بحران کا حل: قومی اتفاق رائے

بحران کا حل: قومی اتفاق رائے
بحران کا حل: قومی اتفاق رائے

  



تقریب میں اس بات پر اتفاق رائے تھا کہ قوم اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار نہیں لا سکی اور پاکستان ترقی کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ گیا ہے،اب اس صورتِ حال کا ایک ہی حل ہے کہ وسیع تر معنوں میں قومی اتفاق رائے پیدا کیا جائے……یہ تقریب پچھلے ہفتے اسلام آباد میں سابق آئی جی پولیس جناب ذوالفقار احمد چیمہ کی کتاب سٹریٹ ٹاک …… Straight talk…… کی رونمائی کے سلسلے میں تھی، سٹریٹ ٹاک دراصل اُن کے کالموں پر مشتمل کتاب ”دو ٹوک باتیں“ کا انگریزی ترجمہ ہے۔ صدارت سابق صدر اور چیئرمین سینیٹ جناب وسیم سجادنے کی اور مہمان خصوصی قومی اسمبلی کے سابق سپیکر جناب ایاز صادق تھے۔ مقررین میں سابق ڈیفنس سیکرٹری ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نعیم خالد لودھی، سابق سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی، سابق سفیر عبدالباسط، اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس سردار اسلم اور سابق ڈی آئی جی کمال الدین ٹیپو شامل تھے۔

ملک میں موجودہ بے یقینی اور کشیدگی کی فضاء کے پس منظر میں جناب وسیم سجاد نے کہا کہ قومی سطح پر اتفاق رائے کے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ جو آدمی عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر آتا ہے، اس کی عزت کی جانی چاہئے، اُسے بُرا بھلا کہنے کا کوئی فائدہ اور جواز نہیں۔ جناب ایاز صادق نے کہا کہ وہ پچھلے کئی دن سے ملکی حالات کی وجہ سے ڈپریشن کا شکار تھے اور کمرے میں بند رہے،لہٰذا آج بہت سارے صاحب الرائے لوگوں سے باتیں کرکے میرا کتھارسس ہوا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ملک کے تمام شعبے زوال کا شکار ہیں۔ ہمیں اس صورتِ حال پر غور کرنا چاہئے اور اس کے لئے تمام اداروں کو مل کر کوئی لائحہ عمل بنانا چاہئے۔ مسلم لیگ (ن)میں جن لوگوں نے وقت کے ساتھ اپنا امیج بنایا ہے، اُن میں شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال اور ایاز صادق شامل ہیں۔ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نعیم خالد لودھی کی سوج بھی یہی تھی۔ انہوں نے جناب رضا ربانی اور کچھ دوسرے لوگوں کی اس تجویز کی حمایت کی کہ جنوبی افریقہ کی طرز پر ٹروتھ اینڈ ری کنسیلیشن کمیشن…… truth and reconciliation commission …… بنایا جائے،جہاں سٹیٹ کے تمام سٹیک ہولڈر اکٹھے بیٹھ کر اپنی غلطیوں کا اعتراف کریں اور آئندہ کے لئے مشترکہ لائحہ عمل بنائیں۔ جنرل لودھی نے اعتراف کیا کہ ہم سب نے غلطیاں کی ہیں۔ ان باتوں سے خوشگوار تاثر ملا کہ موجودہ آرمی چیف کی ایکسٹینشن اور سابق آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کے مقدمے کے فیصلے سے جو ملک میں بے چینی کی فضاء پیدا ہوئی ہے اور اداروں کے درمیان کچھ کشیدگی کا شائبہ پیدا ہوا ہے،اعلیٰ سیاسی قیادت اور دوسرے اہم اداروں سے متعلقہ لوگوں میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ یہ صورتِ حال ملک کے لئے مفید نہیں اور جلد اس کا کوئی حل نکالنا چاہئے۔

موجودہ قومی ماحول سے ہٹ کر کتاب کے حوالے سے دو اور موضوعات زیربحث آئے۔ وہ تھے غیرملکوں میں مقیم پاکستانیوں کی سیاسی تقسیم اور بیورو کریسی کا عمومی کردار۔ چیمہ صاحب نے کتاب میں شامل ایک کالم میں یہ سوال اُٹھایا ہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو بیرون ملک اپنے ونگ قائم نہیں کرنا چاہئیں، کیونکہ اس سے غیرملکوں میں مقیم پاکستانی سیاسی طور پر تقسیم ہو جاتے ہیں، جس سے پاکستان کے مسائل کے بارے میں بھی اُن کی رائے تقسیم ہو جاتی ہے اور اُس ملک میں بھی جہاں وہ رہتے ہیں،اپنے مسائل پر متفقہ مؤقف اختیار نہیں کر سکتے۔ سابق سفیر عبدالباسط نے اُن کے اِس مؤقف کی بھرپور تائید کی۔ انہوں نے اپنے تجربے کی روشنی میں بتایا کہ اِس سے غیرملکوں میں پاکستانی سفیروں کے لئے بڑی مشکل صورتِ حال پیدا ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی پارٹی حکومت میں آتی ہے، بیرون ملک اُس پارٹی کے عہدیدار متعلقہ سفیر کے سر پر سوار ہو جاتے ہیں اور یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ اب جو کچھ ہو گا اُن کی مرضی سے ہو گا، حالانکہ سفیر کسی پارٹی کا نہیں، حکومت پاکستان کا نمائندہ ہوتا ہے۔ اس صورتِ حال کے نتیجے میں کئی مسائل کھڑے ہو جاتے ہیں۔مجھے یہاں کویت میں پاکستانی سفارت خانے کا ایک دلچسپ واقعہ یاد آ گیا ہے۔

ہمارے ایک سابق سفیر کرامت اللہ غوری نے اپنی کتاب ”بار آشنائی“ میں اِس کا ذکر کیا ہے۔ صدر جنرل ضیاء الحق نے کویت کا دورہ کیا تو اس موقع پر وہاں مقیم پاکستانیوں کے ایک گروپ نے سفارت خانے کے سکول کے معاملات کے بارے میں غوری صاحب کی زبردست شکایت کی اور کہا کہ وہ ڈکٹیٹر بنے ہوئے ہیں۔جنرل ضیاء الحق نے غوری صاحب کو طلب کیا اور یہ معاملہ اُٹھاتے ہوئے کہا کہ سنا ہے، آپ ڈکٹیٹر بنے ہوئے ہیں۔ غوری صاحب نے کہا کہ سر کہنے کو لوگ آپ کو بھی ڈکٹیٹر کہتے ہیں۔اس پر ضیاء الحق نے غصہ کرنے کی بجائے ایک قہقہہ لگایا۔ اس تقسیم کا ایک مظاہرہ حال ہی میں لندن میں دیکھنے میں آیا،جہاں پی ٹی آئی کے حامیوں نے نوازشریف کے فلیٹ کا گھیراؤ کیا اور دروازہ توڑنے کی کوشش کی۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ کوئی اچھی روایت نہیں ڈالی جا رہی۔ ظاہر ہے نواز شریف نہیں،بلکہ ملک کا ہر اہم آدمی لندن، دبئی اور کئی دوسرے مقامات پر فلیٹوں کا مالک ہے تو کل جب حکومت تبدیل ہو گی اور پھرآنے والی حکومت کے حامی بھی اسی روایت پر عمل کریں گے،یہ بات غور طلب ہے۔ ہمارے ہاں کچھ باتیں Cliche بن گئی ہیں، مثلاً یہ کہ جس کے بچے اور جائیداد باہر ہو، اُس کو پاکستان سے کیا دلچسپی ہو سکتی ہے۔ دو ہفتے پہلے ایک ٹی وی چینل پر یہی بات وفاقی وزیر سرور خان دہرا رہے تھے۔ ظاہر ہے وہ میاں نوازشریف کی مذمت کرنا چاہتے تھے، لیکن انہیں یہ بالکل خیال نہیں آیا کہ موجودہ وزیراعظم کے بچے بھی باہر ہیں، پھر سٹیٹ بینک کے گورنر رضا باقر اور خزانے کے مشیر عبدالحفیظ شیخ کے بچے اور جائیدادیں بھی باہر ہیں۔

چیمہ صاحب کے حوالے سے بیورو کریسی کا کردار بھی زیربحث آیا۔ کہا گیا کہ بیوروکریسی ایک مستقل ادارہ ہے اور یہی ادارہ ملک کا نظام چلانے کا ذمہ دار ہوتا ہے، لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ بیوروکریسی بھی زوال کا شکار ہو چکی ہے۔ ظاہر ہے اب ذہین نوجوان لڑکے اور لڑکیاں تو اعلیٰ تعلیم کے بعد غیر ملک کو سدھار جاتی ہیں۔ وہ یہاں کے سوشل سیٹ اپ اور تنخواہوں کے نظام سے مطمئن نہیں۔ زوال کا پتہ مقابلے کے امتحان میں پاس ہونے والوں کی تعداد سے بھی چلتا ہے۔اب جیسی تیسی ہے بیوروکریسی وہ بھی نیب کے خوف میں مبتلا اور حکومت کی طرف سے عدم تحفظ کا شکار ہے، کیونکہ اُن پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ یہ شریفوں کے غلام ہیں۔ اس ساری صورتِ حال کا نتیجہ یہ ہے کہ بیورو کریٹک سسٹم صلاحیت کے مطابق کام نہیں کر رہا اور حکومت کا کاروبار بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ اب ممکن ہے کہ کچھ کمزور یا Ambitiuns بیورو کریٹ اپنی بقاء اور فائدے سمیٹنے کے لئے موجودہ حکومت کے نمائندوں کی خوشامد میں لگ چکے ہوں یا لگ جائیں تاکہ وہ اپنے آپ پر شریفوں سے وفاداری کا داغ دھو کر تبدیلی حکومت کے حامی بننے کا روپ دھارسکیں۔ یہ بھی بڑی خطرناک صورتِ حال ہوتی ہے۔ سردار ایاز صادق نے ایک واقعہ سنایا کہ جب وہ سپیکر تھے،ایک دن ایک سیکرٹری صاحب اُن سے ملنے آئے تو انہوں نے میری تعریف کے پُل باندھ دیئے۔ کہنے لگے کہ وہ خود حیران تھے۔ انہوں نے اپنے عملے کو یہ واقعہ سنایا اور پوچھا کہ مَیں نے کون سا کمال کیا ہے؟ جی ہاں سردار صاحب شریف آدمی ہیں اور دفتروں میں کام کرنے کا تجربہ نہیں تھا،لہٰذا بجا طور پروہ پریشان ہوئے۔

خوشامد اور پھر اپنے کولیگز کے خلاف سازشوں کا حال یہ انتہائی خطرناک ہتھیار ہیں۔ مَیں نے اپنی کتاب ”پی ٹی وی میں مہ و سال“ کے آخری باب میں ان معاملات پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ بہرحال حالات جتنے بھی زوال پذیر ہوں، سسٹم جتنا بھی خراب ہو، کچھ لوگ اپنے نشانات چھوڑ جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا دم غنیمت ہے۔ چیمہ صاحب نے اپنے زمانے میں اچھی کارکردگی اور ایمانداری کا مظاہرہ کیا،جس کا سب نے اعتراف کیا۔ میرا خیال ہے کہ ایسے ناخوشگوار حالات میں جو آدمی ایمانداری اور میرٹ کو پالیسی بناتا ہے، اُسے اس کی کچھ نہ کچھ قیمت ضرور دینا پڑتی ہے۔پتہ نہیں، چیمہ صاحب نے کتنی قیمت دی۔ مَیں پی ٹی وی میں ڈائریکٹر نیوز بنا تو میرے سر میں بھی ایمانداری اور میرٹ کا سودا سمایا ہوا تھا، لیکن مجھے کافی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ مَیں نے ”سٹیٹس کو“ توڑا اور اگرچہ کسی کو جان بوجھ کر نقصان تو نہیں پہنچایا،تاہم پھر بھی بہت سارے ”چوہدریوں“ کے مفادات پر ضرب ضرور پڑی، جس پر انہوں نے میری ریٹائرمنٹ پر باقاعدہ الوداعی پارٹی نہیں ہونے دی، یہ چھوٹی سی قیمت تھی۔

مزید : رائے /کالم