سہولت سنٹر فعال ہوگیا

سہولت سنٹر فعال ہوگیا

  



سید توصیف حیدر ڈی پی او گجرات جو بے شمار اور لاتعداد خداداد صلاحیتوں کے مالک ہیں انسانیت کی خدمت کے جذبے سے سرشار اور بہتر سے بہتر کی جستجو کرتے رہتے ہیں. اب اس مقام پر پہنچ گئے ہیں جہاں وہ گجرات کے ہر طبقہ ہائے فکر کے لوگوں کی آنکھوں کا تارا بن گئے۔شہریوں کو احساس تحفظ فراہم کرنے کیلئے سیف سٹی بنانے کا منصوبہ تیزی کے ساتھ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے اور اس سے پولیس اور عوام دونوں استفادہ حاصل کر رہے ہیں۔ابھی اس منصوبے کی مبارکبادیں جاری تھیں کہ انہوں نے ایک اور ایسا فیصلہ کیا جس سے نہ صرف پنجاب پولیس کا سر فخر سے بلند ہو گیا جس کے تحت گجرات کی خواتین کو احساس تحفظ فراہم کرنے کیلئے ”یو این او ڈی سی“کے تعاون سے ایک انقلابی منصوبہ مکمل کر لیا اب گجرات کا شمار پنجاب کے ان اضلاع میں ہوتا ہے جہاں خواتین کے خلاف گھریلو تشدد ’اغوا‘قتل و غارت گری جیسی وارداتوں پر کنٹرول کیا جا سکے گا خواتین بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں وہ ماں،بیٹی اور بہن کادرجہ بھی رکھتی ہیں مگر بد قسمتی سے بعض گھرانوں میں خواتین پر تشدد اور بعض واقعات میں انہیں قتل بھی کر دیا جاتا ہے۔گجرات کا شمار پنجاب کے ایسے اضلاع میں ہوتا ہے جہاں ناخواندگی کے باعث خواتین پر تشدد کی وارداتیں زیادہ ہیں۔ خواتین کے خلاف اس طرح کے جرائم کی تفتیش پہلے مرد حضرات کرتے تھے جس سے پردہ دار خواتین کے علاوہ تفتیش کرنے کے مراحل بھی نا مکمل رہتے تھے۔اب ڈی پی او سید توصیف حیدر کی اس عظیم الشان سوچ نے ایک انقلاب برپا کر کے رکھ دیا ہے۔تھرڈ ڈگری کے استعمال کی بجائے پیار اور محبت کے ساتھ بھی بہت کچھ سوچا،دیکھا اور اگلوایا جا سکتا ہے۔ تشدد اور زیادتی کا شکار خواتین اور بچوں کو فوری انصاف کی فراہمی اور تحفظ فراہم کیلئے اپنی نوعیت کا پہلا اور منفرد سہولت سنٹر گجرات میں پوری افادیت کے ساتھ کام کر رہا ہے،اس عظیم الشان منصوبے کا افتتاح آر پی او گوجرانوالہ طارق عباس قریشی نے کیا۔ مذکورہ منصوبہ یو این او ڈی سی کے تعاون سے کیا گیا۔افتتاحی تقریب میں سید توصیف حیدر ڈی پی او،غلام مصطفی گیلانی ایس پی انویسٹی گیشن،مس جوبیادہ خانانو‘جیرمی ملسم،سمیت مختلف شعبہ ہائے جات سے تعلق رکھنے والی خواتین،ڈاکٹرز،لیکچرارز،پرنسپلز گورنمنٹ و پرائیویٹ کالجز،ٹیچرز،ذرائع ابلاغ کے نمائندگان،پولیس افسران سمیت یو این او ڈی سی کے نمائندگان بھی شریک ہوئے۔ پولیس خدمت مرکز سے ملحقہ سہولت سنٹر میں ظلم،تشدد یا جنسی تشددیاہراسمنٹ کا شکار خواتین اور بچوں کو بہترین ماحول فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ اس سنٹر کی انچارج میڈم فرزانہ کوثر کو پہلی خاتون ایس ایچ او تعینات کیا گیا ہے۔ 50سے زائد لیڈی پولیس اہلکار انکی معاونت کریں گی۔ متاثرہ خواتین اور بچوں کیلئے عارضی رہائش سمیت ابتدائی طبی امداد میڈیکل جیسی سہولیات چوبیس گھنٹے میسر ہیں۔لیڈیز پولیس کی ماہر نفسیات اور قانونی ماہرین متاثرین کی رہنمائی اور امداد کیلئے تعینات کی گئی ہیں جو ہر طرح کی قانونی اور معاشرتی رہنمائی کر رہی ہیں۔پولیس خدمت مرکز سے ملحقہ سہولت سنٹر میں ظلم،تشدد یا جنسی ہراسمنٹ کی شکار خواتین اور بچوں کو بہترین ماحول فراہم کیا جا رہا ہے۔سہولت سنٹر کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنایا گیا ہے۔ اس منصوبے سے زیادتی کا شکار خواتین اور بچوں کو ہر طرح کی قانونی و اخلاقی معاونت اور ہرممکنہ سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ اب اس منصوبے کی وجہ سے متاثرہ خواتین اور بچوں کو احساس تحفظ پیدا ہو گیا ہے طارق عباس قریشی آر پی او گوجرانوالہ نے اس سہولت سنٹر کا افتتاح کیا جبکہ سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی اپنی مصروفیات کی بدولت اس عظیم الشان تقریب میں شرکت نہ کر سکے مگر انہوں نے سیف سٹی پراجیکٹ کے بعد اس سہولت سنٹر کے افتتاح پر گجرات پولیس کے سربراہ سید توصیف حیدر ڈی پی او گجرات’آر پی او گوجرانوالہ‘آئی جی پنجاب کو مبارکباد اور وزیر اعلیٰ پنجاب کو اس انقلابی منصوبے سے آگاہ کیا جسے بے حد سراہا گیا۔آر پی او طارق عباس قریشی جو ایک درویش صفت اعلیٰ پولیس آفیسر ہیں نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے معاشرے میں خواتین اور بچوں پر تشدد ایک تلخ حقیقت ہے جو میڈیکل کی سہولیات کی عدم موجودگی اور قانونی راہنمائی نہ ہونے کی وجہ سے زیادتی کی شکار خواتین جرم کی رپورٹ نہیں کرتیں۔جدید ترین سہولیات اور ٹیکنالوجی سے مزین سہولت سنٹر میں خواتین کے خلاف مختلف نوعیت کے درج مقدمات کی تفتیش بھی ہو گی۔منصوبے سے زیادتی کی شکار خواتین اور بچوں کو ہر طرح کی معاونت اور قانونی سہولیات فراہم ہونے کے ساتھ عدم تحفظ کا احساس ختم ہوگا۔معاشرہ بہتر ی کی جانب گامزن ہوگا۔خواتین اور بچوں پر تشدد سے متعلق آگاہی نہ ہونے کے باعث بیشتر واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے مگر اب سہولت سنٹر جہاں کی انچارج اور عملہ خواتین پر مشتمل ہے میں خواتین کسی ہچکچاہٹ کے بغیر نہ صرف اپنی شکایات کا اندراج کرا سکیں گے بلکہ انہیں انصاف کی فراہمی کیلئے جدید وسائل کو بھی بروئے کار لایا جائے گا۔ میڈیکل کی فوری سہولت ملنے کے باعث شواہد جمع کرانے میں بھی آسانی ہوگی۔معاشرے کے حساس طبقوں کے لئے قائم کئے جانے والے اس تاریخی منصوبے کے انتہائی دورس نتائج مرتب ہونگے۔تشدد کی لہر کو پروان چڑھانے میں سب سے زیادہ اہم کردار قوانین سے لاعلمی نے ادا کیا ہے۔ہمارے معاشرے میں انسانی حقوق کے قوانین کی آگاہی نہ ہونے کے برابر ہے۔ بالخصوص خواتین اور بچوں سے متعلق قوانین انتہائی سخت ہیں مگر ان سے آشناس نہ ہونے کے باعث وہ حقوق سے محروم اور تشدد کو اپنا مقدر مان لیتے ہیں۔ خواتین کیلئے یوں تو پنجاب بھر میں دارالامان اور بچوں کیلئے چائلڈ پروٹیکشن کونسل قائم ہے مگر گجرات میں خواتین اور بچوں کیلئے قائم کیا جانیوالا سہولت سنٹر اپنی نوعیت کا واحد سنٹر ہوگاجہاں خواتین اور بچوں کو بھرپور احساس تحفظ دلانے کیلئے انہیں انصاف کیلئے قانونی مدد دی جائیگی۔ اس تاریخی منصوبے پر سید توصیف حیدر ڈی پی او گجرات کو جتنا بھی خراج تحسین پیش کیا جائے وہ کم ہے۔ انہوں نے اپنے ویژن سے گجرات کے عوام کو نہ صرف بھرپور احساس تحفظ فراہم کیا ہے بلکہ پولیس اور عوام کے درمیان ہم آنگی پیداکرنے میں بڑی حد تک کامیاب ہوئے ہیں۔لوگ پولیس اسٹیشن جانے سے گھبرانے کی بجائے تھانوں میں پہنچ کر خود کو محفوظ تصور کرتے ہیں۔ سید توصیف حیدر کی طرح مساجد میں کھلی کچہریوں کے انعقاد سے پولیس پر عوام کے اعتماد میں بھرپور اضافہ ہوا ہے۔ سہولت سنٹر کے قیام سے اب خواتین کے اعتماد میں بھی ریکارڈ اضافہ اور ان کے مسائل فوری حل ہونگے۔خواتین پر گھریلو،جسمانی،جنسی،نفسیاتی تشدد کے واقعات کی روک تھام کیلئے نہ صرف موثر اقدامات بلکہ جدید طرز پر تفتیش اور فوری انصاف کی فراہمی معاشرے کی بہتری کیلئے لازوال کردار ادا کریگی۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ناخواندگی کے باعث ترقی پذیر اور بالخصوص پاکستان میں خواتین کو جنسی ہراسگی،تشدد اور قتل و غارت گری جیسی وارداتوں پر سامنا کرنا پڑتا ہے۔گجرات اس حوالہ سے پورے پنجاب میں نمبر 1ہے جہاں مرد حضرات کی اکثریت خواتین کو اپنا آسان ترین شکا ر سمجھتے ہیں۔معمولی معمولی باتوں پر انہیں تشدد کا نشانہ بنانا،گھر سے باہر نکال دیناایک معمول بن چکا ہے جبکہ دین اسلام نے خواتین کو وہ درجہ دے رکھا ہے جو کسی اور مذہب میں خواتین کو حاصل نہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کی ترقی یافتہ ممالک میں خواتین کو وہ حقوق حاصل ہیں جو اسلام نے خاتون کو دے رکھے ہیں مگر ان ترقی یافتہ ممالک خواتین ان حقوق کا غیر ضروری طور پر استعمال کرتی ہیں۔جس کی وجہ سے ترقی یافتہ اور مغربی ممالک میں خواتین کو مردوں کے مقابلے میں برتری حاصل ہے۔اگر دین اسلام کے زریں اصولوں کے مطابق عملدرآمد کیا جائے تو پھر یہی خاتون ماں،بیٹی،بہن اور بیوی کا درجہ بھی رکھتی ہے۔جس کے قدموں تلے جنت ہے۔معمولی معمولی باتوں پر گالی گلوچ،بالوں سے پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنانے کی وجہ سے ایسے دلفراش واقعات بھی رونما ہوئے ہیں،جس کے تحت یہ خبریں اخباروں کی زینت بنتی ہیں کہ ماں نے اپنے بچوں سمیت نہر میں کود کر جان کی بازی ہار دی۔اگر انہیں حکومت کی طرف سے اس طرح کا تحفظ فراہم ہو جس طرح کاگجرات پولیس بالخصوص ڈی پی اوگجرات سید توصیف حیدر نے اپنی انتھک کوششوں کی بدولت فراہم کر کے دیا ہے تو پاکستانی معاشرے ایک مثالی معاشرہ بن کر ابھر سکتا ہے۔

سید توصیف حیدر ڈی پی او گجرات کی خواتین بچوں،ماں اور بہنوں اور وہ احساس تحفظ پیدا ہوا ہے جس کا خواب تو دیکھا جا سکتا تھا مگر تعبیر ملنا مشکل تھی۔توصیف حیدر ڈی پی او گجرات کا گجرات میں گزارا ہوا ہر دن ایک انمٹ داستان اور تاریخ میں سنہری حروف سے لکھنے جانے کا حامل ہے۔وہ ہمہ وقت بہتر سے بہتر کی جستجو میں رہتے ہیں۔ماضی میں تعینات ہونے والے کسی بھی پولیس آفیسر پر تنقید کئے بغیر یہ کہا جا سکتاہے کہ سید توصیف حیدر سب سے بازی لے گئے ہیں۔ایسا کیوں نہ ہو ان کے دل میں انسانیت کی خدمت کا جذبہ اور ان کی سوچ اسلامی شعار کے عین مطابق ہے۔یہ کامیابی انہیں طشتری میں رکھ کر نہیں ملی،بلکہ اس کے لئے انہوں نے اپنا دن کا سکون اور رات کا چین عوام کو امن و امان کی فراہمی اور تحفظ فراہم کرنے کیلئے قربان کر دیا۔

ان سطور میں ان کی ٹیم کا اگر ذکر نہ کیا جائے تو سراسر زیادتی ہو گی۔جن میں سر فہرست ملک عامر اعوان پی ایس او ٹو ڈی پی او،چوہدری اسد عباس گجر پی آر او ٹو ڈی پی او،مرزااعجاز احمد انچارج خدمت مرکز اور ڈی پی آفس کا ایک عام چپڑاسی سے لے کر آفیسر تک جن میں سید مصطفی گیلانی ایس پی انویسٹی گیشن سرفہرست ہیں۔ڈی پی او گجرات کے ویژن کی کامیابی کے لئے ہمہ وقت مصروف عمل رہتے ہیں۔جس کے نتائج یہ نکلے ہیں کہ آج گجرات میں قتل و غارت گری،چوری،ڈکیتی،راہزنی اور اغواء جیسی وارداتیں برائے نام رہ گئی ہیں۔

مزید : ایڈیشن 1