”لیا جائے گا تجھ سے کام دُنیا کی امامت کا“

”لیا جائے گا تجھ سے کام دُنیا کی امامت کا“
”لیا جائے گا تجھ سے کام دُنیا کی امامت کا“

  



کہا جاتا ہے کہ اگر کسی ملک کے عوام کی شائستگی کو دیکھنا ہو تو اس ملک کی ٹریفک کا بہت غور سے مشاہدہ کرنا چاہئے۔ آج جس پاکستان میں ہم گزر بسر کر رہے ہیں اور بہت فخر سے کہتے ہیں کہ یہ قائداعظم محمد علی جناحؒ کا پاکستان ہے تو مجھے نہایت افسوس سے یہ بات لکھنا پڑ رہی ہے کہ آج کا پاکستان وہ پُرامن اور مضبوط پاکستان نہیں، جو اقبالؒ نے سوچا اور قائد اعظمؒ نے بنایا تھا، 1948ء (قائد کی وفات) کے بعد دن رات ترقی کرنے کے بجائے یہ ملک نیچے سے نیچے اور کمزور سے کمزور تر ہوتا جا رہا ہے۔آخر اس سب کا ذمہ دار کون!……اس سب کا ذمہ دار کوئی اور نہیں، بلکہ اس ملک کا ہر شہری ہے، چاہے وہ کسی خستہ حال مکان کا رہائشی ہو یا کسی 200 کنال کے بنگلے کا مالک، وہ غربت کا مارا کوئی مزدور ہو یا کوئی عیاش امیر زادہ۔

آج دُنیا میں سب سے زیادہ توجہ طلب اور زیر غور مسئلہ ٹریفک کا مسئلہ ہے۔ پاکستان ایشیا میں ٹریفک حادثات کے لحاظ سے اول نمبر پر آتا ہے۔ ”دی نیوز“ کے مطابق پاکستان میں ہر 24 گھنٹے کے دوران ٹریفک حادثات کے باعث 15 افراد کو جان سے ہاتھ دھونا پڑتے ہیں۔بات صرف ان پندرہ افراد تک محدود نہیں،بلکہ ان پندرہ افراد کی وجہ سے کتنے ہی خاندان اجڑ کر رہ جاتے ہیں۔”ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن“ کے مطابق دُنیا میں 12 لاکھ لوگ مختلف ٹریفک حادثات کے باعث ہر سال اپنی جانیں گنوا بیٹھتے ہیں۔دوسری طرف اگر پنجاب کے سب سے بڑے شہر لاہور کی بات کی جائے تو آپ کو یہ سن کر حیرانی ہو گی کہ وہاں پر بھی ٹریفک حادثات کے باعث ہر روز ایک قیمتی جان ضائع ہو جاتی ہے۔ان حادثات سے نمٹنے کے لئے تمام متعلقہ ادارے کوشاں تو ہیں، مگر یہ بات ذہن میں بٹھا لی جائے کہ اس کا 70 فیصد حل صرف آگاہی ہے، اگر یہ آگاہی گراس روٹ لیول سے عوام میں پھیلائی جائے، تو اس کے زیادہ موثر اثرات معاشرے میں نظر آسکتے ہیں۔

اسی طرح کی ایک تحریک، جس کو ”ٹریفک قوانین آگاہی“کا نام دیا گیا تھا،سابق آئی جی اسلام آباد پولیس سلطان اعظم تیموری نے گوجرانوالہ تعیناتی کے بعد بھرپور طریقے شروع کی، جس کا حصہ شہر کے ہر چھوٹے بڑے سکول کو بنایا گیا۔ اس تحریک میں میرے سکول قائداعظم ڈویژنل پبلک سکول وکالج کو بھی شامل کیا گیا،جو گوجرانوالہ ڈویژن میں بہت اہمیت کا حامل ہے۔ پورے سکول میں جماعت نہم کے ہر سیکشن میں سے چھ، چھ طلبہ کو چنا گیا، جن میں مَیں بھی شامل تھا۔ اس وقت ہم سب طلبہ کو تقریبا ایک ہفتہ کی ٹریننگ دی گئی تھی۔ اس ٹریننگ میں پولیس آفیسرز نے طلبہ کو ٹریفک کے تمام بنیادی قوانین سمجھائے اور پھر ان ٹریننگ لینے والے تمام طلبہ کو سپیشل پولیس والنٹیئر کارڈ مہیا کئے گئے، جن کی بنا پر وہ کسی بھی شخص کو، جو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرے،ایک وارننگ جاری کر سکتا ہے اور مسلسل خلاف ورزی پر قریبی وارڈن کے ذریعے بھاری جرمانہ بھی کروا سکتا ہے۔ اس تحریک میں پرنسپل قائداعظم ڈویڑنل پبلک سکول و کالج محترم ساجد جمال خان صاحب بھی پیش پیش رہے اور طلبہ کی بھرپور حوصلہ افزائی بھی کرتے رہے۔

ٹریفک افسر عرفان نواز راجہ صاحب نے بہت اچھے اور زبردست انداز میں طلبہ کو ٹریفک قوانین سمجھائے اور ان پر خود اور دوسروں کو عمل کرنے کی تلقین کی، مگر آئی جی صاحب کے ٹرانسفر کے بعد یہ تحریک آہستہ آہستہ ختم ہوتی چلی گئی اور اس کا نام و نشان بھی نہ رہا۔میری حکومت وقت اور محکمہ پولیس کے متعلقہ افسران سے گزارش ہے کہ اس تحریک کو دوبارہ ایک نئے انداز میں بھرپور طریقے سے شروع کیا جائے،اس کو کالج لیول تک وسیع کیا جائے اور پرائمری اور مڈل کے نصاب میں بھی بطور خاص بنیادی ٹریفک قوانین کو شامل کیا جائے اور عرفان نواز رانجھا جیسے قابل، خوش اخلاق اور فرض شناس افسروں کوہی اس تحریک کا حصہ بنایا جائے تا کہ عوام میں پولیس کا ایک مثبت امیج بنایا جا سکے، یہ اقدام نہ صرف حادثات میں حتیٰ المقدور کمی اور نظام ٹریفک میں بہتری کا باعث بنے گا،بلکہ آنے والی نسلیں دُنیا میں پاکستان کی ایک مثبت تصویر بھی پیش کر سکیں گی۔

مزید : رائے /کالم


loading...