﺅنٹس میں 54ارب روپیہ گیا اور اس کا بڑا حصہ بلاول ہاﺅس کے حصہ میں گیا ، جس اکاﺅنٹ سے ایان علی کا ٹکٹ خریدا گیا ، اسی اکاﺅنٹ سے بلاول کا ٹکٹ بھی خرید ا گیا ، جب آصف زرداری نے فیصلہ کیا کہ صدر بننا ہے تو آصف زرداری نے پارک لین کمپنی سے استعفیٰ دیا اور بلاول کو اس کا ڈائر یکٹر بنادیا ۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف پر دو الزامات ہیں ، فلیگ شپ اور ہل میٹل کاہے ، علیمہ خان نے اپنی جائیداد پر جرمانہ ادا کیا ہے اور منی ٹریل بھی دی ہے ، نوازشریف اورزرداری اپناآخری الیکشن بھی لڑے چکے ہیں البتہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی دونوں وفاقی پارٹیاں ہیں اور ہم کو ان کااحترام ہے ۔

مزید :

قومی -اہم خبریں -