مقبوضہ وادی، 147ویں روز بھی فوجی محاصرہ جاری، منفی 6درجہ حرارت نے مشکلات مزید بڑھا دیں 

    مقبوضہ وادی، 147ویں روز بھی فوجی محاصرہ جاری، منفی 6درجہ حرارت نے مشکلات ...

  



سرینگر،کلکتہ (نیوزایجنسیاں)مقبوضہ کشمیر میں  اتوار کو مسلسل147ویں روز بھی بھارتی فوجی محاصرہ اوردیگر سخت پابندیاں بدستور جاری ر ہیں جن سے لوگوں کی زندگی اجیرن بنی ہوئی ہے۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق مسلسل فوجی محاصرے کی وجہ سے وادی کشمیر اور جموں اور لداخ کے مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف ودہشت کا ماحول قائم ہے۔ سرینگر سمیت وادی کشمیر کے طول وعرض میں دفعہ 144کے تحت سخت پابندیاں نافذ ہیں اوربھارتی فورسز کی بڑی تعداد تعینات ہیں جبکہ انٹرنیٹ، پری پیڈ موبائل فون اور ایس ایم ایس سروسز مسلسل معطل ہیں جس کی وجہ سے لوگوں خاص طور پر صحافیوں، طلباء اور تاجروں کوشدید مشکلات کا سامناہے۔ مقبوضہ کشمیر میں مسلسل فوجی محاصرے اور دیگر پابندیوں کی وجہ سے سال2019ء تعلیم کے حوالے سے بھی وادی کشمیر کے طلباء کے لئے انتہائی نقصاندہ ثابت ہو اہے۔ مودی کی فرقہ پرست بھارتی حکومت کی طرف سے 5 اگست کو کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم اور اس کو دو حصوں میں تقسیم کئے جانے کے بعدمقبوضہ کشمیر میں مواصلات ذرائع معطل کردیے گئے جس کی وجہ سے علاقے میں اطلاعات کی فراہمی مکمل طورپر بند ہوگئی اور مقامی ذرائع ابلاغ بھی اس ناکہ بندی کی زد میں آ گئے۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق قابض حکام نے 5 اگست کو کشمیر پریس کلب سمیت پورے علاقے کے براڈ بینڈ انٹرنیٹ کنکشن کاٹ دیے اورموبائل فون سمیت ٹیلی مواصلات کومکمل طورپر معطل کردیاتھا۔ پریس کلب سرینگر کا کنکشن کاٹ دینے کا مطلب ہے کہ 200 سے زائد کلب ممبران اپنی رپورٹس آگے نہیں بھیج سکتے ہیں۔اطلاعات کی آزادانہ فراہمی روک دی گئی ہے اور صحافیوں کو خبروں کے حصول، تحقیق اور ترسیل میں مسلسل شدید مشکلات کا سامنا ہے۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق کولکتہ سے شائع ہونے والے اخبار ٹیلی گراف نے ایک حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ انٹرنیٹ کی معطلی سے سب سے زیادہ نقصان مقامی پریس کا ہوا ہے کیونکہ اس کا کام بڑے پیمانے پر متاثر ہوا ہے۔ رپورٹ میں مقبوضہ کشمیر کے پریس کو درپیش مشکلات کو اجاگر کرتے ہوئے کہاگیا ہے کہ مقامی اخبارات میں شائع ہونے والا مواد سینسر زدہ اور حکومت کے دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔ 

کشمیر 

 واشنگٹن(آن لائن)امریکی سینٹر نے مقبوضہ کشمیرکی صورتحال پر بات کرنے کو جمہوریت کی خدمت قرار دے دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق امریکا کے صدارتی امیدواربننے کے ڈیموکریٹ خواہش مند سینیٹر کوری بوکر نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہورہی ہیں، امریکا کو مظلوم افراد کی آواز بننا چاہیے۔ سینیٹر کوری بوکر نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جہاں بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہوں، امریکا کومظلوم افرادکی آواز بننا چاہیے۔

امریکی سینیٹر

مزید : صفحہ اول