عدلیہ کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے؟

عدلیہ کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے؟
عدلیہ کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے؟

  



اکتوبر 1999 ء میں جب پرویز مشرف صاحب نے آئین شکنی کا افسوسناک اقدام کیا تو درویش نے ایک حوالے سے معروف وکیل اسمعیل قریشی ایڈووکیٹ کا انٹرویو کیا جس میں وہ نظریہ ضرورت کے تحت اس اقدام کی حمایت میں رطب اللسان تھے مگر جب تاریخی حوالے سے بات کرتے ہوئے خلیفہ ثانی کے حوالے سے یہ سوال اٹھایا کہ انھوں نے اپنے وقت کے اتنے عظیم الشان اسلامی جرنیل کو محض اس لیے ان کے عہدے سے ہٹا دیا تھا کہ ایک فاتح کی حیثیت سے ان کی دھاک یہ بیٹھ گئی تھی کہ اسلامی فوج کی کامرانیاں شاید ان کی شخصی صلاحیت کے باعث ہیں۔ اس میں نہ ان کی کوئی کوتاہی تھی اور نہ ہٹائے جانے کی کوئی ٹھوس ویسی وجہ مگر انہوں نے بلا چوں و چرا اپنی حکومت کے آڈر پر سر تسلیم خم کر دیا۔ اس روایت کی موجودگی میں کْو کا کیا جواز ہے؟ تو قریشی صاحب کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہ تھا۔

ہمیں اپنی عدالتوں کا پورا احترام ہے اور اگر یہ ہماری اعلیٰ و سپریم جوڈیشری آئین و قانون کی کسٹوڈین بن کر اس سوچ کے ساتھ کھڑی ہو جاتی ہے کہ اس نے اپنے سابقہ نظریہ ضرورت پر استوار رول کو تبدیل کرتے ہوئے چہرے پر لگے داغ دھبے دھونے ہیں تو پوری قوم پر جوڈیشری کا احترام واجب ہو جاتا ہے اگر جج صاحب نے اس تناظر میں زیادہ شدید الفاظ کا استعمال کیا ہے جو انہیں نہیں کرنا چاہیے تھا تو اسے اس نظر سے دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ سب کچھ محض علامتی طور پر ہے یہ جتلانے کے لیے کہ آئین شکنی ایسا گھناؤنا جرم ہے جس سے اقوام برباد ہو جاتی ہیں رہ گئے جنرل پرویز مشرف صاحب انہیں بھلا پھانسی کہاں ہو سکتی ہے اور کس میں یہ دم ہے کہ انہیں پھانسی جیسی سزا دے سکے لاش کی بے حرمتی تو بہت بعد کی بات ہے جس کا دور دور تک قطعی کوئی شائبہ نہیں، کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔وہ تو ملک سے باہر ہیں کوئی مائی کا لعل چاہے سپریم کورٹ کا چیف جسٹس ہی کیوں نہ ہو انہیں بالجبر وطن میں نہیں لا سکتا۔وہ پوری شان کے ساتھ بیرون ملک بفرضِ علاج گئے تھے تب ن لیگی حکومت انہیں روکنے کی جرات نہ کر سکی تھی اب بھلا انہیں کون لا سکتا ہے خداوند انہیں بیماری سے صحت یاب فرمائے تا کہ وہ اپنے دفاع میں سپریم کورٹ کے سامنے جو کہنا چاہتے ہیں کہہ سکیں۔

بلاشبہ انہوں نے آئین شکنی کا پہلا اقدام 12اکتوبر 1999 کو کیا تھا جسے 2002 میں جیسے تیسے منتخب ہونے والی اسمبلی انڈیمنسٹی یا معافی نامہ دے چکی ہے اْن کی بدقسمتی تھی کہ ان کے ہاتھوں ہونے والے آئین شکنی کے دوسرے اقدام کو جس کا ارتکاب ان کی طرف سے 2007 میں کیا گیا تھا 2008 کی اسمبلی نے انہیں پروانہ بخشیش دینے سے انکار کر دیا تھا کیونکہ اس اسمبلی میں اکثریت پی پی اور ن لیگ کے پاس تھی۔یہی چیز مابعد ان کے گلے کی ہڈی بن گئی۔ادارہ جاتی وقار کا تقاضا بہرحال یہی ہے کہ ایک شخص کے ناعاقبت اندیشانہ اقدام کو اس آدمی کا شخصی اقدام یا شخصی جرم گردانا جائے، پورے کے پورے ادارے کو اس میں نہ لتھیڑا جائے۔ادارے کے ذمہ داران کو خود بھی اس حوالے سے ا لائیشوں کو اپنے دامن سے دور رکھنے کے لیے وہی پْر وقار پالیسی بیان دینا چاہیے کہ ہم اداروں کا تصادم ہر گز نہیں چاہتے ہیں اور حسبِ سابق اپنی جوڈیشری کے ساتھ کھڑے ہیں۔جو جیسا کرے گا ویسا بھرے گا ہم شخصی الائیشیں اپنے سر کیوں لیں۔ اس کے ساتھ ہم سب کو منتخب پارلیمنٹ کی عظمت و بالا دستی کے سامنے سر نگوں ہو جانا چاہیے قومی و عوامی وقار کا یہی تقاضا ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...