پاکستان میں فٹ بال کب ترجیح بنے گا؟

پاکستان میں فٹ بال کب ترجیح بنے گا؟
پاکستان میں فٹ بال کب ترجیح بنے گا؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


ایک ماہ سے زائد دنیا کو ورلڈکپ2022ءکا بخار18دسمبر کو ارجنٹائن کے36سال بعد چیمپئن بننے کے بعد اُتر چکا ہے دنیا کے مہنگے تربن فیفا ورلڈکپ میں اقوام دنیا کی غیر معمولی دلچسپی لاکھوں مرد و خواتین کی قطر کے منفرد سٹیڈیمز میں آمد اور کروڑوں فیملیوں کے ٹی وی سکرین کے ذریعے لطف اندوز ہونے کے ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں۔ قطر میں64 میچز کے لئے چھ سے دس ارب روپے کی لاگت سے جدید ترین سٹیڈیمز کی تعمیر220ارب ڈالر کے اخراجات سے پایہ تکمیل تک پہنچنے والے فیفا قطر ورلڈکپ کی فاتح ارجنٹائن42ملین ڈالر لے کر اپنے ملک جا چکی ہے۔ قطر کے خلاف مغربی لابی کی طرف سے پھیلائی گئی گمراہ کن افواہوں اور تنقید کے باوجود اپنے ویژن2030ءکے مقاصد کے حصول میں کامیابی سے ورلڈکپ کروانے کا اعزاز کر چکا ہے۔
مغربی میڈیا کی طرف سے فیفا ورلڈکپ2023ءکو متنازعہ بنانے کی تمام کوشش اور حربے دم توڑ چکے ہیں، قطر اپنی ثقافت کا لوہا منوانے میں نہ صرف کامیاب رہا ہے بلکہ اس سے سٹیڈیمز کے اندر شراب لانے، فروخت کرنے،شائقین کومختصر لباس میں آنے پر پابندی لگا کر اُمت مسلمہ کا سرفخر سے بلند کر دیا ہے۔15ہزار سے زائد جدید خفیہ کیمروں کے ذریعے سکیورٹی اور گندگی کو کنٹرول کرنے کے طریقے سے ثابت کر دیا ہے قطر عالم اسلام کا منفرد ملک ہے جو اپنی ثقافت کے ساتھ اسلامی روایات پر کمپرومائز نہیں کرتا۔ پاک فوج کی حفاظت اور پاکستان کے فٹ بال کے ساتھ تاریخ کے مہنگے ترین ورلڈکپ نے دنیا کو بالعموم اور پاکستانی نوجوانوں کو بالخصوص متاثر کیا ہے۔پاکستانی قوم سوال کرنے میں حق بجانب ہے پاکستان میں فٹ بال کب ترجیح بنے گا۔دلچسپ امر یہ ہے پاکستان کا قومی کھیل ہاکی زبوح حالی کا شکار ہے۔


ہاکی فیڈریشن کے سیکرٹری کے انٹرویو سے اندازہ ہوا ان کے پاس اپنے سٹاف کو دینے کے لئے تنخواہیں نہیں ہیں۔2022ءکے مقابلوں میں حصہ لینے والی ٹیم نے بھی مایوس کیا ہے۔موجودہ حالات میں ایسا لگ رہا ہے پاکستان کا قومی کھیل بھی کرکٹ ہے اور سارے اخراجات اور منافع کا منبہٰ بھی کرکٹ ہے،ہاکی کا رونا رویا جائے یا فٹ بال کی کسمپرسی کا تذکرہ کیا جائے۔ پاکستان فٹ بال فیڈریشن کی سیاست اور چند نامور شخصیات کی فٹ بال سے محبت کا مجھے اندازہ ہے۔ قارئین کی دلچسپی کے لئے عرض کروں گا فٹ بال آج بھی وطنِ عزیز میں دیہات کا مقبول ترین کھیل ہے پنجاب میں ہی نہیں سندھ اور بلوچستان کے ریگستان اور خیبرپختونخوا کے ٹھنڈے علاقوں میں بھی بچے ، نوجوان فٹ بال کو دلچسپی سے کھیلتے ہیں اور بڑے بڑے گراﺅنڈ دیکھ کر دُکھ کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔گزشتہ دو دہائی سے فٹ بال فیڈریشن سابق گورنر میاں اظہر،سابق وزیر مخدوم فیصل صالح حیات کے گرد گھوم رہی ہے موجودہ صدر بھی پاکستان فیڈریشن فیصل صالح حیات ہی ہیں۔پاکستانی عوام کی فٹ بال سے محبت صرف اس لئے نہیں ہے پاکستان کا فٹ بال ورلڈکپ میں استعمال ہوتا ہے۔ سیالکوٹ کو اربوں ڈالر کا زرمبادلہ ملتاہے یقین جانیے فٹبال واقعی پاکستانیوں کی پسند کا کھیل ہے، میں نے اپنی زندگی میں حافظ سلمان بٹ سے زیادہ فٹ بال سے محبت کرنے والا اور فٹ بال کے لئے اپنی جان و مال کی پروا نہ کرنے والا نہیں دیکھا۔ مجھے 15سال تک حافظ سلمان بٹ کے قریب رہ کر اُن کی درویشانہ زندگی کو دیکھنے کا موقع ملا اُن کی زندگی کا90فیصد حصہ فٹبال کے گرد گھومتا رہا ہے،زندگی کا خوبصورت حصہ بھی حافظ سلمان بٹ نے یونیورسٹی فٹ بال گراﺅنڈ میں گزار اور زندگی کی آخری سانس تک پاکستان میں فٹ بال کیسے بہتر ہو سکتا ہے۔ وہیب فٹ بال کلب کیسے پاکستان کی نمبر ون فٹ بال ٹیم بن سکتی ہے منصوبہ بندی کرتے کرتے شوگر جیسے موذی مرض کا شکار ہوتے چلے گئے۔


بہت کم لوگوں کو اندازہ ہو گا حافظ سلمان بٹ پاکستان فٹ بال فیڈریشن کے سیکرٹری رہے ان کے دور میں پاکستان فٹ بال ٹیم کو نیا جوش جذبہ ملا، کلب ٹیم کا ٹرینڈ ڈویلپ ہوا آج اگر پاکستان کے طول عرض میں جائزہ لیں تو واپڈا سمیت فٹ بال ٹیم رکھنے والی کلبس، کالجز اور یونیورسٹی کی ٹیموں کے کوچہ میں بڑے نام حافظ سلمان بٹ کے شاگردوں کی موجود ہے مجھے حافظ سلمان بٹ کی فٹ بال سے عقیدت کے نظارے قریب سے دیکھنے کا اس وقت بھی موقع ملا جب سیکرٹری فٹ بال فیڈریشن تھے اور مجھے میڈیا کی ذمہ داری دی۔ حافظ سلمان بٹ سیکرٹری فٹ بال فیڈریشن بنے شباب ملی کے سیکرٹری جنرل بنے نیشنل لیبر فیڈریشن کے صدر بنے اور سالہا سال پریم یونین(سی بی اے) کے صدر رہے ان کے ساتھ سیکرٹری اطلاعات رہنے کا اعزاز حاصل رہا۔
دعویٰ نہیں کرتا عملاً فٹ بال کے لئے جو حکم دیا گیا فٹ بال کی پرموشن کے لئے کردار ادا کیا۔ حافظ سلمان بٹ سے یہ سوال بہت کیا جاتا رہا ہے جو18دسمبرکو ختم ہونے والے ورلڈکپ کے بعد پاکستانی عوام اور نوجوان حکومت اور فٹ بال فیڈریشن سے کرتے نظر آئے ہیں۔پاکستان میں فٹ بال کب ترجیح ہو گا اس کے لئے حافظ سلمان بٹ فٹ بال سے محبت کرنے والوں کو آگے لانا ہو گا، وسائل فراہم کرنا ہوںگے، سکولوں،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں فٹ بال ٹیموں کی حوصلہ افزائی کرنا ہو گی۔ انٹر سکولز، انٹر کالجز،انٹر یونیورسٹی مقابلے کروانا ہوں گے۔ قصبات اور گاﺅں کی سطح پر موجود کلبوں کو نیٹ میں لانا ہو گا اور تحصیل و ضلع کی سطح پر مقابلوں کا انعقاد کرنا ہو گا۔اس کے لئے فیڈریشن کردار ادا کر سکتی ہے اس کے لئے سپانسر ڈھونڈ سکتی ہے میرا یقین ہے وطن عزیز کے لئے تاجر بھی فٹ بال کی ترویج اور پرموشن کے لئے دست بازو بننے سے گریز نہیں کریں گے۔


موجودہ فٹ بال فیڈریشن کی سیاست کو پس ِ پشت ڈالتے ہوئے ان کے آگے ہاتھ جوڑنا ہوں گے، فٹ بال کے مستقبل کو محفوظ کرنے کے لئے آپ قربانی دیں اور سیاست ختم کریں۔امید کرتا ہوں آج پاکستان کے شہر سیالکوٹ کا بنا ہوا فٹبال عالم ِ اقوام میں مشہور ہے۔دنیا بھر کے فٹ بالر پاکستانی فٹ بال کو کک مار کر خوش ہوتے ہیں اپنے ٹورنامنٹ اور ورلڈکپ میں پاکستانی فٹ بال کے ساتھ کھیل کر خوش ہوتے ہیں۔ایک دن آئے گا جب پاکستان کی فٹ بال ٹیم بھی دنیا کی نمبر ون ٹیم بنے گی اور پاکستان کے گلی محلوں میں فٹ بال کی گونج ہو گی آئیں مل کر جو کردار ادا کر سکتے ہیں کریں مل کر میڈیا سے درخواست کریں آپ بھی کرکٹ کی طرح آپ بھی کرکٹ کی طرح فٹ بال اور ہاکی کو ترجیح بنائیں تاکہ کرکٹ کی طرح پاکستانی فٹ بالر اور ہاکی کے کھلاڑی پاکستان کا نام روشن کر سکیں۔

مزید :

رائے -کالم -