امریکہ کا سب سے بڑا مطالبہ تسلیم  افغان طالبان جنگ بندی پر رضامند

امریکہ کا سب سے بڑا مطالبہ تسلیم  افغان طالبان جنگ بندی پر رضامند

  



 کابل (مانیٹرنگ ڈیسک) طالبان نے اتوار کے روز کہا ہے انہوں نے افغانستان بھر میں عارضی جنگ بندی پر رضا مندی ظاہر کردی ہے، اس اقدام سے امریکہ کیساتھ امن معاہدے پر دستخط کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطا بق طالبان کیساتھ امن معاہدے کے نتیجے میں امریکہ اس قابل ہوگا وہ افغانستان میں اپنی تاریخ کی طویل ترین جنگ ختم کرسکے اور اپنے فو جیوں کو واپس گھر لاسکے۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت افغانستان میں امریکہ کے 12 ہزار فوجی موجود ہیں۔ امریکہ چاہتا ہے طا لبا ن اس بات کی یقین دہانی کرائیں کہ افغانستان کو دہشت گردوں کا بیس کیمپ نہیں بننے دیا جائیگا۔طالبان کی جانب سے یہ واضح نہیں کیا گیا جنگ بندی معاہدہ کتنے دن کا ہوگا مگر یہ 10 دن کا سیز فائر ہوسکتا ہے جس کی حتمی منظوری طالبان کے امیر ملا ہبت اللہ نے دینی ہے۔ امریکہ کیساتھ معاہدے سے باخبر طالبان رہنماؤں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہماری مذاکراتی ٹیم نے ایک ہفتے تک طالبان کی شور یٰ کیساتھ مشاورت کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ مختصر عرصے کیلئے جنگ بندی کی جائے گی، مذاکراتی ٹیم گزشتہ روز ہی افغانستان سے واپس قطر پہنچی ہے۔طالبان کی جانب سے جنگ بندی پر رضا مندی کے اظہار کے بعد قوی امکان پیدا ہوگیا ہے جلد امریکہ اور طالبان کے مابین معاہدے پر دستخط ہوجائیں گے جس کے 2 ہفتوں کے اندر انٹرا افغان مذاکرات کا آغاز ہوگا۔ خیال رہے امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے مذاکرات کے گزشتہ دور میں عارضی جنگ بندی کی تجویز دی تھی۔

طالبان رضا مند

مزید : صفحہ اول