تھر میں سینکڑوں بچوں کی ہلاکت تشویشناک ہے، ایم کیو ایم

  تھر میں سینکڑوں بچوں کی ہلاکت تشویشناک ہے، ایم کیو ایم

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر) متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے اراکین سندھ اسمبلی نے تھر میں رواں سال کے دوران 820بچوں کی غذائی قلت و دیگر امراض کے باعث ہلاکت اور حکومت سندھ کی بے حسی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ۔سرکاری اسپتالوں میں دوائیں اور سہولتیں نا پید ہیں۔حکومت سندھ نے صرف دعوی کئے۔ وزیر اعظم اور وزیر اعلی سندھ سمیت ارباب اقتدار کے دوروں کے باوجود تھر کے عوام سہولتوں سے محروم ہیں۔اراکین سندھ اسمبلی ایم کیو ایم نے کہاکہ جنوری میں 69بچے، فروری میں 61، مارچ میں 70، اپریل میں 76، مئی میں 73، جون میں 66، جولائی میں 72، اگست میں 63، ستمبر میں 69، اکتوبر میں 84، نومبر میں 61اور رواں ماہ میں ابتک 57بچے جاں بحق ہو چکے ہیں۔ جبکہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2015میں 398، 2016میں 479، 2017میں 450، 2018میں 634بچے جاں بحق ہوئے۔ جبکہ اس سال سب سے زیادہ 820بچے زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ حکومت سندھ سیاست کر رہی ہے جبکہ اسکی بیڈ گورننس نے تھر کے عوام کو شدید مشکلات کا شکار کردیا ہے۔ نہ غذائی قلت دور کی جاتی ہے نہ ادویات کی فراہمی ہو رہی ہے۔ اراکین اسمبلی سندھ نے کہا کہ تھر کے عوام کو بھی حکومت سندھ انسان سمجھے۔ہم چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ سے درخواست کرتے ہیں کہ حکومت سندھ کی بیڈ گورننس اور انسانی جانوں کے ضیاع کا نوٹس لیں اور ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کرائیں۔

مزید : صفحہ اول