”2014 میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ ظہیر الاسلام نے بغاوت کیلئے پر تولے تو راحیل شریف نے اسے ناکام بنا دیا اور ۔“شجاع نواز کی کتاب میں تہلکہ خیز دعویٰ کر دیا گیا

”2014 میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ ظہیر الاسلام نے بغاوت کیلئے پر تولے تو ...
”2014 میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ ظہیر الاسلام نے بغاوت کیلئے پر تولے تو راحیل شریف نے اسے ناکام بنا دیا اور ۔“شجاع نواز کی کتاب میں تہلکہ خیز دعویٰ کر دیا گیا

  



واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن )پاکستان میں امریکہ کے سابق سفیررچردڈنے نئی شائع ہونے والی کتاب کے ایک مضمون میں انکشاف کیاہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی ظہیر الاسلام نے ستمبر 2014 میں بغاوت کیلئے کوششیں شروع کی لیکن وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے اسے ناکام بنا دیا ۔

نجی ٹی وی جیونیوز کی رپورٹ کے مطابق شجاع نواز کی کتاب ” بیٹل فار پاکستان ، بیٹر یوایس فرینڈشپ اینڈ ٹف نیبر ہڈ “ شائع ہوئی ہے جو کہ سابق آرمی چیف جنرل آصف نواز مرحوم کے بھائی ہیں ۔کتاب میں انہوں نے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کے علاوہ دیگر کئی اہم امور پر روشنی ڈالی ہے ۔اس کتاب میں رچرڈ اولسن نے بتایاکہ جنرل (ر) ظہیرالاسلام کور کمانڈرز اور ہم خیال فوجی افسران سے گفتگو کر رہے تھے لیکن انہیں آرمی چیف کی حمایت حاصل نہیں ہوئی لہٰذا بغاوت کامیاب نہ ہوسکی۔ رچرڈ اولسن نے یہ تبصرہ 2014ءمیں عمران خان کے احتجاجی دھرنے کے تناظر میں کیا۔

اپنی اس تازہ کتاب میں شجاع نواز نے انکشاف کیا ہے کہ امریکیوں کے لئے سابق آئی ایس آئی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) شجاع پاشا سیدھا نشانہ باز انتہائی قوم پرست جنرل ہے جو جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی کے اصرار پر انٹیلی جنس کی دنیا میں آیا۔ وہ ایک فعالیت پسند اور ملک کے سب سے بڑے انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ تھے جس نے اس کے آپریشنز کو حقیقتاً اپنی مرضی سے وسعت دی۔ پاکستان میں امریکی کارروائیوں اور ان کے کارندوں کے بارے میں معلومات اور اطلاعات تک زیادہ دسترس طلب کی۔

جنرل شجاع پاشا کے بعد آئی ایس آئی کے نئے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیرالاسلام کو ملک کے مقامی ایشوز کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا زیادہ تر وقت 2013ءکے عام انتخابات کے بعد سیاسی بحران میں گزرا۔ شجاع پاشا اور ظہیرالاسلام دونوں کے نام اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کے خلاف گلی کوچوں میں ہو نے والی مخالفت سے جوڑے جاتے ہیں۔ گو کہ اس کا کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہیں آیا۔ ظہیرالاسلام آئی ایس آئی کے ونگز یا ڈائریکٹوریٹس کے بھی سربراہ رہے اور کور کمانڈر کی حیثیت سے کراچی کی ہنگامہ خیز سیاست میں بھی رہے۔ واضح رہے کہ ظہیرالاسلام اور احمد شجاع پاشا نے سروس میں اپنے کردار کے حوالے سے کوئی مو¿قف نہیں دیا۔

شجاع نواز کا کہنا ہے کہ شجاع پاشا کے بعد ظہیرالاسلام کی بھی امریکا کی طرف سے نگرانی جاری رہی۔آئی ایس آئی کے ایک سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) رضوان اختر امریکی تربیت یافتہ افسر تھے جن کے اپنے امریکی ہم منصبوں سے خوشگوار تعلقات تھے تاہم بات کرنے والوں پر اپنا تاثر چھوڑنے کے حوالے سے انہیں جدوجہد کرنا پڑتی تھی۔ خصوصاً ایسے موقع پرجب افغان جنگ گفتگو کاموضوع ہو۔ ایک امریکی افسر کے مطابق افغان مفاہمت کے موضوع پر گفتگو میں رضوان اختر افغان طالبان کمانڈرز کے نام بھول گئے۔ امریکیوں کی جانب سے انہیں تنقید کابھی سامنا ہوتا۔ وہ ایک دستیاب ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی تھے۔ کراچی میں اکثر دکھائی دیتے جہاں وہ ڈائریکٹر جنرل رینجرز بھی تعینات رہے۔

شجاع نواز کا کہنا ہے کہ انہوں نے شہر میں آئی ایس آئی کے سیکٹر کمانڈر کو آگاہ کئے بغیرکراچی آپریشن کا چارج سنبھال لیا تھا۔ اپنی عام دستیابی کی حکمت عملی کے باعث وہ آئی ایس آئی اور حتی کہ فوج میں غیر مقبول ہوگئے۔

مزید : قومی


loading...