میاں منشا کی دھمکی کی وجہ سے عمران خان کو نیب کے سامنے یو ٹرن لینا پڑ گیا

میاں منشا کی دھمکی کی وجہ سے عمران خان کو نیب کے سامنے یو ٹرن لینا پڑ گیا
میاں منشا کی دھمکی کی وجہ سے عمران خان کو نیب کے سامنے یو ٹرن لینا پڑ گیا

  



لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )حکومت کی جانب سے نیب آرڈنینس میں ترامیم کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی ہارون رشید نے دعویٰ کیاہے کہ ” کاروباری شخصیت میاں منشاءکی قیادت میں ایک وفد نے نہایت ہی اہم سرکاری آدمی سے ملاقات کی جونہیں چاہتا کہ اس کا نام لیا جائے ، میاں منشاءنے ان سے کہا کہ ہم سرمایہ کاری نہیں کریں گے ۔“

نجی ٹی وی 92 نیوز کے پروگرام میں اینکر پرسن نے سینئر صحافی ہارون رشید سے سوال کیا کہ ”نیب آرڈنینس میں ترامیم کی گئیں ہیں اور ان سے حکومت کو ہی نہیں بلکہ اپوزیشن کو بھی فائدہ ہو گا لیکن پھر بھی اپوزیشن ناراض ہے جبکہ اسے این آر اوز کی ماں کہا جارہاہے ؟۔

ہارون رشید نے میزبان کا سوال سن کر مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ اپوزیشن ناراض نہیں ہے بلکہ وہ سیاست کا کھیل کھیل رہی ہے ، وہ سیاست کو سمجھتے ہیں لیکن خان صاحب نہیں سمجھتے ، آرڈنینس میں ایک مرتبہ 120د ن اور دوسری مرتبہ 240 دنوں کی توسیع ہو سکتی ہے جو کہ تقریبا آٹھ مہینے بنتے ہیں لیکن اس کے بعد انہیں آرڈنینس کو پارلیمنٹ میں لانا ہی پڑے گا جس پر وہ مزید مطالبات پیش کریں گے ۔

ہارون رشید نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ کاروباری شخصیت میاں منشا ءکی قیادت میں ایک وفد نے نہایت ہی اہم سرکاری آدمی سے ملا جو نہیں چاہتا کہ اس کا نام لیا جائے ، ان سے کہا کہ ہم سرمایہ کاری نہیں کریں گے ، تجزیہ کار نے کہا کہ یہ بڑے چالاک لوگ ہوتے ہیں ۔سینئر صحافی کا کہناتھا کہ اخلاقی طور پر یہ معاشرہ بدحال ہے ، اس میں بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں کہ یہ کردیں گے وہ کر دیں گے ، پہلے اداروں کو ٹھیک کرنا ہوتاہے ، لوگوں کو قانون کی خلاف ورزی کا خوف ہونا چاہیے ،تعلیم ہونی چاہیے ،پولیس ٹھیک ہونی چاہیے لیکن وہ تو آپ نے کیا ہی نہیں ،اب اس سے فائدہ اٹھائیں گے ۔

ہارون رشید کا کہناتھا کہ حکومت نے غلط حکمت عملی اختیار کی اور چڑھ دوڑے ، آپ کو یہ معلوم ہی نہیں کہ احتساب کا طریقہ کیاہے ، احتساب کا طریقہ یہ ہوتاہے کہ آپ پولیس ، نیب اور ایف آئی اے کو بلاتے اور کہتے کہ آپ قانون کے دائرے میں مکمل طور پر آزاد ہیں ۔ احتساب یہ ہوتاہے کہ اگر کوئی قصور وار ہے تو پکڑ لیا جائے اور اگر کوئی بے قصور ہے تو وہ ہر روز صبح سے شام تک عمران خان کے خلاف تقریریں کرتا رہے تو وہ آزاد پھر رہا ہو ، اس پر مقدمہ ہو سکتاہے کہ جھوٹا الزام لگایاہے اور ہونا بھی چاہیے ، یہ تماشے ختم ہونے چاہیے جو یہ ایک دوسرے کو گالیاں دیتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ آپ یہ کہتے ہیں کہ اس سے بحث نہیں ہے کہ یہ ہمارا آدمی ہے یا ہمارے اتحادی کا آدمی ہے ،ایک طرف تو کہتے ہیں کہ احتساب ہو گا اور مجرم کو معاف نہیں کیا جائے گا ، دوسری طر پولیس افسروں کی تقرریاں ساری سفارش پر ہوتی ہیں ، آپ کے تین وزیر ایسے ہیں جن پر سنگین الزامات ہیں ، جن میں خسر و بختیار ، علی زیدی اور فیصل واوڈا شامل ہیں ، اور الزام ہے کہ ان کی جائیدادیں ہیں ، انہوں نے ٹھیکے دیئے ہیں ، الزام تو الزام ہوتاہے جب تک ثابت نہ ہو ۔

ان کا کہناتھا کہ خسرو بختیار کی تین شوگر ملیں ہیں ، وہ آسمان سے ٹپکی ہیں ، اس کی فولاد کی خفیہ فیکٹری ہے ، اس کے پیسے بچے دیتے ہیں ، اگر کسی کے کھیت میں ایک لاکھ روپے کا گنا پیدا ہوتا تو کیا اس کے کھیت میں دس لا کھ کا ہوتاہے ؟۔ہارون رشید نے کہا کہ علی زیدی پر الزام ہے کہ اس کے وسائل اس سے بہت زیادہ ہیں ،تو آپ یہ بتائیں کہ یہ بالکل جھوٹ ہے ، غلط ہے ،اور اگر ایسا کہتے ہیں تو بڑی اچھی بات ہے وہ پاک صاف ہیں اور اس سے اچھی کیا بات ہو سکتی ہے ، یہ تو خوبی ہے ، انہوں نے جائز پیسے سے تین شوگر ملیں لگائیں ۔ہارون رشید کا کہناتھا کہ اگر فیصل واوڈا نے کوئی غلطی نہیں کی تو اس سے اچھی اور کیا بات ہو سکتی ہے ، لیکن اگر وہ ملوث ہیں اور انہوں نے پیسہ بنایا ہے تو نیب اور ایف آئی اے کیا کر رہی ہیں ، احتساب اپنوں سے شروع ہوتا ہے ۔

مزید : اہم خبریں /قومی