کنٹرول لائن پر بھارتی میزائل نصب، ملک کے تینوں ستون اپنی حدود میں رہیں گے تو مشکلات پیدا نہیں ہوں گی: شاہ محمو د قریشی 

  کنٹرول لائن پر بھارتی میزائل نصب، ملک کے تینوں ستون اپنی حدود میں رہیں گے ...

  



ملتان (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں)  وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ملک کے تینوں ستون اپنی حدود میں رہیں گے تو مشکلات پیدا نہیں ہوں گی،کسی کو این آر او دیا ہے نہ کسی کا تحفظ کر رہے ہیں،گیس کی کمی کو دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، توقع ہے سندھ حکومت سیاسی بیانات کے بجائے وفاق کے ساتھ مل کر مسئلہ حل کریگی،بھارت نے ایل او سی پر5 مقامات سے باڑ کو کاٹا ہے اور ایل او سی پربراہموس میزائل نصب کیے ہیں،بھارت کے ان اقدامات کا کیا مقصد ہے؟ دنیا بھارتی اقدامات کو دیکھ رہی ہے، بنگلا دیش کی کرکٹ ٹیم پاکستان آنے کو تیار تھی، بھارت کے دباؤ میں نہ آنے کا فیصلہ کیا ہے،اس وقت بھارت مکمل طور پر تقسیم نظر آرہا ہے، بھارتی عوام سڑکوں پر ہیں، اپنی ذمہ داریوں سے غافل نہیں، سفارتی اور سیاسی محاذ پر جو کیا جا سکتا ہے وہ کیا جا رہا ہے۔ اتوار کو یہاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اس وقت بھارت دو سوچوں میں تقسیم دکھائی دے رہا ہے، بھارت میں ایک طرف سیکولرازم اور دوسری طرف ہندوتوا سوچ ہے جبکہ بھارت کی کوئی ایسی ریاست نہیں جہاں احتجاجی ریلی نہ نکلی ہو، پورے بھارت میں احتجاج کی کیفیت ہے تاہم عین ممکن ہے اس سے توجہ ہٹانے کیلئے بھارت فالس فلیگ آپریشن کرے۔وزیرخارجہ نے کہا کہ کیا اب پورے بھارت پر کرفیو لگایا جا سکتا ہے، بھارت کا عالمی طور پر تشخص متاثر ہوا ہے، جو ماضی میں بھارت سے تعاون کیا کرتے تھے آج کناراکش ہیں جب کہ عالمی میڈیا بھی بھارت پر تنقید کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی وزیر خارجہ سے ملاقات کی اور کہا کہ او آئی سی میں کشمیر اور مسلمانوں پرظلم کے حوالے سے بات کرنی چاہیے، او آئی سی نے یقین دلایا ہے کہ مقبوضہ کشمیر پر موثر آواز اٹھے گی۔وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت نے جو اقدامات اٹھائے پاکستان ذہنی طور پر ان کے ساتھ بیٹھنے کیلئے تیار نہیں، ہماری اطلاع کی مطابق ایل او سی پر 5 جگہ باڑ کو کاٹا گیا ہے جبکہ سرحد پر براہموس اور دیگر میزائل نصب کرنے کا مقصد کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ بھارت کی سرگرمیوں پر اقوام متحدہ کو خط لکھا ہے، توقع ہے ملٹری آبزرورز سلامتی کونسل کو بریفنگ دیں گے، ہم اپنی ذمہ داریوں سے غافل نہیں، سفارتی اور سیاسی محاذ پر جو کیا جا سکتا ہے وہ کیا جا رہا ہے۔وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مسلم ممالک میں پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کو دور کریں گے، فروری میں ترک صدر پاکستان تشریف لا رہے ہیں، ترکی اور ملائیشیا کے شکرگزار ہیں انہوں نے ہمارے موقف کو سمجھا، ہماری کوشش رہی ہے کہ مسلم ممالک میں غلط فہمیوں کو دور کریں۔وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ نے نیب قانون میں تبدیلی کا مطالبہ کیا تاہم اب تبدیلی کی ہے تو اسے نیا رنگ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کسی کو این آر او دیا ہے نہ کسی کا تحفظ کر رہے ہیں، اپوزیشن کہتی ہے معیشت کا پہیہ نہیں چل رہا جب کہ دوسری طرف معاشی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالتی ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ لوگ کسی چیز کا مطالعہ کیے بغیر بحث شروع کر دیتے ہیں، اپوزیشن کے کچھ دوست بغیر کسی تصدیق کے تنقید شروع کر دیتے ہیں، نظر ثانی کے بعد تبدیلی کی جاری ہے تاہم نیب آرڈیننس کسی کو رعائیت یا این آر او دینے نہیں جارہے۔ انہوں نے کہا کہ گیس کی کمی کو دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، توقع ہے سندھ حکومت سیاسی بیانات کے بجائے وفاق کے ساتھ مل کر مسئلہ حل کرے گی، اس معاملے کو صوبائیت کا رنگ نہیں دینا چاہیے جب کہ وفاقی حکومت کی نیت پر شک نہ کریں۔وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آئین میں اداروں کا کردار بہت واضح ہے، ملک کے تینوں ستون اپنی حدود میں رہیں گے تو مشکلات پیدا نہیں ہوں گی، اداروں میں کوئی تصادم نہیں ہر ادارے کی اپنی حدودو قیود ہے۔وزیرخارجہ نے کہا کہ بابری مسجد کے فیصلے نے جذبات کو مجروح کیا، پاکستان نے اس مسئلے پر بھرپور طریقے سے آوازاٹھائی ہے اور  سعودی ہم منصب سے کہا بھارتی متنازع بل کیخلاف آواز اٹھنی چاہیے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ سعودی ہم منصب نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے اجلاس میں بھارتی اقدامات کے خلاف آواز اٹھانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ملتا کہا کہ بھارتی شہریت کے متنازع قانون اور مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی جارحیت پر مودی کی ہندوتوا سوچ بے نقاب ہو گئی ہے، اسی لیے مسلم، ہندو، سکھ کمیونٹی متنازع شہریت قانون پر مل کر احتجاج کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ آسام، مدھیہ پردیش سمیت کئی ریاستوں میں چیف منسٹرز نے ریلیوں کی خود قیادت کی، بھارت میں جو کچھ ہو رہا ہے اس پر دنیا بھی اب خاموش نہیں ہیشاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ نیب قانون میں ترمیم ن لیگ کا پرانا مطالبہ ہے، اب واویلا کیوں کیا جا رہا ہے؟ آرڈیننس لانے کا مقصد کرپشن پر پردہ ڈالنا یا این آر او دینا نہیں، حکومت کی نیت پر شک نہ کیا جائے، ملک لوٹنے والوں کیلئے زیرو ٹالرنس پالیسی برقرار ہے.وزیر خارجہ  نے کہا کہ بغیر مطالعہ تنقید ہمارے ہاں روش بن گئی ہے، اپوزیشن کہہ رہی ہے معیشت کا پہیہ نہیں چل رہا، دوسری طرف اپوزیشن معاشی معاملات میں رکاوٹ ڈالتی ہے، معاشی استحکام کیلئے حکومتی اقدامات پر تنقید کی جاتی ہے، کسی کو رعایت یا این آراو دینا ہمارا مقصد نہیں۔ نیب قانون پر نظرثانی پیپلزپارٹی اور (ن) لیگ کا مطالبہ تھا۔انہوں نے کہا کہ کراچی شہر ملک کی انڈسٹریل حب ہے، وہاں گیس بحران سے پروڈکشن میں کمی ہو گی، وفاقی حکومت نہیں چاہے گی کہ پرڈوکشن بند ہو، وفاقی حکومت سندھ کیساتھ پورا پورا تعاون کرے گی۔

شاہ محمود قریشی

مزید : صفحہ اول


loading...