مسلم اُمہ کا پاکستان پر اعتماد ختم ہو چکا‘ آفتاب شیرپاؤ

    مسلم اُمہ کا پاکستان پر اعتماد ختم ہو چکا‘ آفتاب شیرپاؤ

  



چارسدہ (بیو رو رپورٹ) قومی وطن پارٹی کے چیئرمین آفتاب احمد خان نے کہا ہے کہ نیب قانون میں صدارتی آرڈینیس کے ذریعے ترمیم کرکے کپتان اپنے لوگوں کو بچارہے ہیں۔ ملایشیا کا نفرنس میں عمرا ن خان کی عدم شرکت سے مسلم امہ کا پاکستان پر اعتماد ختم ہو چکا ہے۔ او آئی سی اتنی مضبوط ہو تی تو بھارت میں متنازعہ شہریت قانون نافذ نہ ہو تا۔ پاکستان میں امن افغانستان کے ا من سے وابستہ ہے۔ کپتان کے سلیکٹرز اب اپنے فیصلے پر پشیمان ہیں۔ وہ چارسدہ میں سابق وزیر قانون بیرسٹر ارشد عبداللہ کی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر صوبائی چیئرمین سکندر شیر پاؤ، نائب چیئرپرسن الحاج محمد ہاشم خان، شمشیر خان، قیصر جمال ہشتنغرے، حامد ترنگزئی اور پارٹی کے دیگر ذمہ داران بھی موجود تھے۔ آفتاب احمد خان شیر پاؤ نے سابق وزیر قانون بیرسٹر ارشد عبداللہ کو قومی وطن پارٹی میں باضابطہ شمولیت کی دعوت دی۔ آفتاب احمد خان شیر پاؤ نے پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ آئین اور پارلیمنٹ کے ہوتے ہوئے عمران خان نے پارلیمنٹ کو غیر موثر بنا دیا ہے اورصدارتی آرڈیننسوں کے ذریعے ملک چلانے کی ناکام کو شش کر رہے ہیں۔ نیب قانون میں صدارتی آرڈیننس کے ذریعے تبدیلی مستر د کر تے ہوئے آفتاب احمد خان شیر پاؤ نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ جہانگیر ترین اور دیگر ساتھیوں سمیت بی آرٹی، ملم جبہ اور بلین ٹری سونامی میں اربوں روپے کرپشن چھپانے کیلئے نیب قانون میں آرڈنینس کے ذریعے ترمیم کی گئی جس کو اپو زیشن کی تمام پارٹیوں نے مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے جنرل پر ویز مشرف پھانسی سزا کے حوالے سے کہا کہ حصوصی عدالت نے طویل عدالتی پرو سیڈنگ کے بعد وزارت داخلہ کے ذریعے قائم سنگین غداری مقدمہ کا فیصلہ سنایا مگر حکومت فیصلے سے حواس باختہ ہو چکی ہے اور ہر صورت جنرل مشرف کو بچانے کی کو ششوں میں مصروف عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ کپتان کو لانے والے سلیکٹرز اپنے کئے پر پشیمان ہے کیونکہ ان کے کپتان سے آرمی چیف کی توسیع کا ایک نوٹیفیکیشن تک درست انداز میں جاری نہ ہو سکا جس کی وجہ سے آرمی چیف کے ملازمت کے توسیع کا ایشو متنازعہ بن گیا۔ آفتاب احمد خان شیر پاؤ نے کہا کہ اپو زیشن نیب قانون میں ترمیم کی حمایت کر تی ہے مگر یہ ترمیم اپو زیشن پارلیمنٹ کے ذریعے لانا چاہتی ہے ویسے بھی سینٹ نے نیب قانون میں ترمیم حوالے سے ایک متفقہ بل منظور کیا تھا جس میں قومی اسمبلی کے ذریعے مزید بہتری کی گنجائش موجود تھی مگر کپتان آرڈنینس کے عادی ہو چکے ہیں اور پارلیمنٹ کو بے توقیر کر نے پر تلے ہوئے ہیں جس سے جمہوریت کو نقصان ہو رہا ہے۔ آفتاب احمد خان شیر پاؤ نے خیبر پختونخوا کو بجلی کی حالص منافع کی رقم کی عدم ادائیگی پر شدید رد عمل کا اظہار کر تے ہوئے کہا کہ ادائیگی کے حوالے سے تاخیری حربے اور کمیٹی پر کمیٹیاں بنا ئی جا رہی ہے تاکہ پختونوں کو اپنے حق سے محروم کیا جا سکے۔ کپتان کی طر ف سے سابقہ فاٹا میں ترقیاتی منصوبوں کے اعلانات اور بھاری بھرکم پیکج جھوٹ کا پلندہ ثابت ہو رہے ہیں۔ عمران خان کے تمام انتخابی دعوے اور وعدے جھوٹ کا پلندہ ثابت ہو ئے۔ 20فی صد مہنگائی سے غریب اور متوسط لوگوں کا جینا حرام ہو چکا ہے۔ کپتان نے دعوی کیا تھا کہ حکومت میں آتے ہی لوٹی ہوئی 20 بلین ڈالر قومی دولت بیرون ملک سے لا کر ملک کی معاشی صورتحال مستحکم بناؤنگا مگر آج تک ایک دھیلہ نہ لا سکے۔ آفتاب احمد خان شیر پاؤ نے ملایشیا کانفرنس میں کپتان کی عدم شرکت پر شدید تحفظا ت کا اظہار کیا اور کہا کہ یو این او کانفرنس میں ترکی، ملایشیا اور کئی دیگر ممالک نے کشمیر ایشو پر پاکستان کی کھل کر حمایت کی جبکہ ملایشیا کانفرنس بھی عمران خان کی تجویز پر طلب کیا گیا مگر کپتان نے عین موقع پر امریکہ اور سعودی عرب کے دباؤ پر مذکورہ کانفرنس میں عدم شرکت کا اعلان کرکے مسلم امہ کا پاکستان پر اعتماد ختم کیا ہے۔ اُو آئی سی کے وزاراء خارجہ کانفرنس سے مودی کی پالیسیوں میں تبدیلی کی توقع حام خیالی ہے۔ او آئی سی اتنی مضبوط ہو تی تو بھارت میں متنازعہ شہریت قانون اور کشمیر میں اتنا بڑا ظلم نہ ہو تا۔ انہوں نے پاکستان میں امن کو افغانستان میں امن سے جوڑتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی طرف سے افغان طالبان سے ا من مذاکرات خوش آئند ہے اور کہا کہ افغان حکومت کو ہر حالت میں امن مذاکرات کا حصہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ انتخابات میں کامیابی کیلئے افغانستان میں موجود امریکی فوج میں کمی کر رہے ہیں۔ افغانستان میں صدارتی انتخابات میں دھاندلی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں آفتاب احمد خان شیر پاؤ نے کہا کہ ابھی ابتدائی نتائج سامنے آئے ہیں جس پر ایک صدارتی امید وار عبداللہ عبداللہ کو تحفظات ہیں مگر قومی وطن پارٹی جنگ زدہ افغانستان میں جمہوری عمل کو احسن انداز سے دیکھتی ہے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر