زراعت میں ہائبر ڈٹیکنالوجی جلد متعارف کرانے کا اعلان 

زراعت میں ہائبر ڈٹیکنالوجی جلد متعارف کرانے کا اعلان 

  



اسلام آباد (آن لائن) پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل نے زراعت میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے انقلاب برپا کرنے کیلئے ہائبرڈ ٹیکنالوجی کو جلد از جلد متعارف کرانے کا اعلان کر دیا،اسلام آباد میں ہارٹیکلچر کے فروغ کیلئے سی ڈی اے کے تعاون سے اربوں روپے مالیت کا منصوبہ بھی شروع کرنے کا عندیدیا۔چیئرمین پی اے آرسی ڈاکٹر عظیم خان نے کہا ہے کہ یہ ایک اعزاز ہے کہ پاکستان میں دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ زیتون پیدا کرنے کی گنجائش موجود ہے،، خوراک کے 30 قومی برانڈز متعارف کرانے کے لئے حکمت عملی وضع کر رہے ہیں۔ موجودہ حکومت نے زرعی ترقی پر مکمل توجہ مرکوز کررکھی ہے،وزیر اعظم عمران خان ذاتی کاوشوں سے مختلف شعبوں کی نگرانی کررہے ہیں جس کے جلد مثبت نتائج سامنے آئیں گے،طلب اور رسد کے فرق کی بروقت نشاندہی کے لئے اشیائے ضروریہ مانیٹرنگ سیل کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے تاکہ اشیائے خورد و نوش کی قلت کی صورت میں بروقت فیصلے کئے جا سکیں۔زرعی شعبے سے وسیع آبادی منسلک ہے، اس شعبہ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کر کے نہ صرف روزگار کے مواقع حاصل کئے جا سکتے ہیں بلکہ برآمدات میں نمایاں تیزی لائی جا سکتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آن لائن کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں کیا۔ ڈاکٹر عظیم خان نے کہا ہے کہ زرعی شعبہ کی ترقی کے لئے ہائبرڈ ٹیکنالوجی کو متعارف کرانے کے لئے کوشاں ہیں، اسلام آباد میں ہارٹیکلچر کے فروغ کے لئے سی ڈی اے کے تعاون سے اربوں روپے مالیت کا منصوبہ شروع کریں گے، پاکستان میں دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ زیتون پیدا کرنے کی گنجائش موجود ہے، بڑی فصلوں میں خود کفالت حاصل کرنے کے بعد دالوں اور خوردنی آئل کے بیجوں کی پیداوار بڑھانے کے لئے تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دے رہے ہیں، تجارتی خسارے کو کم کرنے کے لئے زرعی شعبہ کی برآمدات میں اضافہ کرنا ہوگا، دیہی علاقوں میں کچن گارڈننگ اور زرعی شعبہ میں ویلیو ایڈیشن کو فروغ دے کر غربت میں کمی لائی جا سکتی ہے، روزگار کے مواقع بڑھائے جا سکتے ہیں اور شہروں کی طرف آبادی کی منتقلی کو بھی کم کیا جا سکتا ہے، خوراک کے 30 قومی برانڈز متعارف کرانے کے لئے حکمت عملی وضع کر رہے ہیں، تحقیقی سرگرمیوں کے نتائج کسانوں کی دہلیز تک پہنچانے کے لئے میڈیا کو کردار ادا کرنا ہوگا، پی آر سی پولٹری، فشریز، لائیو سٹاک سمیت ملک کی نایاب جڑی بوٹیوں کو محفوظ بنانے کے لئے تحقیقی سرگرمیاں کر رہی ہے، موجودہ حکومت زرعی شعبہ کی ترقی پر مکمل توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے، وزیراعظم خود مختلف شعبوں کی نگرانی کر رہے ہیں جس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے، طلب اور رسد کے فرق کی نگرانی کرنے، قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لئے ”اشیائے ضروریہ کے مانیٹرنگ سیل“ کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں خام مال کے بجائے ویلیو ایڈیشن مصنوعات کی برآمدات کو بڑھانا ہوگا تاکہ تجارتی خسارے کو مزید کم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی برآمدات میں زراعت کا حصہ 60 فیصد سے زیاد ہے، معیار کو بڑھا کر زرعی مصنوعات کی برآمدات میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک کا زرعی شعبہ بے پناہ ترقی اور بہتری کی صلاحیت رکھتا ہے، پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جس میں سب سے زیادہ زیتون کی پیداوار حاصل ہو سکتی ہے۔

 پی اے آر سی نے تصدیق شدہ معیاری زیتون کے پودے کسانوں کو فراہم کرنے کے لئے کام کیا ہے، آئندہ سال تک ایک لاکھ ایکڑ رقبے پر زیتون کی کاشت کا ہدف ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بڑی فصلوں گندم اور چاول میں خودکفالت کے بعد دالوں اور تیل دار خوردنی بیجوں کی پیداوار میں اضافے کے لئے تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ زرعی شعبہ میں ویلیو ایڈیشن کو فروغ دے کر روزگار کے مواقع بڑھائے جا سکتے ہیں اور غربت میں کمی لائی جا سکتی ہے، ہمارے ملک کے مختلف حصوں میں خوراک کے ایسے برانڈز موجود ہیں جن کو مزید بہتر بنا کر بین الاقوامی برانڈ بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی اے آر سی خوراک کے 30 قومی برانڈز متعارف کرانے کے لئے کوشاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیہی سطح پر کچن گارڈننگ اور زرعی شعبہ میں ویلیو ایڈیشن سے شہریوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا کر کے شہروں کی جانب آبادی کی منتقلی کو بھی روکا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت زراعت کی ترقی پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں، طلب اور رسد کے فرق کی بروقت نشاندہی کے لئے اشیائے ضروریہ مانیٹرنگ سیل کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے تاکہ اشیائے خورد و نوش کی قلت کی صورت میں بروقت فیصلے کئے جا سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ ٹماٹر کی پیداوار میں اضافے کے لئے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ٹیکنالوجی کو فروغ دے کر پیداوار میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے اور اس سلسلے میں کاشتکاروں کو مالی معاونت کی بھی ضرورت ہے تاکہ وہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے ٹماٹر کی پیداوار بڑھا سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ تحقیقی سرگرمیوں کے نتائج کسانوں کی دہلیز تک پہنچانے کے لئے میڈیا کو کردار ادا کرنا ہوگا، میڈیا زرعی شعبے کو اس طرح کوریج نہیں دیتا جس کا یہ مستحق ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تصدیق شدہ معیاری بیج کی فراہمی کے لئے سیڈ کمپنی کھول رہے ہیں تاکہ کاشتکاروں کو بروقت تصدیق شدہ معیاری بیج کاشت کے لئے دستیاب ہو سکے۔ پی آر سی کے سائنسدانوں نے بڑی فصلوں کی نئی اقسام متعارف کروا کر فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کیا ہے، جس سے کسانوں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد میں جنگلی پودوں کی جگہ پھلدار اور پھولوں والے پودے کاشت کرنے کے لئے سی ڈی اے کے تعاون سے اربوں مالیت کا منصوبہ شروع کیا جائے گا، خزاں سیزن کے دوران اسلام آباد میں درختوں سے حاصل ہونے والے پتوں سے کھاد حاصل کرنے کے لئے بھی کوشاں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ملکی اور بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے زرعی شعبہ میں تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پی آر سی کے مختلف شعبے پوری مستعدی سے اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور 90 سے زائد لیبارٹریوں سے مستفید ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ملک کے تمام یونٹس میں زیتون کی کاشت کو فروغ دیا جا رہا ہے، این اے آر سی نے ایک وسیع رقبے پر دالیں کاشت کی ہیں جبکہ سویابین کے بیج پوٹھوہار، کے پی کے اور گلگت بلتستان کے کسانوں کو بھی فراہم کئے گئے ہیں تاکہ ان علاقوں میں منافع بخش فصل کی پیداوار حاصل کی جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زرعی شعبے سے وسیع آبادی منسلک ہے، اس شعبہ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کر کے نہ صرف روزگار کے مواقع حاصل کئے جا سکتے ہیں بلکہ برآمدات میں نمایاں تیزی لائی جا سکتی ہے۔

مزید : کامرس


loading...