سندھ کے کنٹریکٹ اساتذہ آج وزیراعلیٰ ہاؤس پر دھرنا دیں گے

سندھ کے کنٹریکٹ اساتذہ آج وزیراعلیٰ ہاؤس پر دھرنا دیں گے

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر) محکمہ تعلیم سندھ کے کنٹریکٹ اساتذہ مستقل نہ کیے جانے کے خلاف آج (پیر) وزیراعلی ہاؤس کراچی کے سامنے دھرنا دیں گے۔ اس سلسلے میں اساتذہ کے قافلے اتوار کے روز سے ہی کراچی روانہ ہونا شروع ہوگئے تھے۔ اقرا یونیورسٹی،سندھ یونیورسٹی اور این ٹی ایس کے 8ہزار سے زائد اساتذہ گزشتہ دس سالوں سے کنٹریکٹ پر ملازمت کررہے ہیں جنہیں محکمہ تعلیم کی بیوروکریسی اب ملازمتوں سے برخاست کرنے کی سازش کررہی ہے جس کے خلاف اساتذہ گزشتہ بیس روز سے سراپااحتجاج ہیں اور اس سے قبل دو بار وزیراعلی ہاوس کی طرف مارچ کرچکے ہیں اور مسلسل کراچی پریس کلب کے سامنے بھوک ہڑتالی کیمپ قائم کرکے علامتی بھوک ہڑتال کررہے ہیں مگر حکومت سندھ نے اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا اورکنٹریکٹ اساتذہ کی مستقلی میں رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں پیر کے روز دیے جانے والے دھرنے کی قیادت پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن کے مرکزی رہنما انتظار حسین چھلگری۔شفیع محمد سٹھیو کریں گے جبکہ مختلف سیاسی اور سماجی تنظیموں کے رہنما بھی اساتذہ سے اظہار یکجہتی کے لیے دھرنے میں شرکت کریں گے اس حوالے سے کنٹریکٹ ٹیچرز جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنماوں بابو لغاری۔گلزار چنہ امیر پنہور۔انیتاخان۔فدا حسین درس اور دیگر نے کہا کہ محکمہ تعلیم سندھ کے حکام کنٹریکٹ اساتذہ کو بے روزگارکرنے پر تلے ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم کی بیورو کریسی وزیراعلی سندھ اور دیگر حکام کو غلط بریفنگ دے کر کنٹریکٹ اساتذہ کو مستقل کرنے میں روڑے اٹکا رہی ہے سندھ کے کنٹریکٹ اساتذہ گزشتہ بیس روز سے اپنی عدم مستقلی کے خلاف احتجاجی تحریک چلا رہے ہیں مگر حکومت سندھ شدید بے حسی کا مظاہرہ کرکے ان کے جائز مطالبات پورے کرنے میں پہلو تہی برت رہی ہے جس پر اساتذہ میں زبردست غم وغصہ پایا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ پیر کے روز سندھ بھر کے اساتذہ وزیراعلی ہاوس کی طرف مارچ کریں گے اور دھرنا دیں گے اساتذہ کی یہ تحریک مطالبات پورے ہونے تک جاری رہے گی۔

مزید : صفحہ اول


loading...