ٹیکنو کریٹ سیٹ اَپ

 ٹیکنو کریٹ سیٹ اَپ
 ٹیکنو کریٹ سیٹ اَپ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 گزشتہ روز ایک سابق سنیئر بیورو کریٹ سے ملاقات ہوئی تو کہنے لگے کہ سنا ہے ملک میں ٹیکنو کریٹ سیٹ اَپ آنے والا ہے، آپ کے پاس کیا خبر ہے؟ راقم نے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا موقر روزنامہ ”ڈان“ آپ کے سامنے پڑا ہے، کیا اِس میں کوئی ایسی خبر موجود ہے؟کہنے لگے کہ ”بڑے گھر“ کی تو معاشی ماہرین سے ملاقاتیں بھی ہونے لگی ہیں اور اِس سیٹ اَپ کے لئے لوگوں کے انٹرویو ہو رہے ہیں۔راقم نے پھر سے ہونقوں کی طرح سینئر بیورو کریٹ کو دیکھا اور دِل میں سوچا کہ اُن کی ساری زندگی اسلام آباد میں اقتدار کی غلام گردشوں میں گزری ہے،ہو سکتا ہے اُن کے پاس کوئی اندر کی خبر ہو جیسا کہ اِس سے ایک روز قبل وہ بتا رہے تھے کہ مراد سعید نے ایوانِ صدر میں پناہ لی ہوئی ہے کیونکہ اُن کی زندگی کو سخت خطرات لاحق ہیں اور یہ بھی کہ ارشد شریف کے قتل کے حوالے مراد سعید کو نامعلوم افراد کی جانب سے جان کا خطرہ ہے۔ 


راقم نے اُن سے پوچھا کہ آپ کو ٹیکنو کریٹ سیٹ اَپ کی خبر کہاں سے مل گئی ہے،سیاسی منظر نامے پر تو ایسی کچھ بھی ڈسکس نہیں ہو رہا ۔کہنے لگے کہ معروف ٹیکس ماہر شبر زیدی ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں بتا رہے تھے کہ ایسی ملاقاتیں شروع ہو گئی ہیں اور اگلے سیٹ اَپ کے لئے آج یعنی جمعے کو نام فائنل ہو جائیں گے۔ میں نے دریافت کیا کہ آئین میں تو اِس کی کوئی گنجائش نہیں ہے تو کہنے لگے کہ پیدا کرنے والے گنجائش بھی پیدا کرلیں گے اور ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ کردیا جائے گا ۔ اِس پر ہم دونوںنے آئین اپنے اپنے موبائل فونوںپر کھول کر ایمرجنسی کی شقوںکا مطالعہ کیا تو اُس میں ایسی کوئی توجیہہ نظر نہ آئی بلکہ اُلٹا اُس کے لئے بھی کابینہ کی منظوری کی شرط نظر آئی اور وفاق کی بجائے صوبوں میں ایمرجنسی کے نفاذ کا تذکرہ موجود تھا۔ اس پر سینئر بیورو کریٹ کہنے لگے کہ آئین میں تو ایسی گنجائش نظر نہیں آرہی لیکن اِس کے لئے تفصیلی مطالعہ کی ضرورت ہے ۔ پھر کہنے لگے کہ شبر زیدی کا کہنا ہے کہ دیگر ماہرین معیشت سے بھی بات ہو رہی ہے۔اِس پر راقم نے اُنہیں بتایا کہ کچھ عرصہ قبل جناب حفیظ پاشا سے ملاقات ہوئی تھی تو انہوں نے بتایا تھا کہ اُنہوں نے بڑے گھروالوں پر واضح کردیا ہے کہ اب اگر وہ خود بھی آ جائیں تو معاشی بگاڑ سنبھالا نہیں جا سکے گا اور اس بات پر وہ ملاقات ختم ہو گئی۔


اس کے بعد راقم اُٹھ کر اپنے آفس چلا آیا اور سب سے پہلے یو ٹیوب پر وہ پروگرام دیکھا جس میں جناب شبر زیدی نے یہ درفنطنی چھوڑی تھی۔ اِس تلاش کے دوران معلوم ہوا کہ اِس پروگرام سے پہلے بھی شبرزیدی اِسی چینل کے ایک دوسرے پروگرام میں بھی یہ شوشہ چھوڑ چکے ہیں۔اِس پر یاد آیا کہ ایک دو روز قبل جناب شبر زیدی ایک دوسرے چینل کے معروف پروگرام میں بھی ایسا ہی اظہار خیال کر رہے تھے۔ اِن تینوں پروگراموں کو ملا کر دیکھا تو شک گزرا کہ یہ سب تو ایک ہی بولی بول رہے ہیں۔ سوال کرنے والوںکے سوال ایک سے ہیں اور جواب دینے والے کے جواب بھی ایک سے ہیں۔ کسی بھی اینکر نے اُن کے اِس شگوفے پر تنقیدی سوال کرنے کی بجائے اُلٹا اُن کی فرضی ملاقات کو حقیقت تصور کرکے نتائج پر سوالات داغنا شروع کردیئے تھے اور جناب شبر زیدی ہنستے ہوئے کنفیوژن کو مزید گہرا کر رہے تھے۔ اُس کے بعد راقم نے ایک ایک کرکے ہر اردو اور انگریزی کے اخبار کا مطالعہ کیا اور ڈھونڈنے کی کوشش کی کہ کہیں بھی اِس حوالے سے کوئی خبریا کوئی تذکرہ نظر آئے مگر وہاں ایسا کچھ نہیں تھا۔ تاثر یہ بنا کہ یہ خبر جناب شبر زیدی اور چند ایک اینکر پرسنوں کے درمیان ایک راز کے طور پر گھوم رہی ہے۔ 

شام کو ایک اور اینکر نے رانا ثناءاللہ نے دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ آئین میں ایسا کچھ نہیں ہے اور یہ جھوٹ پر جھوٹ بول کر عوام کو بیوقوف بنانے کا ایک عمل ہے جو پی ٹی آئی گزشتہ سات آٹھ ماہ سے کرتی چلی آرہی ہے۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن کے سابق سیکرٹری کنوردلشاد کسی اور ٹی وی چینل پر بتار ہے تھے کہ ٹیکنوکریٹ سیٹ اَپ لانے والے کے خلاف آرٹیکل چھ کی کارروائی عمل میں آسکتی ہے۔اِس دوران ایک اور معروف اینکرنے شبر زیدی کو آن لائن لیا تو اُنہوں نے بتایا کہ وہ موجودہ معاشی حالات میں امکانات کی بات کر رہے ہیں اور اُنہیں اِس سے کوئی غرض نہیں کہ حکومت اُن کے خیال سے متفق ہے یا نہیں ہے۔ جب اُن سے پوچھا گیا کہ آپ کیسے معیشت درست کر سکتے ہیں جب بطور چیئرمین ایف بی آر آپ چھوٹے تاجروں پر ٹیکس نہیں لگاسکے تھے تو کہنے لگے کہ اگر نہیں لگا سکا تھا تو مَیں حکومت چھوڑ کر گھر بھی توچلاگیا تھا۔ شبر زیدی کی باتیں اور اُن سے پہلے شوکت ترین کی آڈیو لیک سن کر ہمارا تو اِس بات پر یقین پختہ ہوگیا ہے کہ صرف عمران خان اور فواد چودھری ہی نہیں بلکہ سارے کا سارا ٹبر عوام کے ساتھ فراڈ کرنے میں مصروف ہے۔اِس پر یاد آیا کہ جب فیٹف کے تحت نیب میں ترامیم کے لئے پی ٹی آئی نے اُس وقت کی اپوزیشن کو مذاکرات کے لئے بلایا تو باہر نکل کر شاہ محمود قریشی نے درفنطنی چھوڑی تھی کہ اپوزیشن ترامیم پر اتفاق کے لئے جو ترامیم کا مسودہ لے کر آئی ہے وہ اپنے لئے این آر او مانگنے کے مترادف ہے جس پر شاہد خاقان عباسی نے ایک پروگرام میں یہ کہا کہ ایسا کوئی مسودہ نہیںدیا گیا، اُنہوں نے کہا تھا: ”اگر میں جھوٹ کہہ رہا ہوں تو مجھ پر خدا کی لعنت ہو اوراگر شاہ محمود قریشی جھوٹ کہہ رہے ہیں تو اُن پر خدا کی لعنت ہو!۔۔۔ٹیکنو کریٹ سیٹ اَپ کی باتیں کرنے والوں کے بارے میں بھی اِس کے سوااور کیا کہا جا سکتا ہے ! 

مزید :

رائے -کالم -