نیب ترمیمی آرڈی ننس پر واویلا

نیب ترمیمی آرڈی ننس پر واویلا

  



نیب ترمیمی آرڈیننس کو اپوزیشن جماعتوں نے شدید نکتہ چینی کا نشانہ بناتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کی نگرانی کے لیے قائم رہبر کمیٹی نے اسے ”دوستوں“ کو بچانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے نیا این آر او قرار دیا ہے،جس سے حکومتی متعلقین فائدہ اٹھائیں گے۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) کی طرف سے بھی منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ اسے ”نیب نیازی“ گٹھ جوڑ کی ایک واضح مثال قرار دیا جا رہا ہے۔ بعض درخواست گذار عدالتوں کی طرف بھاگ پڑے ہیں، کسی نے سپریم کورٹ کے دروازے پر دستک دے ڈالی ہے، تو کوئی ہائی کورٹ کی طرف متوجہ ہے۔ قانونی اور غیر قانونی ماہرین بھی اپنے اپنے نکتے ڈالنے اور نکالنے میں مصروف ہیں۔دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ ابتدائی خبروں میں ترمیمی آرڈیننس کی جو تفصیلات سامنے آئی تھیں، بعد میں جاری ہونے والا نوٹیفکیشن ان سے بہت مختلف ہے۔اسے ایک اخباری رپورٹ میں حکومت کا ”یو ٹرن“ قرار دے ڈالا گیا ہے، لیکن ہمارے خیال میں معاملہ مختلف ہے۔سینیٹ میں پیپلزپارٹی کی طرف سے پیش کردہ ایک ترمیمی بل سٹینڈنگ کمیٹی کو بھجوایا گیا تھا، جس کی منظوری دے دی گئی۔اب اسے سینیٹ میں پیش ہونا ہے۔ اس بل میں نیب قانون میں وسیع تر ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔ اسی میں نیب کا دائرہ پچاس کروڑ روپے سے زائد کرپشن تک محدود کیا گیا ہے۔ ملزموں کے ریمانڈ کی مدت کم کرنے، اور ضمانت کا حق دینے کی تجویز بھی اسی میں درج ہے، محسوس ایسا ہوتا ہے کہ کسی ستم ظریف نے سینیٹ میں پیش ہونے والے ترمیمی بل کی تفصیلات سرکاری طور پر جاری ہونے والے آرڈیننس سے منسوب کر ڈالیں۔وفاقی سیکرٹریوں کی کمیٹی نے سرکاری اہلکاروں کو تحفظ دینے کے لیے بھی نیب قانون میں ترامیم تجویز کر رکھی ہیں،کچھ نہ کچھ استفادہ ان سے کر لیا گیا، اور یوں نئے نیب قانون کی ایک ایسی تصویر کھینچی گئی کہ جو بعدازاں کہیں دستیاب نہیں تھی۔ اپوزیشن جماعتیں بھی کمر کس کر میدان میں آ گئیں، اور اپنے دِل کے پھپھولے پھوڑ ڈالے، حالانکہ پیپلز پارٹی کا جو ترمیمی بل سینیٹ کمیٹی میں منظور کیا گیا ہے، اس کے مندرجات کو دیکھا جائے تو اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں پر وہ سارے الفاظ چسپاں کئے جا سکتے ہیں،جو ان کی طرف سے حکمران جماعت پر کیے جا رہے ہیں۔

نیب قانون میں ترمیم کے سوال پر اپوزیشن جماعتوں کا رویہ یوں بھی افسوس ناک ہے کہ ان کے دورِ حکومت میں اس حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی تھی، ایک دوسرے کے طعنوں سے ڈرتے (یا ڈراتے) ہوئے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) دونوں کوئی اقدام نہ کر پائیں۔ پیپلز پارٹی نے صوبائی محکموں کو نیب کے دائرہ اختیار سے خارج کرنے کے لیے سندھ اسمبلی میں باقاعدہ بل بھی منظور کر لیا، لیکن اسے عدالت میں چیلنج کر دیا گیا۔مسلم لیگ(ن) کی وفاقی حکومت کے عدم تعاون کی وجہ سے اسے پارلیمینٹ کی تائید بھی حاصل نہ ہو سکی، چنانچہ یہ بچہ پیدا ہوتے ہی مر گیا۔ اب تحریک انصاف نے عملی قدم اٹھایا ہے تو معاملے پر غور کیے بغیر اس پر چڑھائی کر دی گئی ہے۔ ہماری سیاسی جماعتیں ماضی سے نہیں تو حال ہی سے سبق سیکھ لیں، اور ضد بازی میں منفی ضابطوں کے تحفظ کے کسی تاثر کو فروغ نہ دیں۔ جماعتی سیاست سے بالاتر ہو کر اس طرح کے معاملات میں اقدام سازی ہماری قومی ضرورت ہے۔

ترمیمی آرڈیننس نے تاجروں اور صنعت کاروں کو تحفظ دیا ہے، یا پھر سرکاری عہدیداروں کے لیے ماحول کو کسی حد تک خوشگوار بنایا ہے کہ انتظامی کوتاہیوں پر اختیارات کے غلط استعمال کا کیس نہیں بنایا جا سکے گا۔کارروائی سے پہلے ثابت کرنا ہو گا کہ اس کے غلط استعمال سے ناجائز اثاثے بنائے گئے ہیں۔ سابق اٹارنی جنرل اور نیب کے سابق پراسیکیوٹر جنرل جناب عرفان قادر کا کہنا ہے کہ نیب نے اپنی کارروائیوں سے سرکاری افسروں کے اقدامات اور فیصلہ سازی کو ختم کر کے رکھ دیا تھا۔روزانہ سرکاری ملازمین مختلف امور میں کئی فیصلے کرتے ہیں۔ کسی بھی فیصلے کے بارے میں دو یا تین آرا ہو سکتی ہیں۔ کسی بھی رائے کو غلط قرار دے کر کارروائی کا جواز تلاش نہیں کیا جا سکتا۔جناب عرفان قادر تو یہ بھی کہتے ہیں کہ جب وہ پراسیکیوٹر جنرل تھے، اس وقت کسی کے خلاف بھی اس طرح کیس نہیں بنایا جا سکتا تھا۔ان کے بقول، جہاں کرپشن ہوتی ہے وہاں وہ نظر بھی آ جاتی ہے۔ یہ کہنا کہ اسے ثابت کرنا مشکل ہے، درست نہیں۔ اگر نیب کا کوئی عہدیدار ایسا کہے تو پھر اسے اپنے منصب پر برقرارہی نہیں رہنا چاہئے۔

نیک نیتی سے، یا کسی مالی منفعت کے حصول کے بغیر کئے گئے فیصلوں کو نیب سے تحفظ دینے کی وجہ سے بعض سیاست دانوں کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے،ان کے خلاف مقدمات ختم یا غیر موثر ہو سکتے ہیں،لیکن اس بارے میں دو آرا نہیں ہو سکتیں کہ دُنیا کے ہر مہذب معاشرے کا معمول یہی ہے۔ کسی فیصلے کو غلط قرار دے کر فیصلہ ساز کو کرپشن کے الزام میں دھر لینا نرم سے نرم الفاظ میں انسانی قدروں کا کھلا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ ہمارے عدالتی نظام میں تو اپیل کے دو حق تسلیم کیے گئے ہیں۔ سول کورٹ سے مقدمہ ہائی کورٹ جاتا، اور وہاں سے سپریم کورٹ لے جایا جا سکتا ہے۔ بے شمار مقدمات میں ابتدائی فیصلے کالعدم قرار پا جاتے ہیں۔ایک عدالت کا مجرم، دوسری عدالت میں بری الذمہ ہو سکتا ہے۔اس لیے کسی فیصلہ ساز کو محض اس لیے گرفت میں لے لینا کہ اس کا مطلوب نتیجہ برآمد نہیں ہوا، فیصلے کی صلاحیت کو ختم کرنے کے مترادف ہے۔

نیب قانون میں جو ترامیم کی گئی ہیں، ان سے اس ادارے کا تشخص مجروح ہوا ہے نہ اس کے اختیارات میں کوئی قابل ِ ذکر کمی آئی ہے، اس کا وہ دائرہ کار کچھ نہ کچھ محدود ہوا ہے، جسے یک طرفہ طور پر بڑھا لیا گیا تھا۔ترمیمی آرڈیننس پر بلا سوچے سمجھے واویلا کرنے والوں کو سوچ سمجھ کر بات کرنے کی عادت اپنانی چاہیے، اس میں خود انہی کا بھلا ہے۔

مزید : رائے /اداریہ