اردو ادب کے استاد، افسانہ نگار اور نقاد ڈاکٹر سلیم اختر انتقال کرگئے

اردو ادب کے استاد، افسانہ نگار اور نقاد ڈاکٹر سلیم اختر انتقال کرگئے
اردو ادب کے استاد، افسانہ نگار اور نقاد ڈاکٹر سلیم اختر انتقال کرگئے

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ملک کے ممتاز ترقی پسند ادیب استاد ،افسانہ نگار، نقاد اور صدارتی ایواڈ برائے حسن کارکردگی حاصل کرنے والے ڈاکٹر سلیم اختر طویل علالت کے بعد84سال کی عمر میں انتقال کر گئے ،ان کی نماز جنازہ سوموار کے روز جہاں زیب بلاک علامہ اقبال ٹاؤن لاہور میں ادا کی جائے گی۔

ڈاکٹر سلیم اختر 11 مارچ، 1934ء کو لاہور میں پیدا ہوئے, ان کے والد قاضی عبد الحمید ملٹری اکاؤنٹس میں ملازم تھے، قیام پاکستان کے وقت آپ کے والد قاضی عبد الحمید بیوی بچوں کے ہمراہ انبالہ میں مقیم تھے۔ سلیم اختر کو انبالہ، پونہ، لاہور، فورٹ سنڈیمن، (بلوچستان) اور راولپنڈی میں تعلیم حاصل کرنے کے مواقع ملے ،انہوں نے میٹرک فیض الاسلام ہائی سکول راولپنڈی سے 1951ء میں کیا۔ ایف اے اور بی اے گورنمنٹ کالج اصغر مال راولپنڈی اور ڈپلومہ آف لائبریری سائنس، ایم اے (اردو)، پی ایچ ڈی جامعہ پنجاب لاہور سے کی، تعلیم سے فراغت کے بعد شعبہ تعلیم سے وابستہ ہو گئے، اس کے علاوہ ڈاکٹر سلیم اختر مختلف ادبی رسالوں کے ساتھ بھی منسلک رہے۔ڈاکٹر سلیم اختر نے بطور اردو لیکچرار پہلی ملازمت گورنمنٹ ایمرسن کالج ملتان میں کی، آٹھ سال بعد گورنمنٹ کالج لاہور چلے آئے۔ 1994میں یہاں سے ریٹائرمنٹ کے بعد اگلے گیارہ سال آپ یہاں وزیٹنگ پروفیسر کے طور پر پڑھاتے رہے، اس کے علاوہ وہ یونیورسٹی آف ایجوکیشن میں درس وتدریس کی ذمہ داریاں بھی نبھا تے رہے۔ڈاکٹر سلیم اختر اردو کے ان معدودے چند نقادوں میں شامل ہیں جو نقاد ہونے کے ساتھہ ساتھہ بہترین تخلیق کار بھی تھے۔ ڈاکٹر سلیم اختر کی پہچان بطور نقاد، افسانہ نگار اور استاد کے طور پر نمایاں تھی جبکہ ان کی کتاب’’ اردو ادب کی مختصر ترین تاریخ ‘‘اردو ادب میں ایک اہم حوالہ تصور کی جاتی ہے۔ڈاکٹر سلیم اختر نے افسانہ نگاری میں بھی خاص شہرت حاصل کی ۔ ان کے مشہور افسانوی مجموعوں میں’’ آدھی رات کی مخلوق، مٹھی بھر سانپ، کڑوے بادام، کاٹھ کی عورتیں، چالیس منٹ کی عورت، ضبط کی دیوار سمیت دیگر شامل ہیں جبکہ ان کے افسانوں کی کلیات بھی ’’نرگس ‘‘اور’’ کیکٹس‘‘ کے نام سے شائع ہو چکی ہے۔

ڈاکٹر سلیم اختر کی دیگر کتابوں میں اک جہاں سب سے الگ (سفرنامہ)، نشان جگر سوختہ (آپ بیتی)، انشائیہ کی بنیاد، ادب اور کلچر، ادب اور لاشعور، فکر اقبال کا تعارف، اقبال اور ہمارے فکری رویے، کلام نرم و نازک، شادی جنس اور جذبات، ہماری جنسی اور جذباتی زندگی، عورت جنس اور جذبات، عورت جنس کے آئینے میں، مرد جنس کے آئینے میں وغیرہ شامل ہیں۔ڈاکٹر سلیم اختر کو ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں 2008کو حکومت پاکستان کی طرف سے صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔

مزید : قومی /ادب وثقافت