نیب قوانین میں نئی تبدیلی!

نیب قوانین میں نئی تبدیلی!
نیب قوانین میں نئی تبدیلی!

  



عمران خان حکومت نے اقتدار ملنے کے صرف 16 ماہ بعد ہی قومی احتساب قوانین میں تبدیلی کے حوالے سے دوسرا ترمیمی آرڈی ننس 2019ء جاری کر دیا ہے، جس کے تحت ”بھاری بھر کم“ کاروباری لوگ (تمام کاروباری لوگوں کا تاثر غلط ہے) نیب کے دائرہ کار سے باہر کر دیئے گئے ہیں۔ اب احتساب کی چھری صرف سیاسی مخالفین اور عام کاروباری لوگوں کی گردن پر ہی چلے گی۔بھاری بھرکم کاروباری لوگ واقعی بلا کے طاقتور ہیں۔ یہ وہی ہیں، جن کی رسائی اعلیٰ ترین شخصیات تک ہے، انہوں نے چند ماہ پہلے GIDC کی مد میں واجب الادا 300 ارب روپے معاف کرانے کا صدارتی آرڈی ننس بھی نکلوا لیا تھا،جو بہت زیادہ شور مچ جانے کے بعد منسوخ کرنا پڑا تھا۔ اسی طرح بیورو کریٹس کو چھوٹ ملنے کا تاثر بھی غلط ہے، سیکرٹریز کمیٹی کی سفارشات کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔

ویسے یہ بھی حقیقت ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت آنے کے بعد سے احتساب کے نام پر صرف سیاسی مخالفین ہی کی پکڑ دھکڑ ہو رہی ہے۔سیاسی مخالفین اب بھی بدستور نشانے پر ہی رہیں گے اور ان کے پاس جیل جانے سے بچنے کا عملی راستہ حکومتی پارٹی میں شامل ہو کر ڈرائی کلین ہونے کا ہی رہے گا۔ حکومتی پارٹی میں اقتدار کے مزے لوٹنے والوں میں ایک کثیر تعداد ماضی کے ”کرپٹ“ لوگوں کی ہے، لیکن انہوں نے اپنے آپ کو ڈرائی کلین کروا لیا ہے،اس لئے ان کے لئے نہ نیب ہے،نہ ایف آئی اے اور نہ ہی اینٹی نارکوٹکس فورس،اس لئے ان کی پانچوں گھی میں ہیں اور اس وقت تک رہیں گی، جب تک موجودہ حکومت اقتدار میں رہے گی۔ ان سیانے سیاست دانوں کا ٹریک ریکارڈ ہی یہ ہے کہ جب حکومت تبدیل ہو گی تو وہ بھی راتوں رات نئی آنے والی حکومت میں شامل ہو جائیں گے۔ اب تو ان کی تیسری چوتھی نسل اس معجزاتی تبدیلی سے فیض یاب ہورہی ہے اور آئندہ آنے والی نسلیں بھی ہوتی رہیں گی۔

عمران خان23 سال سے دن رات ایک ہی ڈھول پیٹ رہے تھے کہ وہ ملک سے کرپشن ختم کر دیں گے۔ پاکستان کا کون سا شہر ایسا ہے، جہاں انہوں نے جلسہ کر کے ملک کو چوروں، ڈاکوؤں، لٹیروں اور رسہ گیروں سے پاک کرنے کا وعدہ نہ کیا ہو۔ پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد رکھے جانے سے بھی تین چار سال پہلے (غالباً اوائل 1993ء کی) کی بات ہے،لاہور کے ایک میڈیکل کالج میں ایک ملک گیر طلبہ تنظیم کے جلسے میں اتفاقاً موجود تھا جو ان دنوں بوسنیا میں جاری خانہ جنگی اور مسلمانوں پر سربوں کی طرف سے ڈھائے جانے والے مظالم کے سلسلے میں ہو رہا تھا۔ مقررین میں نامی گرامی لوگ تو تھے ہی، لیکن عمران خان کے نام پر مَیں چونکا، کیونکہ لوگ انہیں صرف کرکٹ ٹیم کے کپتان کے طور پر جانتے تھے، کسی سیاسی فورم پر ان کی کوئی پہچان نہیں تھی۔ صرف چند ماہ پہلے ہی عمران خان کی کپتانی میں پاکستان نے ورلڈ کپ جیتا تھا اور اب وہ اپنی والدہ کے نام پر کینسر کے مریضوں کے لئے لاہور میں ہسپتال بنانا چاہتے تھے۔ مَیں نے عمران خان کی تقریر اس دن پہلی بار سنی، اور کم و بیش وہی تقریر اس کے بعد آنے والے 27 سال میں سینکڑوں بار سن چکا ہوں، جس میں سابق کپتان نے کہا کہ انہوں سے ساری عمر گوروں کا مقابلہ کیا ہے اور وہ ان کی نفسیات سے بہت زیادہ واقف ہیں۔ پاکستان ٹیلنٹ کے اعتبار سے گوروں سے بہت آگے ہے، لیکن کرپٹ ”اشرافیہ“ کی وجہ سے ان کا مقابلہ ممکن نہیں ہے، اور یہ کہ پاکستان غریب ملک نہیں ہے،بلکہ اسے لٹیروں نے لوٹ لوٹ کر غریب کیا ہوا ہے۔

حکمرانوں کے بچے امریکہ اور یورپ میں پڑھتے ہیں اور ان کے گھر، دولت اور جائیدادیں بھی یورپ میں ہوتی ہیں۔ جب تک ملک سے کرپشن کا خاتمہ نہیں ہوگا،اس وقت تک ملک غریب ہی رہے گا، وغیرہ وغیرہ…… (حالانکہ ان باتوں کا بوسنیا کی خانہ جنگی اور سرب وحشیوں کی طرف سے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم سے کوئی تعلق نہیں تھا)……خیر، اس وقت تو انہوں نے سیاست میں آنے کی کوئی بات نہیں کی تھی اور نہ بظاہر ان کا کوئی ارادہ معلوم ہوتا تھا، البتہ ان کے سلیبرٹی اور اچھے موٹیویشنل سپیکر ہونے کی وجہ سے انہیں مختلف مواقع پر بلایا جانے لگا، اور غالباً اس کی بڑی وجہ شوکت خانم ہسپتال کی فنڈ ریزنگ میں ان کا بے حد متحرک ہونا بھی تھا۔ میرے کچھ دوستوں نے بہر حال مجھے یہ بتایا کہ مرحوم جنرل(ر) حمید گل اور ان کے کچھ رفقا عمر ان خان کی بطور خاص گرومنگ کر رہے ہیں، کیونکہ انہیں سابق کپتان میں سپارک نظر آتا ہے۔ پھر تین سال بعد 1996ء میں عمران خان نے پاکستان تحریک انصاف کے نام سے اپنی سیاسی پارٹی بنائی اور باقاعدہ سیاست میں آ گئے۔

جیسے ایک فاسٹ باؤلر ایک مخصوص لائین اور لینگتھ پر لگا تار باؤلنگ کرتے رہنے سے وکٹیں لیتا ہے، عمران خان کی لائین اور لینگتھ کرپشن اور لوٹ مار رہی۔ اس دور میں بھی جب ان کی پارٹی میں صرف چند لوگ تھے، اس وقت بھی جب ان کو صرف ایک سیٹ ملی اور اس وقت بھی جب پاکستان تحریک انصاف دو بڑی سیاسی پارٹیوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے مقابلے میں تیسری سیاسی قوت کے طور پر شمار ہونے لگی۔ 2013ء کا الیکشن وہ نہ جیت سکے، لیکن انہوں نے انتہائی جارحانہ سیاست کا آغاز کیا جس میں 126 دن کا دھرنا بھی شامل تھا۔ لوگ روزانہ دارالحکومت کے ریڈ زون میں واقع ڈی چوک پر اکٹھے ہوتے، جہاں دھاندلی کا الزام لگا کر چار حلقے کھولنے کے علاوہ عمران خان کی تقریر کا روزانہ ایک ہی موضوع ہوتا کہ وہ کسی کرپٹ کو نہیں چھوڑیں گے اور ایک ایک کرپٹ،چاہے اس کا تعلق کسی بھی پارٹی یا معاشرے کے کسی بھی طبقے سے ہو، اسے جیل پہنچا کر دم لیں گے۔ 2018ء کے الیکشن کے نتیجے میں ان کی حکومت بن گئی اور وزیراعظم کا حلف اٹھاتے ہی چند منٹ کے اندر انہوں نے اعلان کیا کہ وہ کسی کو نہیں چھوڑیں گے اور نہ کسی کو این آر او دیں گے(یہ اصطلاح 2007ء کے بعد رائج ہوئی جس کا ترجمہ عمران خان ”مک مکا“ کیا کرتے تھے)۔

اب انہیں وزیراعظم بنے ہوئے 16 ماہ ہو چکے ہیں اور اس بات پر مبصرین، تجزیہ کاروں اور عوام کی ایک بڑی تعداد متفق ہے کہ احتساب کے نام پر ہونے والا عمل یکطرفہ ہے، جس میں صرف اپوزیشن کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ظاہر ہے ایسے احتساب کی کریڈیبلٹی کمزور ہو چکی تھی، کیونکہ عمران خان کا وعدہ تھا کہ وہ کسی کو نہیں چھوڑیں گے اور نہ ہی کسی کو این آر او دیں گے،چاہے وہ کوئی بھی ہو۔ حکومتی پارٹی سے تعلق رکھنے والوں کو پہلے ہی احتساب سے دور رکھا جا رہا تھا، لیکن پی ٹی آئی کو بھاری فنڈنگ کرنے والے بہت سے لوگ بہر حال نیب کیسوں کی وجہ سے پریشان تھے، انہیں بچانے کے لئے عمران خان نے آرڈی ننس جاری کرکے مسئلہ ہی حل کر دیا ہے۔ کراچی میں ”بھاری بھرکم“ بزنس ٹائیکونوں سے براہ راست مخاطب ہو کر انہوں نے خوش خبری سنائی کہ ان کے بہت سے دوست نیب میں پھنسے ہوئے تھے، اب وہ شانت ہو جائیں، کیونکہ انہیں نیب سے محفوظ کر دیا گیا ہے۔ باقی رہے نام اللہ کا۔

یہ بات تو پرانی ہو چکی کہ عمران خان حکومت چونکہ قانون سازی کرنے کے قابل نہیں ہے، اس لئے اس کا تمام تر انحصار صدارتی آرڈی ننسوں پر ہے۔ اس میں تازہ ترین اضافہ قومی احتساب بیورو کے حوالے سے دوسرا ترمیمی نیب آرڈی ننس 2019ء ہے۔ اس نئے آرڈی ننس نے عمران خان کے اس احتسابی بیانیہ کو ختم کر دیا ہے جس کی بنیاد پر انہوں نے اپنی سیاسی عمارت کھڑی کی تھی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس آرڈی ننس کے اجرا کے بعد بھی نیب کے قوانین جوں کے توں ہی رہیں گے،مثلاً چیئرمین کے پاس کوئی بھی انکوائری شروع یا ختم کرنے کا اختیار، بغیر ثبوت کے 90 دن کا ریمانڈاور سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود ٹرائل کورٹ کو ضمانت نہ دینے کا اختیار جوں کا توں رہے گا۔ کیا کسی کو اب بھی شک ہے کہ نیب میں بنائے جانے والے اکثر مقدمات غلط ثابت ہوتے ہیں، کیونکہ وہ بد نیتی پر مبنی ہیں۔ اسی طرح لوگوں کی یہ خوش فہمی بھی جلد دور ہو جائے گی کہ نئے نیب آرڈی ننس سے ملک کے کاروباری حالات بہتر ہوں گے، کیونکہ یہ صرف ایک مخصوص ٹولے کو نوازنے کے لئے جاری کیا گیا ہے اور اس کا ملکی کاروباری حالات پر قطعاً کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ کچھ ہی روز میں اصل تصویر عوام پر واضح ہو چکی ہو گی، لیکن اس وقت تک احتساب کی آخری رسومات ادا ہو چکی ہوں گی۔

مزید : رائے /کالم