”کاغذی ہے پیرہن“

”کاغذی ہے پیرہن“
”کاغذی ہے پیرہن“

  

دنیا جتنے ”ازم“ بھی جانتی ہے، جیسا کہ کمیونزم، سوشلزم یا کیپیٹل ازم، کوئی بھی ”ملک ازم“ سے بڑھ کر قابل ِ غور اور جاندار نہیںہے، کیونکہ اس کا فسوںہزاروں لاکھوں پاکستانیوں کے ذہنوں کو اپنی گرفت میں لے چکا ہے، چنانچہ اسے اب تک جانے گئے تمام ”ازموں “ میں سے عظیم تر ین قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس کی طاقت، اختیار اور شوکت اس قدر مہیب ہے کہ یہ پاکستان جیسے بڑے ملک کو بیک جنش ِ قلم، یا کبھی ابروئے خمدار کے ادنیٰ سے اشارے، سے ساکت و جامد کر سکتا ہے۔ چونکہ یہ ازم اب تک اختراع کئے گئے تمام ازموںمیں سے نسبتاً نیا اور تازہ ہے، اس لئے اس کی نمو کو دیکھتے ہوئے یہ بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ کوئی وجہ نہیں کہ یہ آنے والے دنوں میں پوری دنیا پر چھاتے ہوئے امیر و غریب، سب کی زندگیوں بلکہ چال اور اگر ہو سکے تو چلن بھی کا تعین کرے گا۔ اس ہنگامہ خیز ازم کا غیر متنازعہ بانی، نہایت دھیمے لہجے میں بات کرنے والا انسان، سادگی کا ایسا عملی پیکر ہے جس کو تصنع و بناوٹ چھو کر بھی نہیں گزرے۔ شنید ہے کہ جناب کی پسندیدہ خوراک شلجم ہیں، کیونکہ وہ ان میں یقینی یکسانیت پاتے ہیں، تاہم جب عام افراد یہ بھی تفہیم نہیں کر پاتے کہ شہر کی سڑکوں پر بنے پیچیدہ لائنوں کے جال میں الجھی ٹریفک اور اس میں دھنسے انسان کہاں جاتے ہیں؟ تو ہم ادق قسم کے داخلی معاملات کو کہاں تک سمجھ سکتے ہیں، پھر ہماری دنیا میں اس قدر سکوت ہے کہ لاہور میں دیوہیکل کرینوں، ٹرکوں ، رولروںاور بلڈوزروں کی گرگڑاہٹ کے سوا کچھ سنائی نہیں دیتا ۔ شور کی کرب ناک گھونج نے عجیب خامشی کا روپ دھار لیا ہے۔ اگر آپ ابھی تک حیران ہوں کہ آخر وہ ملک صاحب کون ہیں جو اس فروغ پاتے ہوئے ”ازم“ کے پیچھے ہیں تو تعارف کے لئے اتنا اشارہ کافی رہے گا کہ وہ ”اندرونی معاملات “ کے نگران ہیں کہ وزارت ِ داخلہ کا یہی کام ہے۔ ان کا چمک دار سوٹ تو شاید بیرونی خلاﺅں سے بھی نظر آجاتا ہو گا، لیکن زرق برق اس قدر ہے کہ مدار میں گردش کرنے والے مصنوعی سیاروں کی بھی آنکھیں چندھیا جاتی ہوں گی ۔ آج کل ملک صاحب کا قیام دہشت گردی کے مارے ایک ملک پاکستان میں ہے ۔ ایک افسانوی کردار سکارلٹ پمپرنل کی طرح وہ تقریباً ہر اُس جگہ موجود ہوتے ہیں، جہاں کوئی بم دھماکہ یا دہشت گردی کی کوئی کارروائی ہوئی ہو اور بعض صورتوں میںتو وہ وہاں بھی پہنچ جاتے ہیں، جہاں سے برق رفتار ڈرونز میزائل برسا کر ابھی ابھی سامان ِ ر خصت باندھ رہے ہوں۔ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ شلجم کثرت سے استعمال کرنے سے اُن کے اندر ایسی قوت پیدا ہو گئی ہے، جس سے وہ وقت میں سفر کرسکتے ہیں، وگرنہ اس کے سوا فزکس کا کوئی اصول اس بات کی وضاحت نہیں کرپاتا کہ ابھی تربت میں ہیں اور اگلے ہی لمحے وہ لندن میں ” بھائی جان “ کو منا تے ہوئے وسیع مقدار میں انتہائی مصالے دار نہاری تناول فرما رہے ہوتے ہیں، کیونکہ لندن میں سکونت پذیر مہربان عالمی سطح پر اپنی فن ِ طباخی میں مہارت کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ ان کے سامنے گورڈن رمسے ، برطانیہ کے ایوارڈ یافتہ باورچی، بھی طفل ِ مکتب ہیں۔ملک صاحب بنیادی طور پر ایک گن مین ہیں، کیونکہ وہ وزیر ِ داخلہ کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ ان کے حوالے سے بہت سے معمے جو ہنوز حل طلب ہیں،اُن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ کس کے داخلی امور کی نگرانی کر رہے ہیں؟ جب بھی ملک میں اسلحے کو کنٹرول کرنے کا معاملہ درپیش ہوتا ہے تو وہ کوئی اور باتیں کرنے لگتے ہیں۔ اندازہ ہے کہ اس وقت ملک میں مکھیوںسے زیادہ جدید ہتھیار اور گوبی صحراکی ریت سے زیادہ بارود موجود ہے، لیکن ملک صاحب کی نگرانی میں بازیاب کرائے جانے والے اسلحے میں پہلی جنگ عظیم سے کچھ سال پہلے بنائی جانے والی بوسیدہ اور زنگ آلود بندوقیں ہی شامل ہوتی ہیں۔ پہلے بھی عرض کیا جا چکا ہے کہ ملک صاحب کے سامنے وقت کے فاصلے کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ اب باقی ماندہ مکھیوں کی تعداد کے برابر جدید خود کار ہتھیار کس کے پاس ہیں، اوپر والا ہی جانتا ہے، ملک صاحب اس فکر میں خود کو ہلکان کیوں کریں۔ شلجم میں کافی غذائیت ہوتی ہے، چلیں جانے دیں۔ جہاں تک ان کے محکمے کی مستعدی کا تعلق ہے تو راستوں کی ناکہ بندی کرنے میں مشرق و مغر ب میں ان کاکوئی ثانی نہیںہے۔ ان کی اس جامد کرنے دینے والی مستعدی نے اگر عوام کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے تو اس میں صریحاً عوام کا ہی قصور ہے کہ وہ سڑک استعمال کرنے سے آخر باز کیوں نہیں آتے ؟جانتے نہیں کہ ہم ہنگامی حالات سے دوچار ہیں لوہے کے جنگلے، سمینٹ کے بلاک، ریت کے تھیلے، مشین گن سنبھالے جوان، خاردار تاریں دیکھ کر بھی عوام کی سمجھ میں نہیں آتا کہ اگر اُن کی حفاظت کی جارہی ہے تو وہ بھی تو کچھ نہ کچھ کریں یعنی ”اندر “ رہیں۔خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ کیا لوگوں کی حس ِ مزاح بہت تیز ہے کہ وہ ان اقدامات کو مذاق سمجھتے ہیں ؟ وہ نہیں دیکھ سکتے کہ جب قدم قدم پر ہزاروں رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ خطرہ قریب ہی منڈلا رہا ہے ؟ اس کا مطلب ہے کہ ”ملک ازم “ کا اصول ہے کہ ٹریفک جتنی سست رو ی سے چلے گی اور دہشت گردی کا خطرہ اُتنا ہی کم ہو گا۔ ہو سکتا ہے کہ یہ بات درست ہو،لیکن اگر کوئی فیملی گاڑی میں کسی بھی شہر میں، فرض کریں اسلام آباد میں، چائے پینے یا آئس کریم کھانے نکلتی ہے اور اُن کو ہر قدم پر خود کار اسلحہ بردار جوان ناکوں پر روک لیتے ہیں، جبکہ بارود سے بھرا ہوا ٹرک بغیر رکاوٹ کے گزر کر کسی اہم عمارت کو تباہ کر دیتا ہے تو کیا یہ سوال پیدا نہیں ہوتا کہ اس شلجمی سیکورٹی کا کیا مقصد تھا ؟بہت اچھا ہوتا اگر وزارت ِ داخلہ ہم بے وقوفوں، جو اب بھی ٹیکس ادا کرنے پر یقین رکھتے ہیں، کو کچھ اعداد و شمار ہی بتا دے، کیونکہ ہمارے ٹیکس کی رقوم سے ہی ان جوانوںکے ہاتھوں میں بندوقیں ہیں ۔ زیادہ نہیں، صرف ایک سوال کا جواب دے دیں ملک میں کتنے ناکے ہیں ، وہاں پر کتنی اورکس قسم کی گاڑیوں کو چیک کیا جاتا ہے اوراب تک ہمارے جوانوںنے کتنے دہشت گردوں کو گرفتار کیا ہے یا ناجائز اسلحہ برآمد کیا گیا ہے؟(پلیز، وہ پہلی جنگ ِ عظیم کی بندوقیں نہیں چلیںگی)۔ اگر اس سوال کا کوئی جواب نہیںہے تو پھر ان بے مقصد ناکوں پر جوانوں کو کیوں کھڑا کیا جاتا ہے؟اس خاک چھاننے پر پاکستان کا کتنا روپیہ خرچ ہوتا ہے اور یہ روپیہ آتا کہاں سے ہے ؟جہاں تک دفاعی اداروں کی حفاظت (اپنی) کا تعلق ہے تو اُنہوںنے چھاﺅنی کے علاقے کو قلعے میں تبدیل کر دیا ہے۔ تقریباً تمام سڑکیں انتہائی سخت سیکیورٹی کی زدمیں رہتی ہیں مجال ہے کہ کوئی مکھی بھی گزر جائے.... لیکن یہاںبھی وہی حفاظت ہے، یعنی اگر آپ کچھ کرنا چاہتے ہیں تو کوئی رکاوٹ نہیںہے، چلے جائیں اور جو چاہے کر گزریں....ویسے کیا آپ جانتے ہیں کہ یہاں کتنے افراد کی حفاظت پر کتنے جوان معمور ہوتے ہیں؟ نہیں جانتے؟چنانچہ چھوڑیں اس بحث کو!آج کل ”ملک ازم“ کا نیا کھلونا موبائل فون ہے جو ماہر ہاتھوں میں ایک خوفناک ہتھیار بن چکا ہے۔ گزشتہ سے پیوستہ معلومات کی بنا پر عیدمیلاد النبی ﷺ پر بھی فون سروس بند کر دی گئی۔ اس کے لئے کسی انٹیلی جنس رپورٹ یا کسی دھمکی یا کسی ثبوت کی ضرورت نہیں تھی، بس ایک حکم دیا اور موبائل فون ساکت و جامد۔ عوام کو کچھ بھی بتانے کی زحمت نہیں کی جاتی کہ کیا افتاد آن پڑی تھی۔ ہمارے ہاں موبائل فون کا بند کرنا افسانوی رنگ اختیار کر چکا ہے۔ جب محرم الحرام آتا ہے۔ شیعہ حضرات پر متواتر حملے ہوتے رہتے ہیں، لیکن فون بند۔ اگر ملک صاحب طلسم ہوشربا تخلیق کریں تو اُس میں بھی فتنہ پرور جنات کا علاج موبائل کی بندش سے ہی تجویز فرمائیں یا اسی کے رگڑنے سے امدادی جنات حاضر ہوں۔اگر اس آن آف کھیل سے کوئی فارمولہ وضع کیا جا سکے تو یہی بنتا ہے کہ تمام دہشت گرد موبائل فون پر ہی اپنی گھناﺅنی کارروائیوں کی تمام منصوبہ بندی کرتے ہیں، چنانچہ اگر آپ ان کو بند کردیں تو (فارسی محاورے کے مطابق) بلی پہلے دن ہی ماری جائے گی۔ اگر ایس بی جان اس کو گانا پسند فرمائیں تو” تو (فون) جو نہیں ہے تو کچھ(دہشت گردی) بھی نہیںہے“کی قبیل کا نغمہ وجود میں آئے۔ اسی طرح ڈبل سواری پر پابندی کا مطلب ہے کہ ہمیشہ دو افراد دہشت گردی کی کارروائی کرتے ہیں ایک نہیں کر سکتا۔ موٹر سائیکل ( جس پر پانچ اہل خانہ نے جانا ہوتا ہے) پر ڈبل سواری سے عوام جس کرب سے گزرتے ہیں، اُسے جانے دیں۔ ہمیں تو حفاظت درکار ہے۔ دفعہ 144 کا نفاذ بھی ایک اور احمقانہ اقدام ہے، جس کا حکم اور فیض جاری و ساری رہتا ہے، مگر کوئی عملی فائدہ دیکھنے میں نہیں آتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک صاحب نہایت خوش اسلوبی سے کچھ تھیلے لے کر دنیا کے مختلف ممالک میں جاتے دیکھے گئے ہیں، لیکن اب ان کے کندھوں پر جو ذمہ داری ہے، وہ ایسی خودساختہ اختراعات سے ادا نہیں ہو گی۔ وہ اس ملک کے وزیر ِ داخلہ ہیں، جو ہر قسم کے اسلحے سے لبریز ہے اور ان کی کاوشوں نے اب تک ان پانچ سال میں اس میں ایک ذرہ بھر کمی نہیں کی ہے۔ یقینا ملک صاحب کو اپنے باس کے احکامات کی بجا آوری کرنا ہوتی ہے ۔ لوگوں کا کیا ہے، وہ سخت جان ہیں اور جیسے تیسے اس ملک میں زندہ ہیں۔ کیا دیوالیہ پن کی اور کوئی لکیر بھی ہے جو ہم نے ابھی پار کرنی ہے؟نوٹ ! اس کالم کے جملہ حقوق بحق رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ پاکستان محفوظ ہیں۔ اس کی کسی بھی صورت میںری پروڈکشن کی اجازت نہیں ہے۔ ٭

مزید :

کالم -