2019‘سرکاری ہسپتالوں میں ”تماشہ“ مریضوں پر تجربات‘ کئی زندگیاں ضائع

  2019‘سرکاری ہسپتالوں میں ”تماشہ“ مریضوں پر تجربات‘ کئی زندگیاں ضائع

  



ملتان(وقائع نگار) ضلع بھر کے سرکاری ہسپتالوں کے مختلف شعبوں کے سربراہ (پروفیسر) کی من مانیوں بڑھنے لگیں۔سرکاری اوقات میں وارڈ میں توجہ کم اور خوش گپیوں پر توجہ زیادہ دیتے ہیں۔اپریشن کے وقت تھیڑ سے غائب رہنا معمول بنا لیا۔ جونیئرز ڈاکٹرز آپریشن کے دوران مریضوں پر تجربوں کے نام پر اپنا ہاتھ صاف کرتے نظر ائے وزیر اعظم پاکستان سیٹزن پورٹل اور ہسپتالوں کی انتظامیہ(بقیہ نمبر30صفحہ12پر)

کو بار بار شکایت کرنے کے باوجود اعلی حکام ٹس سے مس نہیں ہوئے۔ذرائع سے معلوم ہوا نشتر ہسپتال۔گورننمنٹ شہباز شریف جنرل ہسپتال۔فاطمہ جناح ہسپتال۔سول ہسپتال۔چلڈرن ہسپتال۔چوہدری پرویز الہی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی اور کڈنی سمیت دیگر بنیادی و دہیی علاقوں میں قائم سینٹروں کے سربراہان پروفیسرز و سینئرز ڈاکٹرز کے بارے میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ اکثر ڈاکٹر اپنی سرکاری ڈیوٹی کے اوقات میں اپنا زیادہ تر وقت نجی کاموں اور کلینکس میں گزارتے ہیں۔کیونکہ ایسا لگتا ہے کہ جیسے ہسپتالوں میں آئے ہوئے مریضوں کو چیک کرنا اپنی ہتک سمجھتے ہیں۔وارڈ کے سربراہ اور سینیرز ڈاکٹرز ہونے کے ناطے اپنی ذمے داریوں سے بھاگنا معمول بنتا جارہا ہے۔سرکاری اوقات میں دوران ڈیوٹی بھی ہسپتال کے دوسرے وارڈز میں جاکر وقت گزارتے ہیں۔اور وہاں خوش گپیوں میں مصروف رہتے ہیں۔جسکی وجہ سے وارڈز میں داخل مریضوں کو جونئیرز ڈاکٹر کے سہارے چھوڑ دیا جاتا ہے۔جو مریضوں پر تجربوں کے نام پر اپنا ہاتھ صاف کرتے ہیں۔اپریشن بھی زیادہ تر خود نہیں کرتے ہیں۔ناتجربہ کار ڈاکٹروں سے علاج اور آپریشن کروانے سے انسانی جان ضائع ہونے کے خطرات بڑھتے بھی بڑھتے جارہے ہیں۔ذرائع کے مطابق سینیرز اور جونیئرز ڈاکٹروں کی وزیر اعظم پاکستان سیٹزن پورٹل پر ان گنت شکایت درج کروائی جاچکی ہیں۔لیکن اس کے باوجود ڈاکٹروں کے خلاف کی گئیں کاروائیاں نامکمل رہیں ہیں۔اور اگر ڈاکٹروں کے خلاف اگر محکمانہ کاروائی ہوئی بھی ہے تو وہ صرف کاغذوں کی حد تک محدود ہوکر رہ گئیں ہیں۔مریضوں اور انکے لواحقین نے الزام لگایا ہے زیادہ تر ڈاکٹروں کا مریضوں کے ساتھ رویہ ناروا رہا ہے۔اپنے پرائیویٹ کلینک پر مریضوں کو زبردستی بلایا جاتا یے۔مریضوں اور لواحقین نے مذکورہ صورت حال پر فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔جبکہ ملتان کے سرکاری ہسپتالوں کے پروفسیرز اور ڈاکٹرز کا اس بارے میں کہنا ہے کہ ڈیوٹی کے اوقات میں سب پروفسیر اپنے اپنے وارڈز میں ڈیوٹی سر انجام دیتے ہیں۔اور نہ ہی کسی مریض کو زبردستی علاج معالجہ کی غرض سے نجی کلینک پر بلایا جاتا ہے۔جبکہ سرکاری ہسپتالوں کی انتظامیہ کے مطابق وزیر اعظم سٹیزن پورٹل سمیت دیگر موصول ہونے والی شکایات پر سخت ایکشن کیا جاتا ہے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر