کمبٹ فیڈریشن 33 کے تحت مکسڈ مارشل آرٹس مقابلے، عبداللہ القحطانی نے پاکستان کے ضیاء مشوانی کو ہرا دیا

کمبٹ فیڈریشن 33 کے تحت مکسڈ مارشل آرٹس مقابلے، عبداللہ القحطانی نے پاکستان ...
کمبٹ فیڈریشن 33 کے تحت مکسڈ مارشل آرٹس مقابلے، عبداللہ القحطانی نے پاکستان کے ضیاء مشوانی کو ہرا دیا

  



جدہ (محمد اکرم اسد) کمبٹ فیڈریشن33 کے تحت یہاں منعقد ہونے والے مکسڈ مارشل آرٹس کے مقابلوں میں سعودی کھلاڑی عبداللہ القحطانی نے پاکستان کے ضیاء مشوانی کے ساتھ سخت مقابلے کے دوران پسلی ٹوٹ جانے کے باوجود فتح حاصل کرلی۔ جبکہ دوسرے بڑے مقابلے میں سعودی کھلاڑی مصطفی راشد ندی نے انتہائی چابکدستی سے فرانس کے ایلیکس فونٹس کو شکست دیدی۔  یہ مقابلے یہاں امیر عبداللہ الفیصل اسٹیڈیم میں ہوئے، اسٹیڈیم کے اسپورٹس کمپلیکس میں  ہوم ٹرف پر منعقدہ ہونے والے مکسڈ مارشل آرٹس کے اس مخصوص ایونٹ میں سعودی کھلاڑیوں کے علاوہ 22 ممالک کے کھلاڑیوں نے حصہ لیا۔فیدر ویٹ ٹائٹل میں فتح حاصل کرنے والے عبداللہ القحطانی نے مقابلے کے بعد کہا حالانکہ میرے سامنے والے کھلاڑی پاکستان کے ضیاء مشوانی کی ضرب سے میری پسلی ٹوٹ گئی تھی اور اس سے یہ فائٹ مشکل ہو گئی تھی لیکن میں میچ منسوخ نہیں کرنا چاہتا تھا کیونکہ اپنے خاندان اور حاضرین کے سامنے اپنے ملک میں ایسا نہیں کرسکتا تھااور نہ ہی میں نے انہیں اپنی اس چوٹ کے بارے میں ظاہر ہونے دیا۔

یہی وجہ ہے کہ میں نے کامیابی حاصل کی اور امید ہے کہ اگلی مرتبہ اس سے بہتر کارکردگی دکھا سکتا ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ اس کھیل کے بارے میں سعودی عرب میں آگہی میں اضافہ ہوا ہے۔ یہاں کے عوام پہلے ایسے تمام کھیلوں کو باکسنگ کہتے تھے لیکن اب ایسے کھیلوں میں فرق محسوس کر سکتے ہیں جیسے مکسڈمارشل آرٹس ، باکسنگ اور اسی طرح کے دیگر کھیل الگ الگ ہیں ، اس موقع پر ضیاء مشوانی نے کہا کہ ہار جیت میچ کا حصہ ہوتی ہے مگر یہاں میں یہ نہیں کہوں گا کہ ہار کیسے ہوئی لیکن میں نے خوب اکٹھی ہو کر کھیلا اور مخالف کھیلاڑی پر بھاری رہا۔ مجھے سب سے زیادہ خوشی ہے کے میں نے مقدس سرزمیں پر آکر کھیل میں حص لیا، ضیاء مشوانی نے کہا کہ اس طرح کے مقابلے نوجوانوں میں صحتمند ماحول فراہم کرتے ہیں، دوسری جانب مصطفی راشد نے اعتراف کیا ہے کہ جنرل اسپورٹس اتھارٹی کے سربراہ شہزادہ عبدالعزیز بن ترکی نے ہمارے لئے ایسے کھیلوں کا راستہ ہموار کیا ہے۔ انہوں نے مقابلے کے بعد کہا کہ دوسرا مقابلہ جیتنے پر خوش ہوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ بات زیادہ اہم ہے کہ سعودی ایتھلیٹ بین الاقوامی چیمپیئنز سے بھی جیت سکتے ہیں۔اس سے قبل سعودی ایتھلیٹ کے لیے اپنے جوہر دکھانے کے لیے کوئی فیڈریشن نہیں تھی۔ اب یہاں عبد العزیز الجلیدان کی سربراہی میں سعودی مکسڈ مارشل آرٹس فیڈریشن ہے۔ سعودی فیڈریشن کے تحت اس فائٹ میں شرکت کرنا ہمارے لئے فخر کی بات ہے 

مزید : کھیل /عرب دنیا


loading...