اسلامی کانفرنس، وزراء خارجہ کا اجلاس!

اسلامی کانفرنس، وزراء خارجہ کا اجلاس!

  



سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے وزیراعظم عمران خان کی تجویز پر مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال اور بھارت میں متعصبانہ شہریت بل کے نفاذ پر غور کرنے کے لئے اسلامی کانفرنس کے وزراء خارجہ کا اجلاس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے، خبروں کے مطابق محمد بن سلمان نے یہ اجلاس اسلام آباد ہی میں بلانے کا عندیہ دے دیا اور اس میں یو اے ای، انڈونیشیا اور ترکی بھی شرکت کریں گے۔یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ اجلاس ملائشیا میں اسلامی ممالک کے نمائندوں پر مشتمل بیٹھک کا ردعمل ہے۔اس میں باقاعدہ طور پر مقبوضہ کشمیر، متنازعہ بھارتی شہریت قانون اور نریندر مودی کے اقدامات اور مظالم کا جائزہ لیا جائے گا،جبکہ اُمت مسلمہ کے خلاف کارروائیوں کا بھی ذکر ہو گا۔یہ خوش آئندہ بات ہے کہ بالآخر اسلامی کانفرنس کو بھی متحرک کیا جانے لگا ہے،تاہم جو خبریں شائع ہوئیں ان میں تو یہ بھی بتایا گیا کہ کون کون سے ممالک شرکت کریں گے۔ تاہم ملائشیا کا ذکر نہیں ہے۔اس سے یہ احساس ہوتا ہے کہ سعودی عرب کوالالمپور کانفرنس بلانے پر تاحال ناراض ہی ہے،حالانکہ اپریل میں بلائے جانے والا اجلاس تو اسی کانفرنس کے ردعمل میں بلایا گیا ہے۔ یہ زیادہ بہتر ہو گا کہ اسلامی کانفرنس کے وزراء خارجہ اسلام آباد میں جمع ہوں تو ان میں ملائشیا کی نمائندگی بھی ہو۔ تاکہ دُنیا کو اسلامی ممالک کی تقسیم کا تاثر نہ ملے۔یہ دیر آید درست آید والی بات ہے کہ اسلامی دُنیا کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں شدید ظلم و ستم اور لاک ڈاؤن پر غور نہیں کیا گیا تھا اور اب یہ اجلاس ملائشیا کے بغیر ہو رہا ہے۔ ایسا بالکل نہیں ہونا چاہیے،کیونکہ مسلمان دشمن یہی تو چاہتے ہیں، ہم وزیراعظم عمران خان کی کاوش کو خراج پیش کرتے ہیں،تاہم یہ بالکل درست نہیں کہ کسی اسلامی ملک کو یوں نظر انداز کیا جائے۔بظاہر ترک صدر اور ملائیشین وزیراعظم نے جو گفتگو کوالالمپور میں کی تھی، اس سے کسی تقسیم کا تاثر نہیں ابھرا تھا اور اِسی امر پر زور دیا گیا تھا کہ اسلامی کانفرنس کو فعال ہونا چاہئے بہتر ہو گا کہ تمام رکن ممالک کو بلایا جائے اور اتحاد کا مظاہرہ ہو۔یہ خدشہ موجود رہے گا کہ ترک صدر طیب اردوان اس پر احتجاج کریں اور شرکت نہ کریں، حالانکہ وہ فروری2020ء میں پاکستان کا سہ روزہ دورہ بھی کرنے والے ہیں۔

مزید : رائے /اداریہ