پولیس کورویے میں تبدیلی لانے کی ضرورت

پولیس کورویے میں تبدیلی لانے کی ضرورت
پولیس کورویے میں تبدیلی لانے کی ضرورت

  



تائیس دسمبرکو شائع ہونے والے میں نے اپنے ایک کالم میں راولپنڈی کے ایک انسپکٹر بشارت عباسی کی سنی سنائی روداد بیان کرتے ہوئے اسے مظلوم کے طور پر جبکہ سی پی او راولپنڈی احسن یونس کا مؤقف سنے بغیر اسے ایک سخت گیر پولیس آفیسر کے روپ میں پیش کیا تھا۔

انسپکٹر صاحب کے مطابق انھوں نے سی پی او کے رویے سے تنگ آکر ایس ایچ او شپ چھوڑکر لائن میں رپورٹ کی ہے۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے جب سے حلف اٹھایا ہے وہ پہلے روز سے آج تک پنجاب پولیس میں اصلاحات لانے پر زور دے رہے ہیں انسپکٹر بشارت عباسی صاحب وہ یہ چاہتے ہیں کہ شریف شہریوں کو تھانے میں عزت ملے پولیس کسی کے ساتھ ناانصافی یا بد کلامی نہ کرے لیکن ہماری پنجاب پولیس ہے کہ سدھرنے کا نام ہی نہیں لیتی۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ افسران ازل سے بگڑے ہوئے تھانیداروں کو ان کے گھناؤنے جرم کی سزا بھی نہ دیں اور وہ خود بخود ٹھیک ہو جائیں جب تک آپ اس محکمے سے کالی بھیڑوں کا صفایا نہیں کریں گے اس کا مورال ٹھیک نہیں ہو گا،ہر حکومت نے تھانہ کلچر کی تبدیلی کا رونا ضرور رویا، اہلکاروں کے رویے میں مثبت تبدیلی لا نے کا عندیہ بھی دیا مگر یہ اہلکار ایک بگڑی ہوئی نسل ہیں،رشوت لیے بغیر کسی سے سلام کر نا بھی اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ تھانے میں کون بیٹھا ہے وہاں انسپکٹر صاحب جب شہریوں کو عزت نہیں دیں گے ان کی بات نہیں سنیں گے ان کے مقدمات کی تفتیش ٹھیک نہیں کریں گے، رشوت لینا نہیں چھوڑیں گے چلان مکمل کرتے ہوئے ملزمان کو سزا نہیں دلوا پائیں گے۔ڈاکو گرفتار کر کے لوٹا ہوا مال برآمد نہیں کریں گے متاثرین کا نقصان پورا نہیں کریں گے تو یہ لوگ ہماری پولیس کی کیا خاک عزت کریں گے افسران بھی اگرکرپٹ، نکمے انسپکٹرز،کام چور تھانیداروں اور دیگر اہلکاروں سے مل جائیں تو عوام ان کی شکایاتیں نہیں کرے گی توکیاان کے گلے میں پھولوں کے ہار ڈالے گی،ان نکمے اور کرپٹ اہلکاروں کی وجہ سے آج ہماری پولیس کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں، پولیس کو بنیادی طور پر عوام کا خادم ہونا چاہیے لیکن ایسا نہیں ہے۔

پولیس، تھانہ اور کچہری میں شریف لوگ نہ صرف جانے سے گھبراتے ہیں، بلکہ کسی چوراہے پر بھی کوئی کانسٹیبل نظر آجائے تو عوام مجبوراً اپنا راستہ بدلنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ عوام کی جان مال کی حفاظت کرنا انہیں تحفظ فراہم کرنا جہاں حکومت کا کام وہی یہ ذمہ داری پولیس،رینجرزودیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں پر بھی عائد ہوتی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے فوج،رینجرز،پولیس ودیگرقانون نافذکے اہلکاروں نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔لیکن پولیس میں لوئراسٹاف کی عادتیں ابھی بھی صدری ہوئی نہیں ہیں،ان کا قبلہ درست کرنے کی اشدضرور ت ہے۔پولیس رمضان محرم اور دیگر کئی موقوں پر لوگوں کی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی جھلسا دینے والی گرمی اور خون جما دینے والی شدید سردی میں کام کرتے تھکتی نہیں۔ جرائم کی بیخ کنی کے لیے دوڑتی ہے،بڑے سے بڑے خطرناک ملزمان کو پکڑتی ہے اندھا قتل ٹریس کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی کیا وجہ ہے کے اس کے باوجود پولیس عزت اور اعلی مقام نہیں لے پائی اگر پولیس خود ان لوگوں کی جگہ اپنے آپ کو رکھ کر یہ سوچے کہ اگر ان کی بیٹی یا بیٹے کا کوئی مسئلہ ہو ان کے گھر ڈکیتی یا چوری ہوجائے خدانخواستہ ان کے گھر کوئی قتل یا ریپ ہوجائے یا اس طرح کا کوئی اور واقعہ رونما ہو جائے تو یہ کیا محسوس کریں گے یہ تھانے میں جائیں ان کے ساتھ ایس ایچ او کا رویہ کیسا ہونا چاہیے تھانے کے دروازے پر جو سنتری کھڑا ہے اس کو کیسے پیش آنا چاہیے

اگر آپ پندرہ پر کال کریں تو آپ سے کس لہجے میں بات کرے رات کو اگر آپ کو ناکے پر روکا جائے تو اس پولیس آفیسر یا کانسٹیبل کا رویہ آپ کے ساتھ کیسا ہونا چاہیے کیا آپ یہ محسوس نہیں کریں گے کے ناکے پر روکنے والا کانسٹیبل آپ کو سلوٹ کرے اور عزت اور اخلاق سے پیش آئے کیوں کہ آپ کو اس چیز کو یاد رکھنا چاہیے کہ آپ کی تنخوایوں سمیت جتنی بھی سہولیات ہیں عوام کے ٹیکسوں سے ادا کی جاتی ہیں۔فورس کو جو پیار محبت ملناچاہیے کیوں نہیں ملا، جو معاشرے میں فورس کامقام ہونا چاہیے تھا کیوں نہیں ہے،اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ پولیس فورس کا اخلاق و تعلقات اپنے لوگوں کے ساتھ کچھ زیادہ خوشگوار نہیں ہیں، اگر کسی شہری کو پولیس اسٹیشن آنا پڑ جائے تو وہ کیوں گھبراتا ہے، یہ وہ سارے مسائل ہیں اگر آپ منفی چیزوں کو چھوڑ کر مثبت چیزوں کی طرف جائیں گے تو میں سمجھتا ہوں پنجاب پولیس دنیا کی بہترین پولیس فورس ثابت ہوگی۔کسی بھی نظام کے بگاڑ یا سدھار کے ذمے دار اس کے اوپر والے اور کرتا دھرتا ہوتے ہیں۔ یہ کہنا ہرگز غلط نہ ہوگا کہ ہمارے ہاں، محنتی و مثبت سوچ کے حامل قابل اور ایماندار اعلیٰ افسران بہت کم ہیں جو کڑے احتساب کا نظام رائج کرکے نچلی سطح کے کرپٹ اور غیر انسانی کرداروں کو راہ راست پر لاسکیں۔

سی پی او راولپنڈی احسن یونس کومیں ذاتی طور پر جانتا ہوں وہ انتہائی دیانت دار غیر سیاسی پیشہ ور انہ مہارتوں کے حامل اور محب الوطنی کے جذبے سے سرشار آفیسر ہیں میڈیا میں ہماری کرائم رپورٹنگ کے دوران وہ لاہور میں کئی ایک سرکل میں بطور اے ایس پی بعد ازاں ایس پی اور ایس ایس پی بھی رہ چکے ہیں وہ ڈی پی او بھی بنے اور اس سے قبل سی پی او بھی تعینات رہ چکے ہیں میں نے آج تک انہیں کبھی بھی سفارش کے بل بوتے پر پوسٹنگ حاصل کرتے نہیں دیکھا وہ جہاں بھی گئے اپنا کام انتہائی دیانت داری سے کرتے پائے گئے ہیں۔وہ سخت گیر ضرور ہیں بد دیانت نہیں چکنی چپڑی باتیں یا چاپلوسی کر نا ان کی عادت میں شامل نہیں وہ چہرہ شناس نہ سہی،فرض شناس ضرورہیں۔احسن یونس کی دیانتداری کے بارے میں تو سبھی لوگ شاید نہ جانتے ہوں اْن کی انسان دوستی کے قصے مگر زبان زد عام ہیں۔

مزید : رائے /کالم


loading...