رحیم یار خان، بیلف کا ٹارچر سیل پر چھاپہ، دو افراد بازیاب، انکوائری کمیٹی تشکیل 

رحیم یار خان، بیلف کا ٹارچر سیل پر چھاپہ، دو افراد بازیاب، انکوائری کمیٹی ...

  



رحیم یار خان (نمائندہ پاکستان)تھانہ سٹی بی ڈویژن کے ایس ایچ او کاانوکھاکارنامہ سامنے آیا ہے نجی ٹارچرسیل بناکربے قصور افراد پرتشدد کاانکشاف ہوا ہے‘ورثاء نے عدالت میں رٹ پیٹیشن دائرکردی‘ فاضل عدالت کے حکم پربیلفنے چھاپہ مار کر  ایڈووکیٹ سپریم کورٹ کے بیٹے سمیت دو افرادکو بازیاب کرالیا۔ایڈیشنل اینڈسیشن جج کی عدالت میں پیش کردیا‘ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر منتظر مہدی نے وائرل ویڈیو پر نوٹس  لیکرخود انکوائری(بقیہ نمبر28صفحہ12پر)

 کرنے کا فیصلہ تفصیل کے مطابق حاجی محمد ارشد ملہی کو  27 -12- 2019 کو بوقت چھ بج کر ستارہ منٹ پر موبائل فون کے ذریعے ایس ایچ او تھانہ بی ڈویژن بشارت نیازی نے خود اپنے موبائل نمبر سے کال کرکے تھانہ بی ڈویژن بلایا اور بلا جواز بغیر کسی ایف آئی آر بغیر کسی مقدمہ کہ تھانہ سٹی بی ڈویژن میں بٹھا لیا بلاجواز حس بے جا میں رکھا ایس ایچ او بشارت نازی تھانہ سٹی بی ڈویژن نے اپنی پرائیویٹ گاڑی پر بٹھا کر دونوں کو تھانہ اقبال آباد منتقل کردیا پھر تھانہ اقبال آباد اور ایس ایچ او بی ڈویژن نے ایک نامعلوم مقام پر منتقل کردیا اور اس پرائیویٹ ٹارچرسیل میں ساری رات تشدد کا نشانہ بنایا گیا جب لواحقین نے ایس ایچ او بشارت نیازی سے پوچھا کہ ہمارے بچے کہاں پر ہیں تو ایس ایچ او بشارت نیازی گرفتاری سے انکاری ہو گیا ساری رات اس ٹارچرسیل میں کامران شاہ اور ارشد ملی پر تشدد کیا جاتا رہا صبح دن چڑھنے پر سائلین نے جست آرچر سیل پرائیویٹ مقام پر رکھا ہوا اور تشدد کیا تھا وہاں کے ایک ملازم کی منت سماجت کی منت سماجت کے بعد خدا کے واسطے دینے پر ملازم نے حامی بھری کہ مجھے اپنے وارثین کا نمبر دو یہ ٹارچرسیل اقبال آباد  میں ہے اور یہ بڑڑا کا ڈیرہ ہے یہاں پولیس والے کی لوگوں کو لے کر آتے ہیں اور تشدد کرتے ہیں اور کئی لوگوں کو یہاں مارا جا چکا ہے ملازم نے کہا کہ آپ کے وارثاکو اطلاع دیتا ہوں اور ملازم نے  بذریعہ ٹیلیفون ورثا کو اطلاع کی اور مکمل ایڈریس مقام بتلایا اور کہا کہ آپ کے بندوں کی جان خطرے میں ہے فوری طور پر انہیں بچا لیا جائے۔جس پر ظفر خان ترین ایڈووکیٹ ہائی کورٹ‘حبیب پارس ایڈوکیٹ ہائی کورٹ‘سید زاہد حسین شاہ ایڈووکیٹ ہائی کورٹ نے فوری طور پر‘ایڈیشنل سیشن جج اقتدار علی  کو درخواست دی جس پر ایڈیشنل سیشن جج صاحب نے فور رننگ بیلف کو آرڈر دیا کے فوری طور پر ٹارچر سیل پر چھاپا مار کر کامران شاہ اور ارشد ملہی کو ٹارچر سیل سے پولیس سے آزاد کروایا جائے اور عدالت پیش کیا جائے بیلف نے کامیاب چھاپا مار کرپرائیویٹ ڈیرہ جہاں پولیس نے ٹارچرسیل بنایا ہوا تھا سے  تھانہ کی سرکاری گاڑی نمبری RNU 7514 اور سرکاری ملازمین پنجاب پولیس سے ان کو بازیاب کروایا اور عدالت پیش کیا عدالت عالیہ نے کاروائی کرتے ہوئے کامران شاہ اور ارشد ملہی کو پولیس کے ٹارچر سیل سے آزاد کروا کر پولیس کے خلاف کارروائی شروع کر دی جس کی فائنل رپورٹ پولیس کے خلاف کارروائی آج عمل میں لائی جائے گی‘ورثاء کا اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ پولیس کے نجی ٹارچر سیل کو فی الفور ختم کیا جائے۔ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر منتظر مہدی نے تھانہ اقبال آباد پولیس سے متعلق وائرل ویڈیو پر نوٹس لیتے ہوئے خود انکوائری کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس سلسلہ میں میں ڈی پی او نے اپنے ہمراہ انکوائری کمیٹی بنا دی  ہے جس میں ڈی پی او منتظر مہدی خود چئیرمین جبکہ ڈی ایس پی صدر سرکل رانا اکمل رسول نادر اور ڈی ایس پی لیگل محمد رزاق رانا ان کے ہمراہ بطور ممبران فرائض سرانجام دیں گے ڈی پی او منتظر مہدی نے اس سلسلہ میں کہا کہ کمیٹی اس معاملہ کی ہر زاویہ سے جائزہ لے کر انکوائری مکمل کرے گی اور قصور وار ثابت ہونے پر اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی و محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی‘ بدنام زمانہ ٹارچر سیل چلانے والے کے پولیس ٹارچر سیل کے واویلے’کچھ سال قبل رحیم یار خان تھانہ بی ڈویژن کی حدود میں ایک ٹارچر سیل کا انکشاف ہوا تھا جسے کوئی اور نہیں ایک سیاسی جماعت سے وابستگی شو کرنے والا متعدد سنگین مقدمات کا نامزد ملزم چلا رہا تھا  اب ایک مرتبہ پھر کامی شاہ کے نشانے پر پھر پولیس ہی ہے جس میں کامی شاہ نے دو ویڈیوز وائرل کروائی ہیں جن میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس اہلکار موبائل گاڑی کے ساتھ کھڑے ہیں اور ویڈیو بنانے والے اہلکاروں کو حراساں کرتے اور ان کا نام معلوم کرتے دکھائی دے رہے ہیں جبکہ کامران عرف کامی شاہ اچانک ویڈیو میں ظاہر ہو کر پولیس پر حراست میں رکھنے تشدد کرنے کے آلزامات عائد کرتا ہے اور پھر وہاں موجود افراد کو ساتھ چلنے کا حکم دیتا’ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کامی شاہ پولیس حراست میں ہے نہ پولیس وین میں اور نہ ہی اسے کسی پولیس اہلکار نے پکڑ رکھا ہے اور نہ ہی اسے ہتھ کڑی یا دیگر کسی چیز سے باندھا گیا ہے‘کامی شاہ تشدد کے الزامات عائد کرتے ہوئے پر جوش اور بہترین حالت و لباس میں ہے نہ تشدد و جگراتے سے نڈھال پولیس پر الزامات اور حالات بر عکس نقشہ پیش کر رہے ہیں۔

چھاپہ 

مزید : ملتان صفحہ آخر