پنجاب حکومت کے مزدور دوست اقدامات

پنجاب حکومت کے مزدور دوست اقدامات

  

جب وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے صوبے میں حکومت کی باگ ڈور سنبھالی تو انہوںنے جہاں دیگر اقدامات کا اعلان کیا وہاں اس عزم کا بھی اظہار کیا تھا کہ وہ اس صوبے میں صنعتی انقلاب لائیں گے- وہ سمجھتے ہیں کہ صنعتی انقلاب اسی صورت میں آسکتا ہے، جب حکومتی مداخلت کم سے کم ہوتا کہ صنعتکار سکون سے اپنی صنعت کو چلا سکیں- اس سلسلے میں سب سے پہلا قدم یہ اٹھایا گیا تھا کہ کارخانوں میں حکومتی اہلکاروں کی بے جا مداخلت یکسر ختم کر دی گئی- مزدور کی ترقی کا یہ قافلہ ابھی رکا نہیں تھما نہیں- پنجاب حکومت کی متحرک اور عوام دوست قیادت صنعتی کارکنوں کو غربت اورپستی کی دلدل سے نکال کر خوشحالی کی منزل سے ہمکنار کرنے کے لئے کئی اقدمات، پالیسیوں اور فیصلوں کو متعارف کرا رہی ہے- حکومت کا ہدف عالمی معیار کو مد نظررکھتے ہوئے پاکستانی مزدور کو عظمت کے اس مقام پر بحال کرنا ہے جس کی ضمانت اس کو نہ صرف کوئی بھی ذمہ دار حکومت دے سکتی ہے -وزیر اعلیٰ محمد شہباز شریف نے قیادت سنھالتے ہی صنعتی پالیسی کے تحت مزدور کو عزت نفس دینے اور اس کی مالی حالت بہتر بنانے کی پالیسی کو مرکزی اہمیت دیتے ہوئے انقلابی اقدامات کا اعلان کیا کیونکہ ان کی دور اندیش نگاہوں نے محسوس کر لیا تھا کہ مزدور کو ترقی دیئے بغیر معیشت کا پہیہ دوبارہ محترک کرنا اور صنعتی اداروں کی چمنیوں سے دھوا ںنکلنا ممکن نہیں-نئے اقدمات کے تحت انہوںنے فوری طور پر صوبے میں خطیر فنڈز سے مزدوروں کے لئے رہائش، طبی سہولیات ، مالی امداد اور تعلیم کے شعبے میں میگا پراجیکٹس کا آغاز کر دیا ، بالخصوص مزدوروں کے لئے رہائشی سہولتوں کے شعبے میں حیرت انگیز ترقی دیکھنے میں آئی- حکومت اب تک صوبہ پنجاب کے صنعتی شہروں میںمکان ، لیبرکالونیاں تعمیر کر چکی ہے -

موجودہ مز دور دوست صوبائی حکومت نے محنت کشوںکے لئے 1296رہائشی فلیٹس ڈیفنس روڈ لاہور اور 303رہائشی مکانات مظفر گڑھ میں تعمیر کر کے فراہم کئے ہیں جبکہ موجودہ مالی سال کے دوران سیالکوٹ، گوجرانوالہ او ر ملتان میں محنت کشوں کے لئے 2ہزار سے زائد رہائشی یونٹس تعمیر کئے جائیں گے۔وزیر اعلیٰ نے صنعتی مزدوروں کے لئے طبی سہولیات کی فراہمی کے سلسلے میں بھی انقلابی پالیسی ترتیب دی کیونکہ صحت مند محنت کش ہی ملک و قوم کی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے- نئے ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں کی تعمیر اور موجودہ سہولیات کی توسیع پر اربوں روپے خرچ ہوئے ہیں- جدید طبی آلات اور مشینری پر اس عرصے میں خطیر رقم خرچ کی جا رہی ہے - اس طرح جدید آلات سے لیس 20 نئی ایمبولینسز ورکرز ویلفیئر بورڈ کی وساطت سے خریدی گئیں - مزدوروں کو طبی سہولتیں فراہم کرنے کے لئے ادارہ سوشل سکیورٹی نے گذشتہ سال 60 لاکھ سے زائد مزدوروں کو ساڑھے تین ارب روپے سے معیاری طبی سہولتیں فراہم کی گئیں - سوشل سکیورٹی ہسپتال ملتان روڈ لاہور میں مزید سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں جن میں اوپن ہارٹ سرجری اور مزید آپریشن تھیٹر قائم کرنا شامل ہیں - صوبائی حکومت تحفظ یافتہ صنعتی کارکنان اور ان کے خاندان کو اندرون وبیرون ملک علاج معالجے کی سہولیات فراہم کررہی ہے محنت کشوں کو علاج معالجہ کی بہتر سہولتوں کی فراہمی پر 4 ارب31کروڑ روپے خرچ کئے جارہے ہیں اور اورملینیم ڈویلپمنٹ گولز کے حصول کے لئے ساڑھے5 ارب روپے مختص ہیں۔ سوشل سیکورٹی محنت کشوںاور ان کے اہل خانہ کو بیرون ملک علاج معالجہ کی سہولتیں بھی فراہم کر رہا ہے اور حال ہی میں میسرز ایجوکیشن سروسز کے کارکن قیصر سعید کی والدہ کی انڈیا سے جگر پیوند کاری کے لئے 38 لاکھ روپے فراہم کئے گئے تھے اور اب فا لوچیک اپ کے لئے ایک لاکھ 85 ہزار روپے دئیے گئے ہیں۔ سوشل سکیورٹی ہسپتالوں میں طبی عملہ کی مزید تربیت کے لئے بھی اقدامات کئے جارہے ہیں اور ڈاکٹروں وپیرا میڈکس کی ہسپتالوں میں ہمہ وقت موجود گی کو یقینی بنایا گیا ہے۔انہوںنے کہا کہ شیخو پورہ میں مزدوروں کے لئے ایک نیا سوشل سکیورٹی ہسپتال قائم کیا جارہا ہے ۔ سوشل سکیورٹی ہسپتالوں میں ہسپتال مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کا نفاذ کیا جارہا ہے، اس سے صنعتی کارکنان اور ان کے اہل خانہ کے علاج معالجے کے متعلق تمام کوائف کمپیوٹرائزڈ کر دئیے جائیں گے۔محکمہ لاہور اور فیصل آباد میں میڈیکل کالج بھی قائم کرے گا جن میں 50 فیصد نشستیں محنت کشوں کے بچو ںکے لئے مختص ہوںگی اور ان کے اخراجات بھی محکمہ محنت ہی برداشت کرے گا- مزدوروںاور ان کے خاندانوں کو تمام ادویات، چاہے وہ جتنی بھی قیمتی ہوں، فورا مفت فراہم کی جاتی ہیں - اس کے علاوہ جس مزدور کا علاج پاکستان میں ممکن نہ ہواسے علاج کے لئے ملک سے باہر بھی بھجوا یا جاتا ہے - 

حکومت نے مزدور اور اس کے خاندان کے لئے ایک ماں کے دل و دماغ سے سوچتے ہوئے فیصلے کئے ہیں، یعنی مزدور کے چہرے پر خوشحالی کی رنگ دیکھنا حکومت ک ترجیحات میں شامل ہے - پنجاب حکومت سمجھتی ہے کہ مزدور کے بچے کو بہتر تعلیم دی جائے تو وہ بھی بڑا آدمی بن سکتا ہے- اس حوالے سے حکومت ایک مزدور باپ کے ذہن سے سوچتی ہے اسی لئے حکومت نے اس کی مکمل مفت تعلیم کا نظام اپنایا ہے - کتابوں ، کاپیوں سے لے کر اس کے یونیفارم اور جوتے تک مفت دیئے جاتے ہیں - اس کی ٹرانسپورٹ کا بندوبست بھی حکومت نے اپنے ذمے لیا ہے - وہ بچے جو کسی بھی ادارے میں ایم بی بی ایس ، ایم اے یا انجینئرنگ میں داخلہ لے لیتے ہیں تو ان کے تمام اخراجات محکمہ برداشت کرتا ہے جس میں ان کے ہاسٹل کے اخراجات بھی شامل ہیں- محکمہ محنت و انسانی وسائل پنجاب نے محنت کشوں کے بچوں کو تعلیمی سہولتوں کی زیادہ سے زیادہ فراہمی کے لئے قابل قدر خدمات سرانجام دی ہیں - محکمہ 46 ورکرز ویلفیئر سکولوں میں 28 ہزار بچوں کو مفت تعلیمی سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ انہیں کتابیں، سٹیشنری ، ٹرانسپورٹ اور یونیفارم بھی مفت مہیا کی جا رہی ہے- پنجاب کے 6 اضلاع میں جہاں ورکرز ویلفیئر سکول نہیں ہیں وہاں کے مزدوروں کے بچوں کے تمام تعلیمی اخراجات محکمہ برداشت کرتا ہے- اکثرسکولوں میں کمپیوٹر کی تعلیم بھی مفت دی جار ہی ہے اور مستقبل قریب میں تمام سکولوں میں کمپیوٹر کی مفت تعلیم کا بندوبست کر دیا جائے گا- مزید برآں ورکرز ویلفیئر سکولز میں داخل فوت شدہ صنعتی کارکنوں کے بچوں کو دیگر سہولیات کے علاوہ وظیفہ بھی دیا جاتاہے-اس کے علاوہ محنت کشوں کے بیٹے لمز، غلام اسحاق خان انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اور نسٹ کراچی میں زیر تعلیم ہیں- بزنس ایڈمنسٹریشن ، کمپیوٹر ایجوکیشن اور فنی تعلیم کے لئے کامسٹ انسٹی ٹیوٹ(رائیونڈ/ڈیفنس روڈ) میں صنعتی کارکنان کے بچوں کے لئے 30 فیصد سیٹیں مختص ہیںاور یہ بچے ورکزویلفیئر فنڈ کے خرچہ پر مفت تعلیم حاصل کر رہے ہیں-100 ملین روپے سے لیبر و ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ کے لئے مختص کئے گئے اور چار اضلاع اٹک، جھنگ، مظفر گڑھ اور پاکپتن میں چائلڈ لیبر کے خاتمہ کے لئے خصوصی اقدامات کئے جا رہے ہیں - اس کے ساتھ ساتھ لاہور اور قصور کے بھٹہ مزدور بچوں کے بھٹوں پر ہی نان فارمل سکول قائم کر دیئے گئے ہیں جہاں ساڑھے پانچ ہزار بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں - آئندہ یہ سکیم دوسروں اضلاع میں بھی شروع کی جائے گی- بھٹہ مزدوروں کے مائیکروں کریڈٹ کی صورت میں آسان شرائط پر تقریبا 7 کروڑ روپے قرضہ جات فراہم کئے گئے ہیں اس کے ساتھ ساتھ 3500 بھٹہ مزدوروں کو قومی شناختی کارڈ جاری کئے گئے تا کہ انہیں ملکی ترقی کے قومی دھارے میں شامل کیا جا سکے-

مزید :

کالم -